گولڈن ٹمپل کے انتظامات (14)
- تحریر خالد محمود اوسلو
- بدھ 10 / جولائی / 2024
جلیانوالہ باغ سے چند ہی قدموں کے فاصلے پہ گولڈن ٹمپل واقع ہے۔ گولڈن ٹمپل یا ہریمندر صاحب کے معنی رب کا گھر ہے۔ یہ سکھ مذہب کے تیں مقدس ترین مقامات میں سے ہے ۔
دوسرے دو گُردوارہ دربار صاحب کرتار پور اور گردوارہ جنم آستان ننکانہ صاحب ہیں۔ امرتسر میں دربار صاحب کی بنیاد سکھ مذہب کے چوتھے گرو رام داس نے یہاں پر ایک تالاب تعمیر کرکے 1577 میں رکھی۔ اور پانچویں گرو ارجن نے اسے مزید وسعت دی اور سکھ مذہب کی سب سے مقدس و متبرک کتاب آدی گرانتھ کو اس میں رکھا۔ سکھ مذہب توحید پہ مبنی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس گردوارہ کا سنگ بنیاد اپنے وقت کے صوفی پیشوا میاں میر لاہور والوں سے رکھوایا گیا۔ یہ گردوارہ مرحلہ وار تعمیر ہوتا رہا اور کئی بار جنگ و جدل کے نتیجہ میں تباہی کا شکار بھی ہوا،
خاص کر افغان حملہ آوروں کے ہاتھوں اسے کئی بار بھاری نقصان پہنچا۔ اس گردوارہ کو ملنے والا عروج اور عالیشان تعمیر مہاراجہ رنجیت سنگھ کی پنجاب میں ریاست کے قیام کی مرہون منت ہے۔ اور اسی دوران گردوارہ کے گبند کو سونے سے سجایا گیا اور اس کے ساتھ ہی ہریمندر صاحب پوری دنیا میں گولڈن ٹمپل کے نام سے مشہور ہو گیا۔ گولڈن ٹمپل اپنے طرز کی فن تعمیر کا شاہکار ہے۔ اس کا باہر والا صحن بھی بڑی شان و شوکت والا اور خوبصورت ہے ۔ اس میں داخل ہوتے ہی وہاں پر موجود بڑی تعداد میں رضاکار آپ کی راہنمائی فرماتے ہیں۔ سب سے پہلے جوتے اُتار کر ایک خاص مقام پر جمع کرواتے ہوئے اُجرت اداکرنے کا دریافت کیا تو پتہ چلا کہ یہاں پر یہ کام سکھ یاتری بلا معاوضہ باعث سعادت انجام دیتے ہیں۔ اور ہمارے درباروں کی طرح جوتوں کی دیکھ بھال کے لیے کوئی ٹھیکہ نہیں ہوتا۔
تھوڑی سی توجہ سے دیکھا تو ہمارے جوتے لے کر لفافے میں ڈالنے والی خاتون کا لباس اُسے کسی متمول گھرانے سے ہونے کا تاثر دے رہا تھا۔ ابھی یہ سوچ ہی رہے تھے تو محترمہ نے لندن لہجہ میں انگلش بولتے انتہائی شائستگی کے ساتھ جوتوں کا ٹوکن اور ایک سفید رومال پکڑاتے ہوئے دربار صاحب پہ خوش آمدید کہا۔ یہ سفید رومال گردوارہ کے مرکزی حصہ میں داخل ہوتے ہوئے احترام کے لیےسر پہ باندھنے کے لیے تھا۔ محترمہ نے شاید بھانپ لیا ہو کہ ہمارے پاس رومال نہیں ہے۔ دریافت کرنے پہ محترمہ نے بتایا کہ وہ لندن سے دربار صاحب کی یاترا کو آئی ہوئی ہیں اور روزانہ بابا گرونانک کے مہمانوں کے جوتے اُٹھانے کی ڈیوٹی سرانجام دے کر روحانی تسکین حاصل کرتی ہیں۔
جوتے جمع کروانے کے بعد آگے ایک برآمدے میں ہاتھ منہ کے غُسل کی جگہ پہ ہاتھ پاؤں دھو کر دربار صاحب کے اندر داخل ہونے کے لیے ایک چھوٹے سے مستطیل نما ہوض میں پانی کے اندر پاؤں ڈبو کر گزارنا پڑتا ہے جو دربار صاحب کے اندر داخل ہونے کے لیے فرض ہے۔ پھر آگے دروازہ سے داخل ہو کر سیڑھیوں سے اُتر کر گولڈن ٹمپل اور اس کے گرد تعمیر تالاب والے حصے میں پہنچتے ہیں۔ دربار ہریمندر صاحب والا حصہ اردگرد کے حصہ سے کافی گہرا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گُرو رام داس کا اسے گہرائی میں تعمیر کا مقصد گرونانک کی تعلیمات کے مطابق عاجزی اور انکساری کا اظہار تھا۔
گولڈن ٹمپل کا منظر واقع بہت دلکش اور متاثر کُن ہے اور سکھ یاتریوں کے چہروں سے ٹپکتی عقیدت اس مقام کی اہمیت اُجاگر کرتی ہے۔ تالاب کا پانی بہت ہی صاف اور شفاف تھا اور کسی قسم کی کثافت سے پاک تھا۔ تالاب کے پانی کا محوری نظام یقیناً بہت معیاری ہوگا ورنہ اس طرح کے تالاب میں پانی کا کھڑے رہنا اور پھر لاکھوں لوگ کا روزانہ اس میں ہاتھ مارنے کے باوجود صاف رہ جانا قابل تعریف ہے۔ دربار صاحب کے اندر ہزاروں کی تعدا میں سکھ یاتری موجود تھے اور مرکزی گردوارہ جہاں متبرک صحیفے محفوظ ہیں، کے باہر داخلے کی ایک طویل قطار تھی۔ تالاب کے اردگرد بھی یاتری تالاب کے پانی سے اپنے ہاتھ منہ گیلے کر رہے تھے۔
کئی ماں باپ اپنے ہاتھ میں پانی لے کر ساتھ لائے نومولود بچوں کے چہروں پر مل رہے تھے۔ کئی یاتری دو زانو نشست نشین ہو کر آنکھیں بند کیے مراقبہ کرتے پائے اور کئی سجدہ میں پڑے تھے۔ کچھ وقت گزارنے اور روایتی تصویری کشی کے بعد باہر آ کر اپنے جوتے پہن کر اگلی منزل کا قصد کرنے کے لیے گاڑی کا رُخ کرتے دربار صاحب کو الوداع کہا۔
( جاری ہے )