آپریشن عزم استحکام یا عدم استحکام؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 11 / جولائی / 2024
ان دنوں ہماری سیاست و صحافت میں “آپریشن عزم استحکام” کا بہت چرچا ہے، ہر دو اطراف خوب دلائل دیے جارہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ آئے روز ہماری فورسز پر جو مسلح حملے ہورہے ہیں اس دہشت گردی کو روکنے کیلئے یہ آ پریشن ناگزیر ہے۔
اپیکس کمیٹی اس کی منظوری دے چکی ہے۔ کابینہ نے بھی اسے منظور کر لیا ہے جبکہ دوسری جانب اپوزیشن پارٹیوں بالخصوص پی ٹی آئی کی جانب سے کے پی اور بلوچستان کے مخصوص علاقوں میں اس مجوزہ آپریشن کی پر زور مخالفت کی جارہی ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی آپریشن ہو سب سے پہلے اس کی منظوری پارلیمنٹ سے لی جانی چاہیے۔ کوئی بھی کمیٹی چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، پارلیمنٹ سے بڑی تو نہیں ہے۔ پارلیمان سپریم ہے تو اس ایشو پر یہاں بحث کیوں نہیں کروائی گئی؟ ہم نے بات کرنے کی کوشش کی تو ہمارے مائیک بند کردیے گئے جس پر ہمیں پارلیمنٹ سے واک آوٗٹ کرنا پڑا۔ اپوزیشن کی طرف سے اس نوع کے خدشات بھی سامنے آرہے ہیں کہ آپریشن عزم استحکام کے نام پر کے پی میں خود انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔ یا ان کی طاقت کچلنے کیلیے اس نوع کا اہتمام کیا جارہا ہے۔
پچھلے دنوں لوئر دیر میں پختونوں کا ایک گرینڈ قومی جرگہ منعقد ہوا ہے۔ جس میں یہ اعلان کیا گیا کہ ہم ملٹری آپریشن کو مسترد کرتے ہیں۔ کوئی لشکر بنے گا نہ ہم نقل مکانی کریں گے۔ افغان سرحد پر باڑ اور چیک پوسٹوں کے باوجود حملہ آور کیسے دراندازی کرکے بحفاظت چلے جاتے ہیں۔ دہشتگردی کے نام پر سیکیورٹی آپریشن کے نتیجہ میں بے گناہ پختونوں کا مزیدخون نہ بہایا جائے۔ اگرچہ حکومت کی طرف سے اس نوع کی یقین دہانی کرائی جارہی ہے کہ کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہونے جارہا اور نقل مکانی بھی نہیں کروائی جارہی، صرف دہشتگردوں کو کچلتے ہوئے انہیں منطقی انجام تک پہنچایا جاۓ گا۔
وزیر دفاع نے زیادہ کھل کر واضع کیا ہے کہ آپریشن عزم استحکام میں سرحد پار دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ جب تک دہشتگردی ختم نہیں ہوگی ہماری معاشی صورت حال بہتر نہیں ہوسکتی۔ آپریشن عزم استحکام کی پالیسی جلد بازی میں نہیں اپنائی، ہم یہ آپریشن خود کریں گے امریکہ سے مدد بھی نہیں لیں گے۔ البتہ اپوزیشن کو آ پریشن کے خدوخال بتائیں گے اس سلسلے میں آل پارٹیز کانفرنس بلائیں گے۔ وزیر اعظم نے بھی واضح کیا ہے کہ ہم اس سلسلے میں سیاسی قوتوں سے بات کریں گے۔
اس سے پہلے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وہ یہ مطالبہ بھی کر چکے ہیں کہ افغانستان میں طالبان حکومت دہشت گردی کے خلاف اقدامات کرے۔ اس سلسلے میں ہم افغانستان کی عبوری حکومت کے ساتھ بامعنی بات چیت کیلیے تیار ہیں۔ پاکستان اپنے تجارتی محل وقوع کے اعتبار سے اہم تجارتی گزر گاہ ہے اس میں رکاوٹوں کو ہٹانا ہوگا۔ اگر ہماری ناپائیدار حکومت کو اتنا ادراک ہے تو اسے یہ بھی معلوم ہوگا کہ سنٹرل ایشیا کے ممالک جس طرح ہماری بندرگاہوں تک رسائی چاہتے ہیں، اسی طرح وہ جنوبی ایشیا میں تجارتی سرگرمیاں بڑھانے کیلیے اپنی درآمدات اور برآمدات بھارت تک بڑھانا بھی چاہتے ہیں۔ پاکستان کو بالآخر رکاوٹ بنے بغیر انہیں یہ سہولت دینا ہوگی۔ اس سے پاکستان اربوں ڈالر کما سکتا ہے بشرطیکہ ہم وقت کے بدلے تقاضوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ افغانستان اور بھارت سے اپنے خراب تعلقات کو نارمل بنائیں۔
آج ہم دہشت گردی کو روکنے کیلیے افغانستان کے اندر گھس کر جس نوع کے حملے کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں کیا یہ ویسی ہی صورتحال نہیں ہے جوایسٹرن بارڈر پر بھارت کو ہمارے حوالے سے درپیش رہتی ہے۔ اور جس کا ہم برا مناتے ہیں۔ اس لیے کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ڈرانے دھمکانے کی بجائے خطے کے تمام ممالک سے اچھے تعلقات قائم کرنے کی وہ پالیسی اپنالی جائے جس کا پوری دنیا ہم سے تقاضا کرتی رہتی ہے۔ اب تک پاکستان ضرب عضب اور رد الفساد سے لے کر کوئی درجن بھر آپریشن کرچکا ہے، دہشت گردی کے خاتمے کا عزم لے کر اب تک جتنے بھی آپریشن ہوئے ہیں درویش ان کی حمایت میں رطب اللسان رہا ہے۔ مگر اس مرتبہ اپنے طاقتوروں کو اس کا مشورہ ہے کہ وہ خون خرابے کی بجائے بہتر حکمت عملی سے کوئی مذاکراتی حل نکالیں۔ تشدد ہمیشہ دوسرے تشدد کو جنم دیتا ہے۔
آپ لوگوں نے خود ہی جن لوگوں کو دوسروں پر شب خون مارنے کے ارادوں سے پالا پوسا تھا، اب جب گیم الٹی پڑ گئی ہے اور وہی لوگ آپ سے کچھ تقاضے کررہے ہیں تو بربادی کی بجائے مکالمے کا رستہ اپنایا جائے۔ جنہیں خود آپ غلامی کی زنجیریں توڑنے والے قرار دیتے نہ تھکتے تھے، اب ان پر لشکر کشی سے باز رہیں۔ ورنہ اس کے مفاسد کہیں بڑھ کر ظاہر ہوں گے۔ آپ لوگوں نے برسوں سے یہاں آباد بلکہ بہت سے یہاں پیدا ہونے والے پختونوں کو جس ذلت کے ساتھ بھیڑ بکریوں کی طرح ٹرکوں میں پھینکتے ہوئے ملک بدر کیا آخر اس کی کیسے ستائیش کی جاسکتی ہے۔ آپ لوگوں کو ادراک ہی نہیں ہے کہ اس سے آپ نے کتنی بھاری منافرت خریدی ہے۔
مسئلہ محض پی ٹی آئی کا نہیں ہے، کے پی اور بلوچستان کی پوری سیاسی اور مذہبی قیادت آپ لوگوں کو خون خرابے سے روک رہی ہے۔ بلوچ نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالمالک اور محمود خان اچکزئی کی پختونخواہ ملی عوامی پارٹی سے لےکر عوامی نیشنل پارٹی کے ایمل ولی خان تک، جمیعت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی تک بالخصوص پختون اور بلوچ قیادت اس حوالے سے یکسو ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی صاف گوئی پر کان دھرے جائیں کہ یہ آپریشن عذم استحکام نہیں عدم استحکام ہوگا۔
شہباز شریف وزیراعظم نہیں بس کرسی پر بیٹھا شخص ہے۔ فیصلہ کوئی اور کرے گا، ذمہ داری سیاسی جماعتیں اٹھائیں گی۔ اس وقت ریاست کی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ ریاست عوام کو اپنا دشمن سمجھتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے اس سے آگے بڑھ کر یہ تک کہہ دیا ہے کہ مجھے تو کچھ عرصہ بعد جنوبی اضلاع میں امارات اسلامی کا قیا م نظر آرہا ہے۔
بنگالیوں کے خلاف خونی آپریشن کرتے ہوئے جب آپ لوگ پاکستان بچانے کے بلند بانگ دعوے کر رہے تھے کیا تب کسی نے یہ احساس کیا کہ ردعمل میں جو نفرت کا طوفان اٹھے گا کیا وہ قومی یکجہتی کو پارہ پارہ نہیں کردے گا؟ ہوشمند افراد و اقوام اپنے ماضی کی غلطیوں کو تاہیوں سے سیکھتے ہیں۔ جہاں تک روٹین کے آپریشن کا ایشو ہے اس میں کون رکاوٹ بن سکتا ہے۔ وہ تو دہشت گردی کے خلاف آپ لوگ ہر روز کر رہے ہیں جہا ں جہاں آپ کو کوئی ایسا خدشہ بھی محسوس ہوتا ہے، آ پ اس کا صفایا کرنے کے لیے فوری پہنچے ہوتے ہیں۔ لیکن کوئی ایسا بڑا محاذ کھولنا جس سے بے گناہ پختونوں اور بلوچوں کی زندگیاں اجیرن و ابتر ہوجائیں اس سے فی الحال پرہیز ہی بہتر ہوگا۔ جس زہریلی پنیری کو آپ لوگوں نے خود سینچا ہے اب ذرا حوصلے اور تدبر کے ساتھ اس کےمضمرات سے بچو اور آئندہ کیلئے اپنی اس نوع کی پالیسیوں سے تائب ہوجاؤ۔
ذرا سوچئے
کہ طالبانی دہشت کی جڑیں کہیں ہماری کشمیر پالیسی یا جہادی کاروائیوں سے اس کے حصول کی خواہش میں تو پیوست نہیں ہیں؟ اگر واقعی ہمیں مسلمانی دکھوں کا احساس یا درد ہے تو وہ سنکیانگ کے مظلوم ایغور مسلمانوں کیلئے کیوں نہیں اٹھتا؟
موجودہ حالات میں بہتر یہی ہے کہ اگر ہمیں چائنہ کی طرف سے دباؤ بھی ہو پھر بھی اپنے لوگوں کو اعتماد میں لیے بغیر نئی مہم جوئی سے گریز ہی فرمائیں۔ وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد۔