نیدرلینڈز کے بادشاہ کی سیاہ فام برادی سے معافی

میرا گیارہ سالہ بیٹا ارباب حسن جب اسکول سے واپس آتا ہے تو وہ اپنی اسکول کی پوری روداد ہم لوگوں کے ساتھ شئیر کرتا ہے۔ چونکہ ہم لوگ نیدرلینڈزکے نئے باشندے ہیں، اس لئے ملک، تہذیب و ثقافت نیزیہاں ہر دن رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں وہ ہم لوگوں کو با خبر کرتا رہتا ہے۔

واضح رہے کہ یہاں ڈچ زبان میں سارے معاملات طے پاتے ہیں اورہم اس زبان سے فی الحال نابلد ہیں تاہم دھیرے دھیرے ہم بھی اس زبان میں بول چال کی کوشش کررہے ہیں۔ ارباب کو اس ملک میں آئے ڈھائی سال ہوئے ہیں لیکن وہ چستی کے ساتھ اس زبان پر عبور حاصل کرتے ہوئے مقامی لوگوں کی طرح ڈچ بول اور سمجھ لیتا ہے۔ نیز اس زبان کے بولنے اور سمجھنے میں ہماری رہنمائی بھی کرتاہے۔ ڈچ اپنے ابتدائی اسکولوں میں ہی بچوں کو تازہ ترین صورتِ حال سے باخبر کرنے کے لئے ہر دن نیوز چنیل دکھاتے ہیں۔ اس کے بعد طالب علم منتخب موضوعات پر آپس میں تبادلہ خیال کرتے ہیں۔

یکم جولائی ۲۰۲۴ کو جب وہ اسکول سے گھر واپس آیا تو اس نے بتایا کہ آج شہر میں ’’کیٹیکوٹی فیسٹیول‘‘ منایا جارہاہے۔ بلکہ اس فیسٹیول سے منسلک چند لوگوں نے اسکو ل کا دورہ بھی کیا اوراس حوالے سے طالب علموں کے ساتھ بات چیت کی۔ ارباب کی بات سنتے ہی گزشتہ سال یکم جولائی کو ڈچ بادشاہ کی سیاہ فام برادری سے معافی مانگنے والی خبر نے میرے ذہن میں دستک دی۔ میں اس موضوع پرایک مضمون تحریرکرنے کا متمنی تھا تاکہ اردو قارئین کو اس حوالے سے تفصیلی بتاؤں لیکن اُن دنوں چند مصروفیات کی وجہ سے مضمون تحریر کرنے سے قاصر رہا۔ خیر میں فارسی کے ان مقولہ پرہمیشہ عمل پیرا رہتا ہوں ’’دیر اید درست اید‘۔

 نیدرلینڈز یورپ کا ایک ایسا ملک ہے جس کی ثقافت دنیا بھر میں مشہور ہے۔ رقبہ کے لحاظ سے چھوٹا سا ملک جس کی کل اراضی ۳۳۵۰۰ مربع کیلومیٹر ہے۔  اعداد وشمار کے مطابق اس ملک میںکل ۴۵۶ عجائب گھر ہیں۔ اس ملک کا دارالحکومت ایمسٹرڈیم ہے۔ یہ شہرثقافت کی سرپرستی کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ جس کی وجہ سے اس شہرکو ثقافت سے دلچسپی رکھنے والے لوگ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایمسٹرڈیم میں گزشتہ ۲۱ برسوں سے ہر سال یکم جولائی کو غلامی کے خاتمے کا قومی جشن منایاجاتا ہے۔ اس جشن کو شایانِ شان انداز میں منانے کے لئے مرکزی و مقامی حکومت نیز غیر سرکاری ادارے سمیت ڈچ شہری ہر ممکنہ تعاون کو یقینی بناتے ہیں۔ اس جشن کا نام’’کیٹیکوٹی فیسٹیول‘‘ ہے جس کا مطلب ٹوٹی ہوئی زنجیرکے ہیں۔ جس کا مفہوم غلامی کی زنجیر توڑنے والا جشن ہوتا ہے۔

 چودھویں اور اٹھارویں صدی میں جنوبی افریقہ اور کیریبین خطوں میں نوآبادیتی طرزِ عمل کے تحت غلاموں کی تجارت کرنے والے ڈچ باشندوں نے جبرو استبداد کی نظیر قائم کی تھیں اور 14 لاکھ سے زیادہ غلاموں کو خریدو فروخت کے طور پراستعمال کرکے اپنی سلطنت کو مالی اعانت فراہم کی تھی۔ اُس وقت بین الاقوامی دباؤ کے پیشِ نظر ۱۸۶۳ میں نیدر لینڈز میں باقاعدگی سے غلامی کے خاتمہ کا قانون منظور کیا گیا۔

اس واقعہ کے ۱۴۰ سال بعد نیدرلینڈز میں سرکاری طور پر قومی غلامی کی تاریخی مجسمہ کی نقاب کشائی کی گئی تاکہ غلامی کے منفی اثرات ساری دنیا پر واضح ہوجائیں۔ یہ پروگرام یکم جولائی۲۰۰۲ میں منعقد ہوا جس میں نیدرلینڈز کی ملکہ بیٹریکس مہانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود تھیں۔ بعد ازاں ۲۰۰۳ سے سیاہ فام برادری باقاعدگی کے ساتھ ’’کیٹیکوٹی فیسٹیول‘‘ کا اہتمام کرتی آرہی ہے۔ اس فیسٹیول کے ذریعہ ان لوگوں نے نیدرلینڈز سے مطالبہ کیا کہ ۱۶ ویں اور ۱۷ ویں صدی میں نوآبادیتی طرز عمل کے ذریعہ ان کے آباؤ اجداد کو غلام بنا کر کئے جانے والے تمام ظلم و جبر کا اعتراف کرتے ہوئے رسمی طورپر مذمت کی جائے۔ ان کے اس مطالبے کو پورا کرنے کے لئے سابق وزیر اعظم مارک روٹے نے دسمبر ۲۰۲۲ میں حکومت کی جانب سے سیاہ فام برادری سے رسمی طور پرمعافی مانگی تھی۔ اپنے معافی نامہ میں وزیر اعظم روٹے نے کہا تھا کہ ’’سچ تویہ ہے کہ غلامی کی اذیت پہچانے والے کوئی بھی اب ہم میں زندہ نہیں تاہم ڈچ ریاست ان بے پناہ غلام بنائے گئے لوگوں اور ان کی اولادوں کے ساتھ کئے گئے تمام ناروا سلوک اور زیادتیوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے رسمی طور پر معافی کا طلبگار ہے۔‘‘ لیکن سیاہ فام برادری نے اس معافی کی نفی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بادشاہ خود اُس ناروا سلوک کی مذمت کرے۔

ایک قوم کی ترقی اور کامیابی میں اس کے سرپرست نیز اعلیٰ حکام کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ قوم کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ ملک کا سربراہ تمام شہری کے مساوی حقوق کو یقینی بنائے نیز انہیں درپیش مسائل پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے خاظر خواہ حل تلاش کرے۔ ان ہی تمام پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے بادشاہ ولیم الیگزینڈر نے فیصلہ کیا کہ وہ سیاہ فام برادری سے رسمی طور پر معافی کے خواستگارہوں گے۔ اس ضمن میں یکم جولائی ۲۰۲۳  کا وقت مقرر کیا گیا۔ بادشاہ نے بڑی ہی فیاضی اور وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عام جلسہ میں شرکت کے ذریعہ رسمی طور پر معافی مانگنے کا فیصلہ کیا۔ اس بات کی نظیردنیا کی تاریخ میں نایاب ہے۔ یکم جولائی ۲۰۲۳ کی صبح جب بادشاہ سیاہ فام برادری کی ایک دیرینہ مانگ کو پورا کرنے ایمسٹرڈیم پہنچنے تو یوں لگ رہا تھا کہ آسماں بھی اپنے کئے پرندامت کا اظہار کررہا ہے۔

یہ سیاہ فام برادری کے لئے ایک تاریخی لمحہ تھا۔ وہاں موجود لوگوں کی آنکھیں پُرنم تھیں۔ موسلا دھار بارش میں بادشاہ ولیم اسٹیچ پرنمودار ہوئے۔ چند تعارفی کلمات کے بعد انہوں نے تاریخی تقریر کی۔ اپنی تقریر میں بادشاہ ولیم نے کہا کہ ’’میں یہاں آپ کے سامنے آپ کے بادشاہ اور حکومت کا حصہ بن کر کھڑا ہوں۔ آج میں ذاتی طور پر معافی مانگ رہا ہوں‘‘۔ انہوں پھر سے ایک بار معافی کا لفظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں ڈچ  کی جانب سے شروع کئے گئے غلامی جیسی ناروا لمحوں کو یاد کرتا ہوں، نیزان لوگوں کے انسانیت سوز جرائم کی مذمت کرتے ہوئے معافی کا طلبگار ہوں۔‘‘ یہ لمحہ دید کے قابل تھا۔ جب اس بات کو سیاہ فام برادری نے سنا تو وہ ایک دوسرے کے کاندھے پر سر رکھ کر خوشی کی آنسو بہانے لگے۔

 ڈچ بادشاہ نیز ڈچ قوم نے یہ ثابت کردیا کہ خواہ کسی طرح کا بھی جرم ہو اس کی تلافی ممکن ہے۔ ۱۶۰ سال کے بعد ڈچ بادشاہ کی رسمی طور پر معافی کا طلب سے انہیں یہ محسوس ہوا کہ یہ قوم اپنے کئے پر شرمندہ ہے اور وہ آگے کی جانب قدم بڑھانے کے لئے اپنے ہمسایہ سیاہ فام برداری کے تعاون کے خواہاں ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ڈچ اپنے بچوں سے اپنے آباؤاجداد کی جانب سے کئے گئے ظلم وخطا کی پردہ پوشی نہیں کرتے اورابتدائی اسکولوں میں ہی بچوں کواس بارے میں باخبر کرتے ہیں تاکہ آنے والی نسل ان تمام چیزوں سے گریز کرے۔

دنیا میں معاشی استحکام والے ملکوں میں سے ایک ملک نیدرلینڈز ہے۔ نیز عالمی خوشحالی کے معیار میں ڈچ عوام پہلے پانچ اقوام میں سے ایک ہیں جہاں عوام خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ ان ترقی کا اصل راز بادشاہ کی خموشی کے ساتھ باصلاحیت اور پختہ رہنمائی میں پنہاں ہے اور یہ اس ملک کی ترقی کی مثبت پیمائش بھی۔

امید ہے ڈچ بادشاہ نے جس طرح بے نظیر مثال قائم کی ہے، دوسری اقوام جو اس طرح کے انسانیت سوز جرائم یا کارکردگی میں ملوث تھے، وہ بھی اس کی پیروی کرتے ہوئے اپنے کئے پر شرمندگی کاا ظہار کریں گے اورمظلوم عوام سے رسمی طور پر معافی کے خواستگار ہوں گے۔