سویڈن میں اردو کے ہنر مند شاعر جمیل احسن
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 07 / جولائی / 2024
جمیل احسن اگرچہ سویڈن میں رہتے ہیں لیکن ان کی تازہ تصنیف ’آسودگی‘ ان کے ہونہار بھتیجے محمدمختار علی کے توسط سے ملتان میں موصول ہوئی۔ مختار صاحب خود بھی ایک عمدہ شاعر اور فنکار ہیں اور خطاطی کے فن میں نئی راہیں تلاش کرتے رہتے ہیں۔
جمیل احسن طویل مدت سے ہمارے ہمسایہ ملک سویڈن میں قیام پزیر ہیں اور ان کی ہنرمندی، زبان و بیان پر دسترس اور فنی صلاحیتوں کا اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہوگا کہ انہوں نے اردو کے علاوہ سویڈش زبان میں بھی شاعری کی ہے اور جس معاشرے کو اپنا دوسرا گھر بنایا ، اس کی ثقافت و زبان کو اپنانے کے علاوہ ، اس میں اظہار کے ذریعے سویڈش فن و ادب میں نئی راہیں متعین کروانے میں اپنا کردار ادا کیا۔
ترک وطن کرکے جب کوئی شخص کسی ایسے ملک میں آباد ہوتا ہے جہاں کی زبان وثقافت مختلف ہو یہ عمل متعدد تجربات کا حامل ہوتا ہے ۔اس میں خوشگواری کا احساس بھی ہوتا ہے لیکن مسائل کی خاردار راہوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ البتہ اگر یہ تارک وطن شاعر و ادیب ہو تو اس کا احساس ان تجربات کو خود میں سموتا ہے اور پھر کسی فن پارے کی صورت میں اس کا اظہار سامنے لاتا ہے۔ جمیل احسن اس لحاظ سے یکتا ہیں کہ انہوں نے اس اظہار کو اپنی فطری زبان اردو میں ہی پڑھنے والوں تک نہیں پہنچایا بلکہ سویڈش زبان میں شاعری کرکے مقامی معاشرے تک تارکین وطن کے کرب و نشاط کی کیفیات کو پہنچانے کا کام بھی کیا ہے۔
وطن چھوڑنا کسی کے لیے بھی آسان نہیں ہوتا۔ تاہم ایک ادیب اس سفر اور اس راہ میں ہونے والے تجربات کو بیان کرکے اپنے عہد کی تصویر آنے والے وقت کے لیے نقش کرتا رہتا ہے۔ دیکھئے ’محور ‘کے عنوان سے جمیل احسن نے وطن چھوڑنے کا قصہ کس پیرائے میں بیان کیا ہے:
میں نے جب رخت سفر باندھاتھا
اب وہ خوابوں کا سفر یاد نہیں
گھر کی دہلیز سے نکلا تو مرا دل دھڑکا
ایک تھیلے میں دعائیں ماں کی
ایک میں بہن کے آنسو کا خزانہ چھپا تھا
بڑھ کے بھائی نے جو سینے سے لگایا تھا مجھے
سب مرے دوست، بہی خواہ یہی کہتے تھے
تو سمندر کے سفر پر نکلا
کاش ہر گام تجھے راحت منزل ہو نصیب
تجھ کو وہ گوہر نایاب ملے
جس کی خاطر تووطن چھوڑ چلا
آج اس شہر میں برسوں کا سفر کرنے پر
سوچتا ہوں کہ سفر ختم ہؤا
یاابھی۔۔۔ میرا سفر جاری ہے!
کوئی شاعر اس سوال کا حتمی جواب نہیں دے سکتا کیوں کہ ہر لحظہ اور ہر لمحہ میں نئے تجربوں اور نئے مشاہدات کی حدت اس کے دل کو گداز کرتی ہے ۔ پھر بھی جس دھرتی کو اس نے نئے جہان کھوجنے کے لیے چھوڑا تھا ، اس کی محبت ، ایک آرزو کی صورت اس کے دل و جان میں بسیرا کیے رہتی ہے:
خاک ملتان تجھے چھو کے کبھی دیکھوں گا
تیرے ذروں سے وضو کرکے کبھی دیکھوں گا
دھرتی سے محبت مگر شاعر کو اپنے گرد و پیش رونما ہونے والے حالات سے نظریں چرانے پر آمادہ نہیں کرسکتی اور وہ مراجعت کی خواہش کے باوجود بے ساختہ کہہ اٹھتا ہے کہ:
بحمدللہ سویڈن میں گرم پانی میسر ہے
وگرنہ اس قدر سردی میں شاید روح جم جاتی
یہاں ساری تگ و دو زندگی کی جوں کی توں ہے
مسلسل زندگی کا پہیہ چلتا رہتا ہے
یہ سب مل جل کے حالات و مسائل
موسموں سے خوب لڑتے ہیں
ادھر اپنے وطن میں
جب سواری شاہ کی رستے سے گزرے
توعوام الناس کی خاطر
شاہراہیں بند ہوجاتی ہیں
زندگی کا پہیہ جام ہوتا ہے
وہاں شفاف پانی کو
عوام الناس ترستے ہیں
بحمدللہ۔ سویڈن میں گرم پانی میسر ہے
یہ سادگی و پرکاری جمیل احسن کی خوبی ہے جو ان کے تازہ مجموعہ کلام ’آسودگی ‘ میں بھی بخوبی محسوس کی جاسکتی ہے۔ وہ غزل اور نظم میں یکساں آسانی سے مافی اضمیر بیان کرنے پر قادر ہیں، یہی وجہ ہے کہ سویڈن کی مقامی زبان میں اظہار خیال کرتے ہوئے بھی انہیں کسی مشکل کا سامنا نہیں ہوتا۔ وہ اپنا مشاہدہ نہایت سہل طریقے سے قاری تک پہنچانے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان کا پہلا مجموعہ کلام ’تشنہ مچھلی پانی میں‘1980 میں شائع ہؤا۔ اس کے بعد ’روح کا سمندر‘ اور ’لفظ پر رکھتے ہیں‘ منظر عام پر آئے۔ ’ہجرتوں کے سفر‘ کے نام سے ان کے کلیات 1993 میں اشاعت پزیر ہوئے۔ جمیل احسن کے اکثر مجموعے اردو کے علاوہ سویڈش زبان میں بھی شائع کیے گئے۔ 2019 میں ان کا مجموعہ ’آسودگی‘ نظر نواز ہؤا۔ اس مجموعے میں شامل غزلوں کے کچھ اشعار:
وحدت قوم کا جو عزم کیا تھا ہم نے
ہائے یہ سوچ تھی کیا، آج یہ سوچا جائے
ایک سچ بات سے چھٹ جائے گا دل کا کہرا
اک کرن سینہ ظلمت کو اجالے کی ضرور
ہم ہیں آزاد مگر ذہن تو قیدی ٹھہرے
جس طرح سیپ کی آغوش میں موتی ٹھہرے
زندگی دور وطن سے یوں گزاری ہم نے
جیسے گمنام جزیرے پہ سپاہی ٹھہرے
اب آئینے کو دیکھ کے گھبرا رہاہے دل
اس پر عکس یار کے لپکے نہیں رہے