ٹی ٹی پی کے لیے افغان طالبان کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے: اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے سرحد پار پاکستان میں حملوں کے لیے تحریک طالبان پاکستان کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی جانب سے یہ رپورٹ بدھ کے روز جاری کی گئی۔ ٹی ٹی پی کی حالیہ ہفتوں میں کارروائیوں کی وجہ سے سینکڑوں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے اہلکار اور شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی افغانستان میں بڑے پیمانے پر آپریٹ کرتی ہے اور وہاں سے پاکستان میں حملے کیے جا رہے ہیں جن میں اکثر افغان شہری بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔
رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا کہ بین الاقوامی طور پر دہشت گرد قرار دیے گئے اس گروپ کے افغانستان میں چھ سے ساڑھے چھ ہزار جنگجو موجود ہیں۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے خطرے کو ختم کرنے میں یا تو ناکامی نظر آتی ہے، یا ایسا کرنے میں کوئی ارادہ ظاہر نہیں ہوتا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کی حمایت میں اضافہ نظر آتا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافے سے دونوں ملکوں کے تعلقات پر اثر پڑا ہے اور افغان طالبان دہشت گرد گروپوں کی موجودگی کا انکار کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ان الزامات کی بھی تردید کرتے ہیں کہ ان کارروائیوں کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان ٹی ٹی پی کو دہشت گرد گروپ تسلیم نہیں کرتے۔ اور ان کے تعلقات قریبی ہیں۔ القاعدہ کے ارکان جن کے افغان طالبان کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں، وہ ٹی ٹی پی کو پاکستان میں کارروائیوں کے لیے مدد فراہم کر رہے ہیں۔