ہمارے دیہات کے مسائل (2)

نوجوانوں کا بیرون ممالک جانا، وہاں سے پیسہ کما کر اپنے وطن بھیجنا غلط تو نہیں تھا، اصل مسئلہ اپنے ملک کے کلچر اور ملکی نظام میں وقت کے ساتھ بہتری لانا تھا جس پر کسی نے توجہ نہیں دی ہے۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ اب پکے مکان نہ بنائے جائیں یا پانی اب بھی ایک ہی کنوئیں سے لایا جائے، نہ ہی ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ کاشتکاری پرانے طریقے سے کی جائے۔ لیکن ہم چاہتے یہ ہیں کہ نئے حالات کے ساتھ خود کو بھی کچھ بدلا جائے۔ اپنے رہن سہن کو اور اپنی سرگرمیوں کو صحت کے اصولوں کے مطابق ڈھالا جائے لیکن ہمارے لوگوں نے پیسے کا درست استعمال کیا نہ اپنی سوچ کو نئے حالات کے مطابق ڈھالا ہے۔

چونکہ اس خطہ نے کئی صدیاں غلامی میں گزاری ہیں، مختلف علاقوں سے آئے فاتحین  نے برصغیر پر ناجائز حکومتیں قائم کر کے یہاں تین نظام رکھے۔ ایک بادشاہی خاندان اور ان کے دربار کا نظام ہوتا تھا، دوسرا امرا یا درباریوں کا اور تیسرا عوام کے لیے جو زیادہ تر غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارتے تھے۔ ان غیر منصفانہ نظاموں نے عوام کے اندر احساس محرومی پیدا کیا جس سے بداعتمادی بھی پیدا ہوئی۔ 1947 میں بظاہر ہم نے آزادی تو حاصل کر لی مگر اس ملک کا نظام بدلا نہ لوگوں کی سوچ میں کوئی مثبت تبدیلی آئی۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ عوام کو بدستور بے اختیار اور محکوم رکھا گیا اور ملک کے تمام فیصلے محلوں کی بجائے محلات میں ہوتے رہے۔ پھر جب پاکستان دو لخت کروا کر باقی ماندہ پاکستان پر عوامی دور کا آغاز ہوا تو اس کے بعد ملک میں رجسٹریشن کا محکمہ قائم ہوا، لوگوں کو شناختی کارڈ ملے اور ہر عام و خاص کو پاسپورٹ ملنے لگے۔ اسی دوران اس وقت کے وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو  نے عرب برادر ممالک سے قریبی تعلقات قائم کیے اور اپنے نوجوانوں کے لیے ان ممالک میں روزگار کے مواقع تلاش کیے گئے۔

پھر جب بیرون ممالک سے پیسہ آنے لگا تو دیہاتی لوگوں نے اپنی محرومیاں ختم کرنے کے لیے پکے مکان بنانے، پانی کے لیے پمپ لگوانے، شادیوں کی تقریبات وغیرہ میں مقابلوں کی فضا قائم کر دی۔ اسی طرح گاڑیوں اور موٹرسائیکلون کی دوڑ لگ گئی۔ اس طرح ایک طرف سے زرمبادلہ پاکستان آتا اور دوسری طرف اس زرمبادلہ کا کچھ حصہ جاپان چلا جاتا۔ اب دیہاتی لوگ محنت کو چھوڑ کر ایک ہی دوڑ میں لگ گئے کہ کسی طرح بیٹوں کو بیرون ملک بھیجا جا سکے اور جو اس دوڑ میں کامیاب ہوت،ے ان کی اگلی دوڑ بڑے سے بڑا مکان بنانے یا دوسروں سے بہتر گاڑی خریدنے کی شروع ہو جاتی تھی۔

ادھر سیاستدانوں، بیوروکریٹس، مذہبی راہنماؤں اور صحافیوں کی نظر بھی تارکین وطن کی طرف ہو گئی کہ کس طرح ان سے مال بٹورا جا سکتا ہے۔ بہت ہی کم لوگوں نے کاروبار یا صنعتی شعبے میں پیسہ لگایا جس سے اپنے ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے تھے اور ملکی پیداوار میں اضافہ ہو سکتا تھا۔ اب دیہاتی لوگوں کے رہن سہن کے طریقے بھی بدلنے لگے اور اب صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ دیہات میں 20 فیصد لوگ کھیتی باڑی کا کام کرتے ہیں اور وہ بھی ٹریکٹر اور مشینوں کے ساتھ۔ مکانات اور آبادیوں سے ابھی تک جو زمین بچی ہوئی ہے اس میں سے 30 فیصد کے لگ بھگ زمین غیر آباد پڑی ہوئی ہے۔ مال مویشی بہت کم رہ گئے ہیں۔ خالص دودھ تقریباً ناپید ہو چکا ہے۔ دیسی مرغ ملتا ہے نہ دیسی انڈے، خالص ڈیری مصنوعات، دودھ دہی، مکھن اور گھی ملنا محال ہے۔

اب آتے ہیں بیماریوں اور مصیبتوں کی طرف۔ 40 سال سے زائد عمر کے لوگوں میں 5 میں سے 4 لوگ کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہیں اور ان میں سے 70 سے 80 فیصد بیماریوں کو لوگ خود دعوت دیتے ہیں۔ بلکہ کچھ بیماریاں تو خرید کر گھر لاتے ہیں۔ اب تو کئی لوگ نوجوانی ہی کی عمر میں کسی نہ کسی موذی بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ جو بیماری ہے وہ ٹائپ 2 شوگر ہے جو انسان کی اپنی غلطیوں سے ہوتی ہے۔ ہر تیسرا بندہ مرد/عورت شوگر کی بیماری میں مبتلا ہے اور یہ شوگر کئی مزید بیماریوں کو جنم دیتی ہے۔ شوگر کیوں ہوتی ہے، اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ایک جملے میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ہماری غفلت، لاپرواہی اور سستی کی پیداوار ہے۔ ہمارے شہروں میں بھی لوگ سستی اور غفلت سے اس بیماری میں مبتلا ہیں لیکن وہاں اب خاصی تعداد واک اور ورزش کرتی نظر آتی ہے۔ (ان میں زیادہ تر تو وہی ہوتے ہیں جنہیں ڈاکٹروں نے ڈرایا ہوتا ہے کہ اب واک نہ کی تو بس گئے) لیکن دیہاتوں میں واک اور ورزش کرنے والے کو پاگل یا فارغ شخص سمجھا جاتا ہے۔ بالخصوص خواتین کے لیے تو یہ شجر ممنوعہ ہے۔ ہماری خواتین گھروں سے باہر ہی نہیں نکلتی ہیں، اگر نکلتی ہیں تو برقعہ پہن کر گاڑی یا موٹر بائیک پر بیٹھ کر نکلتی ہیں۔

مردوں میں بھی شاید ایک فیصد  ہیکسی جسمانی سرگرمی میں حصہ لیتے ہوں۔ اوپر سے کسی ایک بندے کو بھی خوراک کا علم نہیں ہے کہ ہمیں کیا کھانا چاہیے اور کن چیزوں سے لازمی پرہیز کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس طرف کبھی کسی نے سوچا ہی نہیں کہ خوراک کیا ہوتی ہے۔ زیادہ تر لوگ تو صرف پیٹ بھرنے کو ہی کھانا سمجھتے ہیں۔ یورپ میں محاورتی طور پر کہا جاتا ہے کہ 40 سے زائد بندے کو اپنے باورچی خانے سے چینی اور نمک ختم کر دینا چاہیے۔ جبکہ ہمارے ہاں کوئی عمرہ کر آئے یا کوئی اور خوشی کے موقع پر لوگ ملنے آتے ہیں تو وہ کولڈ ڈرنکس کی بوتلیں یا دو چار کلو چینی بطور تحفہ ساتھ لے کر آتے ہیں۔ اور میزبان بھی آنے والوں کی تواضع جعلی کولڈ ڈرنکس اور چینی سے بھرپور چائے سے کرتے ہیں۔

شوگر کی وجوہات میں ایک وجہ ٹینشن بھی ہوتی ہے اور ہمارے لوگ ہر لمحہ ٹینشن میں گزارتے ہیں جس میں زیادہ تر ٹینشن فضول قسم کی ہوتی ہے۔ اسی طرح دیہاتوں میں کئی ایسی کھانے کی سستی اور صحت کے لیے مفید اشیا میسر ہونے کے باوجود لوگ برائلر مرغ، سموسے، پکوڑوں اور برگر کا شوق کرتے ہیں۔ ہم نے قدرتی اشیاء اگانا اور کھانا چھوڑ دی ہیں۔ (جاری ہے)