فرانس کے الیکشن میں بائیں بازو کو برتری
فرانس کے بائیں بازو کی پارٹیوں پر مشتمل اتحاد نے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں سب سے زیادہ 180 سیٹیں حاصل کرلی ہیں۔ دائیں بازو کی جماعتوں کی شکست کے باوجود یہ اتحاد واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں کی حامی جماعتوں کا اتحاد 160 سے کچھ زیادہ نشستیں حاصل کر پایا ہے۔ نتائج کے مطابق انتہائی دائیں بازو کے حامی صرف 140 سیٹیں جیت سکے ہیں۔ لیکن پھر بھی ان کی یہ کارکردگی 2022 کے انتخابات میں حاصل کی گئی 89 نشستوں کے مقابلے میں بہتر رہی۔
کوئی بھی سیاسی جماعت یا اتحاد 577 ارکان کے ایوان میں 289 کا مطلوبہ اکثریتی ہدف حاصل نہیں کرپایا جس سے ایک معلق پارلیمان کے وجود میں آنے کا امکان ہے۔ خبر رساں ادارے ’ایسو سی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق یہ سیاسی صورتِ حال یورپی یونین کی دوسری بڑی اقتصادی طاقت فرانس کی معیشت اور مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں نے 9 جون کو دائیں بازو کے اتحاد کی یورپی پارلیمان میں کامیابی کے بعد ملک میں قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیا تھا تاکہ میں ملک کا سیاسی منظر نامہ واضح ہو سکے۔ تاہم یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکا البتہ دائیں بازو کی انتہا پسند پارٹی یورہی پارلیمنٹ کے انتخاب کے برعکس کامیابی حاصل نہیں کرسکی۔ا
انتخابی نتائج واضح ہونے کے بعد حکومتی پارٹی کے رہنما وزیرِ اعظم گیبریئل اتال اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اپنے عہدے پر فی الحال خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ اتال نے صدر میخواں کے الیکشن کی فیصلے کی مخالفت کی ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ انہوں نے ایوان کو تحلیل کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا جس میں سینٹر سے تعلق رکھنے والی پارٹیوں کی مکمل تو نہیں لیکن اکثریتی نمائندگی تھی۔ اتال نے کہا کہ واضح اکثریت نہ ہونے کے باوجود بھی انہوں نے دو سال تک دوسری پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کی حمایت کے ساتھ حکومت چلائی۔