ملک بچانے کے لیے اسٹبلشمنٹ پیچھے ہٹے اور شفاف الیکشن کرائیں جائیں: عمران خان

  • بدھ 10 / جولائی / 2024

سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو بچانا ہے تو شفاف الیکشن کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ عمران خان 190 ملین پاؤنڈ کیس کے سماعت کے موقع پر  صحافیوں سے بات کررہے تھے۔

عمران خان کا کہنا تھا موجودہ حکومت نے پاکستان کی امید ختم کردی ہے۔ کسی کو اس حکومت پر بھروسہ نہیں رہا۔ الیکشن میں تاریخی دھاندلی ہوئی ہے اور چیف جسٹس پاکستان ہمیں انصاف کیلئے الیکشن کمیشن بھیج رہے ہیں۔

سب کو معلوم ہے الیکشن کمیشن نے فراڈ الیکشن کرائے۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مشکل فیصلے وہ کرتا ہے جس کے پیچھے عوام ہوں۔ قاضی فائز عیسیٰ ہمیں کہہ رہے ہیں کہ انٹرا پارٹی الیکشن کیوں نہیں کرائے۔ کیا چیف جسٹس کو نہیں معلوم ہماری ساری پارٹی انڈر گراؤنڈ تھی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ شفاف الیکشن کیلئے اسٹیبلشمنٹ کو پیچھے ہٹنا پڑے گا اور اسٹیبلشمنٹ نے ملک کو بچانا ہے تو شفاف الیکشن کی طرف جانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں ہماری انسانی حقوق اور 8 فروری کی پٹینشز کیوں نہیں سنی جارہی۔ کون سی جمہوریت میں ملٹری کورٹس میں سویلین کے ٹرائل ہوتے ہیں۔ مجھے اس طرح ٹریٹ کیا جارہا ہے جیسے میں نے پاکستان میں سب سے بڑی غداری کی ہو۔ جمہوریت اخلاقی رویوں پر چلتی ہے۔

دوسری طرف نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی اپیلوں کے معاملے پر بانی پاکستان تحریکِ انصاف اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے سپریم کورٹ میں اپنا تحریری جواب جمع کروا دیا ہے۔ اپنے جواب میں انھوں نے لکھا کہ یہ میری ذات کا نہیں بلکہ ملک کا معاملہ ہے۔

نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف اپنے جواب میں عمران خان نے حکومت کی اپیلیں خارج کرنے کی استدعا کی ہے۔

بانی پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے جانے والے  جواب میں کہا ہے کہ ’اب تک اُن کے خلاف مقدمات میں ہونے والی عدالتی کارروائی اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے فیصلوں میں غیر جانبداری  نظر نہیں آتی۔ اس لیے غیر جانبداری کے اصول کو برقرار رکھنے کے لئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ مجھ سے متعلق معاملات اور مقدمات کی سماعت نہ کریں۔‘