جلیانوالہ باغ کی سوگوار فضا شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے (13)

لدھیانہ سے پاکستان روانگی براستہ ہندوستان کی مشہور اور شیرشاہ سوری کی تعمیر کردہ یادگار شاہراہ جی ٹی روڈ سے تھی، جس کے کنارے ان گنت تاریخی مقامات اور شہر آباد ہیں۔

180 کلومیٹر طویل سفر کے دوران دریا ستلج اور بیاس پر سے گزر ہوا جو بڑے جوبن سے بہہ رہے تھے۔ راستے میں جالندھر شہر آیا جس کا ریڈیو جالندھر سب کو یاد ہو گا۔ جالندھر میں مختصر سے قیام کے بعد اگلا پڑاؤ امرتسر تھا۔ امرتسرشہر میں پہنچ کر گاڑی کو چھوڑتے ہوئے راستہ پوچھتے ہوئے پیدل جلیانوالہ باغ کی طرف رُخ کیا۔ جلیانوالہ باغ کا خونریز واقع تحریک آزادی پاک و ہند کا ایک اہم موڑ ہے جس نے ہندوستان سے برطانوی راج کے خاتم میں فیصلہ کُن رول ادا کیا۔

اس باغ میں 13اپریل 1919کو پنجابی ثقافت کےبیساکھی تہوار کے موقع پر بدنام زمانہ رولٹ ایکٹ کے تحت تحریک آزادی کے راہنماسیف الدین کیچلو اور ستیاپال کی گرفتاری کے خلاف ایک پر امن احتجاجی جلوس منعقد ہو رہا تھا۔ جس پر جنرل ڈائیر کے حکم پر فوج نے اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے سینکڑوں شرکا کو شہید کر دیا۔ باغ کے باہر شہدا کے چہروں کی شبیہ پر مبنی ایک مینار نما مجسمہ بنا ہوا ہے۔ اس باغ کے اندر داخلہ کا کوئی ٹکٹ نہیں۔ اس کے اندر داخلی راستے کی قلیل سی راہداری کی دیواریں شہدا کی اشکال کی مجسمہ نما نقش نگاری سے آراستہ ہیں جن پر نظر پڑتے اس المناک واقع کی یاد دہانی سے افسردگی کی کیفیت پیدا ہونا فطری سا عمل ہے۔

باغ کے داخلی دروازے کے پاس ہی وہ چبوترہ ہے جہاں سے فوجیوں نے جلسہ کے نہتے شرکا پر فائرنگ کی تھی۔ اس یادگار کی تعمیر معمار کی سوچ، ہنر اور اندازے اظہار داد تحسین ہے کہ اُس نے اینٹوں اور پتھروں کے بنے ڈھانچوں سے اُس بربریت اور غیر انسانی اقدام میں سموئی ہوئی انسانیت سوزی کو منعکس کرتے ہوئے ظلم کی اس داستان کے ہر پہلو کو اُجاگر کیا ہے۔ باغ کے عین وسط میں شعلہ سے تعبیر کردہ یادگار شہدا کا ڈھانچہ بناہے اس کے ساتھ ہی کچھ فاصلے پہ کنواں شہدا ہے ۔ جس میں گولیوں کی بوچھاڑ سے بچنے کے لیے لوگ کودنے پر مجبور ہوئے تھے۔ اس کنواں سے 130 شہدا کی لاشیں ملی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی باغ کے تین اطراف موجود عمارتوں کی عقبی دیواروں پر گولیوں کے نشانات محفوظ ہیں۔

اسی طرح باغ کے اندر موجود سمادھی کے ڈھانچے پر بھی فوج کی چلائی گئی گولیوں کے نشانات محفوظ ہیں۔ یادگار کے مختلف حصوں میں گھومتے ہوئے نظر آنے والا ہر شخص غمگین اور سہما ہوا دھیمے لہجے میں گفتگو کرتا دکھائی دیا۔ جس سے سو سال قبل ڈھائے گئے ظلم کا خوف آج بھی باغ کی فضا میں چھایا محسوس ہوتا ہے۔ اس یادگار کی تعمیر میں رنگ کا انتخاب اور میٹریل کے چناؤ قابل ستائش ہے کیونکہ اس کو پُرکشش بنانے کے لیے کسی شوخی پن یا چمک دمک کو بروئے کار نہیں لایا گیا جو شہدا کے خون اور دی گئی قربانی کو پیش کیےگئے نذرانہ عقیدت کا باوقار انداز ہے۔

جلیانوالہ باغ جہاں بے گناہوں کے قتل عام سے برطانوی دور حکومت کا بدنما داغ ہے، وہیں یہ اودھم سنگھ کی طرف سے بیس سال بعد 1940 میں لندن جا کر پنجاب کے گورنر مائیکل او ڈائیر کو کیکسٹن ہال میں گولی مار کر انتقام لینا ہندوستان کی آزادی کا منفرد واقع بھی ہے۔ اس واقع کو دنیا بھر میں بڑی توجہ ملی تھی۔ جرمنی کے رفیع  نے اس پستول کی آواز کو شہدا کی چیخ سے تعبیر کیا تھا۔ گو گاندھی صاحب اور نہرو  نے اس قتل کو بے معنی قرار دیا لیکن بعد میں نہرو  نے اودھم سنگھ کو شہید اعظم کے خطاب سے نوازا۔

اودھم سنگھ نے اپنے اس اقدام قتل کا اعتراف کرتے ہوئے برملا کہا کہ اُس نے یہ بےگناہوں کے خون کا بدلہ لینے کے لیے کیا جس کے لیے وہ 21سال سے تڑپ رہا تھا اور بالآخر اسے انجام دینے پہ خوش ہے۔ اُس نے کہا کہ اُسے مرنے کا کوئی خوف نہیں بلکہ اپنے وطن کے لیے جان دینا ایک اعزاز ہے۔ اودھم سنگھ نے جیل میں اپنا نام (رام محمد سنگھ آزاد ) رکھ لیا اور کہا کہ مجھے اب اسی نام سے پکارا جائے۔ اودھم سنگھ 20 جولائی 1940 کو پھانسی کے پھندے کو چوم کر تخت دار پر جھوم گیا۔

اس واقع کی سب سے حیران کُن بات یہ ہے کہ ہر سطح پر کیے گئے مطالبے کے باوجود حکومت برطانیہ نے آج تک باضابطہ طور پر اس کی معافی نہیں مانگی۔ اور ہمیشہ الفاظ کے ہیر پھیر سے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ گو شہدا کو اس سے فرق نہیں پڑے گا لیکن یہ معافی ان کی نسلوں پر ایک قرض ضرور ہے جس کو اُتروانا فرض اول ہونا چاہیے۔

(جاری ہے)