کینیا کی عدالت نے ارشد شریف کے قتل کو غیرقانونی قرار دیا

  • سوموار 08 / جولائی / 2024

کینیا کے شہر کجیاڈو کی ہائی کورٹ نے پاکستانی صحافی ارشد شریف کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔

کینین ہائی کورٹ کی جج جسٹس سٹیلا موٹوکو نے ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق کی درخواست پر پیر کو فیصلہ سناتے ہوئے کینین پولیس کی فائرنگ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ صحافی ارشد شریف کو 23 اکتوبر 2022 میں کینیا کے شہر نیروبی کے قریب مگاڈی کے علاقے میں پراسرار طور پر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ابتدا میں کینین پولیس نے اسے غلط شناخت کا معاملہ بتایا تھا تاہم بعد کی تحقیقات میں یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا تھا۔

ارشد شریف کی والدہ اور اہل خانہ نے پاکستانی فوج کے بعض افسران سمیت کچھ اعلیٰ حکام پر اس قتل میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے تھے۔ تاہم پاکستان کی فوج نے تمام الزامات کی تردید کی تھی۔ کینین ہائی کورٹ کی جج جسٹس سٹیلا موٹوکو نے ارشد شریف کے اہلِ خانہ کو دو کروڑ 17 لاکھ روپے زرتلافی ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ تاہم حکومت فیصلے کے خلاف 30 روز کے اندر اپیل بھی دائر کر سکے گی جس دوران معاوضے کا فیصلہ بھی معطل رہے گا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے تجزیے سے یہ سامنے آیا ہے کہ کینین حکام نے اپنے اقدامات کے ذریعے پٹیشنر کے حقوق کی خلاف ورزی کی۔ جج کا اپنے فیصلے میں مزید کہنا تھا کہ اہلِ خانہ کو کیس کی تحقیقات سے آگاہ رکھنا چاہیے اور قصوروار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی بھی ہونی چاہیے۔

ارشد شریف کی بیوہ اہلیہ جویریہ صدیق نے اپنی درخواست میں کینین اٹارنی جنرل، انسپکٹر جنرل آف پولیس، ڈائریکٹر آف پبلک پراسیکیوشن، انڈپینڈنٹ پولیسنگ اور سائٹ اتھارٹی سمیت دیگر حکام پر واقعے کی تحقیقات میں تاخیر کا الزام لگایا تھا۔ درخواست گزار نے مذکورہ اتھارٹیز کیس کی پیش رفت سے متعلق آگاہ نہ کرنے کا بھی الزام عائد کیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ ارشد شریف کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بغیر کسی وجہ کے اُن کی زندگی کا خاتمہ کر دیا گیا۔ جسٹس سٹیلا موٹوکو نے حکام کو ارشد شریف کیس کی تحقیقات مکمل کرنے اور ذمے دار پولیس اہلکاروں کے خلاف مناسب کارروائی کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

ارشد شریف کے کینیا میں مبینہ قتل کے بعد پاکستان میں بھی اس معاملے پر مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ جب کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے کا ازخود نوٹس بھی لیا۔ لیکن اب تک کچھ سامنے نہیں آ سکا۔