مشرقی پنجاب کے سکھوں کی خود اعتمادی (12)
- تحریر خالد محمود اوسلو
- ہفتہ 06 / جولائی / 2024
لدھیانہ پنجاب کا سب سے بڑا شہر اور صنعتی و اقتصادی مرکز ہے۔بھارت کی پچاس فیصد سائیکلیں یہاں تیار کی جاتی ہیں۔ ایشیا کی سب سے بڑی زرعی یونیورسٹی بھی یہاں پر ہے جو دنیا کی چند بڑی یونیورسٹیوں میں سے ہے۔
لدھیانہ شہر میں 29 فیصد سکھ، 65 فیصد ہندو اور 3فیصد آبادی مسلمانوں پہ مشتمل ہے۔ تقسیم پاک و ہند سے پہلے لدھیانہ میں 63 فیصد مسلمان آباد تھے۔ اس ہنستے بستے شہر کو دیکھ کر شائبہ تک نہیں گزرتا کہ 77 سال پہلے اتنی بڑی جبری نقل مکانی ہوئی جب لاکھوں لوگ اپنےآبائی گھروں کو چھوڑنے پہ مجبورہوئے۔
مشرقی پنجاب کے شہروں میں بہت بڑی تعداد میں آباد افراد کا تعلق مغربی پنجاب سے ہے جو تقسیم پاک و ہند کے وقت نقل مکانی کر کے یہاں قیام پذیر ہوئے۔ بالکل جیسے پاکستان کے اندر ہندوستان سے ہجرت کر کے آنے والے پاکستان کے شہروں میں آباد ہیں۔ قدیم زمانہ سے لے کر آج کے جدید دور تک نقل مکانی کرنے والےشہروں میں ہی پناہ لیتے آئے ہیں۔ دنیا بھر میں شہروں کو ہی یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ نئے آنے والوں کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں ۔ لدھیانہ میں درجنوں ایسے افرادملے جو پاکستان سے نقل مکانی کر کے یہاں آئے۔ ان میں سے زیادہ عمر رسیدہ ہو چکے تھے اور کئی ان کی اولادیں ہیں۔
ایک بات بڑی متاثر کن تھی کہ ان کے دل میں سرحد کے اُس پار اپنے چھوڑے ہوئے گھروں کے لیے ابھی بھی بہت محبت ہے۔ ایک انتہائی عمررسیدہ سکھ بزرگ جن کا آبائی شہر صادق آباد تھا، اپنے وہاں کے ایام کا ذکر کرتے ہوئے روہانسے سے ہو گئے۔ ان صاحب کو یہ دکھ تھا کہ اُن کے مرحوم والدین سرحد کے اُس پار اپنے آبائی گھر کو مرنے سے پہلے ایک بار دیکھنے کی خواہش کو سینے میں بسائے جل کر راکھ ہوئے۔ انہی صاحب نے بتایاکہ پنجاب میں صنعتی ترقی میں بہت بڑا حصہ مغربی پنجاب سے نقل مکانی کر کے آنے والے افراد کا ہے۔ جب میں نے اس کے جواب میں یہ کہا کہ یہ نقل مکانی تو پھر سود مند رہی تو ان صاحب نے فرمایا کہ آپ کے لیے بھی تو یہاں سے جانے والا پٹیالہ خاندان سودمند ہی تھا۔ جس نے پنجاب کی سب سے بڑی صنعت قائم کی تھی۔ لیکن آپ کے بھٹو صاحب نے قومی تحویل میں لے کر اُسے کباڑ میں بدل دیا جس کے بعد پاکستان میں صنعت دوبارہ پروان نہ چڑھ سکی۔
لدھیانہ میں قیام کے دوران مختلف سماجی و نجی تقریبات میں شرکت سے بڑی تعداد میں مقامی افراد سے بھارت کے معروضی حالات پر جامع تبادلہ خیال کا موقع میسر ہوا۔ پنجاب میں ایک خاص بات دیکھی کہ یوپی اور راجستھان کے بر عکس یہاں لوگ بڑی بے باکی سے تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ وہاں لوگ گفتگو کرتے بہت محتاط اور الفاظ کو ناپ تول کر بولتے تھے جبکہ پنجاب والے برجستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھل کر اظہار خیال کرتے ہیں۔ اکثریت معیشت سے عدم اطمینانی کے ساتھ سکھ قوم پرستی کی وکالت سے بھی گریزاں نہیں۔
سکھ عوام کرتار پور کوریڈور کے کھلنے سے پاکستان کے بہت ممنون ہیں۔ پنجاب ظاہری طور پر بقیہ بھارت سے بہتر اورخوشحال نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ شاید بڑی تعداد میں اُوورسیز سکھ کمیونٹی ہو سکتی ہے۔ جگہ جگہ بڑے بڑے بورڈوں پر بیرون ملک ملازمت اور امیگریشن کے اشتہارات آویزاں پائے۔ جس سے نوجوانوں میں بیرون ملک جانے کے رُحجان کی تصدیق ہوتی ہے۔ ایک اور بات کہ سکھ عوام کی ایک بڑی تعداد جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کو اپنا ہیرو مانتی ہے۔ جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ 1984 میں بھارتی فوج کے گولڈن ٹمپل میں کیے جانے والے بلیو سٹار آپریشن میں مارے گئے تھے جس کے دوران اکال تخت کو بھی نقصان پہنچا تھا۔
خود اعتمادی بے شک سکھ فطرت میں رچی بسی ہے لیکن خود اعتمادی کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ سکھ ایک مخصوص علاقے میں مقیم ہیں جہاں وہ اکثریت میں ہیں یا پھر ہندو اکثریت تھوڑی ہے۔ اور بہت سے انتخابی حلقوں میں فیصلہ کُن حثیت رکھتے ہیں۔ پنجاب کی صوبائی حکومت تو ہر حال میں سکھوں کے پاس ہی ہوتی ہے۔ جبکہ بھارت کے 17 کروڑ مسلمان پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں اور کسی بھی شہر میں اکثریت میں نہیں اور بہت کم انتخابی حلقوں میں فیصلہ کُن کردار کے حامل ہیں۔ جبکہ اڑھائی کڑور سکھ آبادی کے بڑے حصے کا خاص علاقے میں یکجا و مکیں ہونا سیاسی قوت کا باعث بنتا ہے، جس کی عکاسی سکھوں کی بے پناہ خوداعتمادی میں ہوتی ہے۔
(جاری ہے)