سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

پاکستان سپریم کورٹ کے فل کورٹ بینچ نے آج کے فیصلے میں جہاں نئی تاریخ رقم کر دی ہے وہی کئی نئے قانونی، سیاسی اور تحریک انصاف کی قیادت کے حوالے سے سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔

 8 فروری 2024 کے عام انتخابات منعقد ہونے سے پہلے ہی ان انتخابات کو خوب متنازعہ بنایا گیا اور انتخابات کے حوالے سے پاکستان کی بھیانک تاریخ کو دہراتے ہوئے پاکستان کی سب سے بڑی اور سب سے مقبول جماعت تحریک انصاف سے اس کا انتخابی نشان بلا چھین لیا گیا۔ اور 9 مئی کی آڑ میں پی ٹی آئی کی ساری قیادت کو پابند سلاسل کر کے اس کے مخالفین کی راہ ہموار کر دی گئی. بات یہی تک نہ رہی بلکہ عین انتخابات سے کچھ پہلے عمران خان کو یکے بعد دیگرے سخت سزائیں سنا دی گئیں تاکہ عوام میں یہ تاثر پھیلایا جائے کہ اب عمران خان قصہ پارینہ ہو گئے. اس طرح امید کی جا سکتی تھی کہ پاکستان کی نظریات سے خالی سیاست میں لوگوں کے رخ کو موڑا جا سکتا تھا. کیونکہ پاکستانی عوام کسی نظریے کی بنیاد پر نہیں شخصیات کی بنیاد پر اپنے ووٹ کا فیصلہ کرتے ہیں. اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے۔ ووٹ شخصیات کے ہیں. عمران خان، ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف، مولانا فضل الرحمن اور کبھی الطاف حسین بھی ہوتے تھے.

8  فروری کے انتخابات سے پہلے ریاست (اسٹیبلشمنٹ کا دوسرا نام ریاست ہے) کی طرف سے پی ٹی آئی کے خلاف جبر کے تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود عوام  نے اپنا فیصلہ عمران خان کے حق میں دے دیا جو عمران مخالف قوتوں کے لیے حیران کن اور ناقابل قبول تھا۔ لہذا جیسے ہی ٹی وی چینلوں پر ہر طرف سے تحریک انصاف کے آزاد امیدواروں کی مختلف انتخابی نشانات پر جیتنے کی خبریں سامنے آنے لگیں تو پھر الیکشن کمیشن کی ملی بھگت کے ساتھ طاقتور حلقوں نے ریٹرننگ افسران کے دفتروں پر قبضہ کر کے فارم 47 مرتب کیے اور بھاری اکثریت سے جیتے ہوئے پی ٹی آئی کے امیدواروں کی جیت کو ہار میں تبدیل کر دیا۔

اب اس سے آگے پی ٹی آئی کی قیادت کی بدحواسیاں اور نالائقیاں ملاحظہ کریں، تحریک انصاف کی مرکزی قیادت میں سے کچھ کے جماعت چھوڑ جانے اور باقی کے پابند سلاسل ہونے کے بعد جماعت کی قیادت پاکستان کے چوٹی کے وکلا کے ہاتھ چلی گئی۔ ان وکلا کی قابلیت کا بھانڈا آج سپریم کورٹ نے توڑ پھوڑ کے سب کے سامنے رکھ دیا ہے.۔کیا ان وکلا  نے کبھی پاکستان کا آئین نہیں پڑھا تھا؟ کیا یہ سیاسی جماعتوں کے متعلق قوانین سے نابلد تھے؟ بلکہ ان کو تو اپنی جماعت کے آئین کا بھی علم نہیں ہے۔ ورنہ یہ وقت پر جماعتی انتخابات کروا کر الیکشن کمیشن کو بے ایمانی اور دھاندلی کا موقع کیوں دیتے؟
الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو جماعتی انتخابات کروانے کے کئی مواقع دیے مگر تحریک انصاف اپنی جماعت میں انتخابات کروانے میں ناکام رہی جس کی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے جماعت کو اس کے انتخابی نشان سے محروم کر دیا۔ لیکن یہ کسی بھی فیصلے میں نہیں لکھا کہ تحریک انصاف جماعت ختم ہو گئی ہے۔ اب تحریک انصاف کو چاہیے تھا کہ اپنے امیدواروں کو مختلف نشانات پر الیکشن جیتنے کے بعد تحریک انصاف کے نام پر ہی اسمبلیوں میں اکٹھا رکھتے اور اپنی مخصوص نشستوں کا مطالبہ کرتے۔ یہ بات درست ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے تحریک انصاف کے کامیاب امیدواروں کو آزاد قرار دے کر انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ کسی دوسری جماعت میں شامل ہو جائیں، لیکن تحریک انصاف کی قیادت کو الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ عدالت میں چیلنج کرنا چاہیے تھا۔ اور یہ کہنا چاہیے تھا کہ ہمارا انتخابی نشان واپس لیا گیا ہے بطور جماعت تو پی ٹی آئی موجود ہے۔ اسی کی بنیاد پر مخصوص سیٹوں کی بھی حقدار ہے.۔لیکن پی ٹی آئی کی قیادت کو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے، کس جماعت میں جائیں؟

آخر کار اپنے ممبران کو ایک ایسی جماعت میں شامل کیا جس نے انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیا تھا، نہ مخصوص سیٹوں کے امیدواروں کی فہرست دے کر ان سیٹوں کا مطالبہ کیا تھا۔ اس طرح الیکشن کمیشن کو پھر موقع فراہم کیا کہ وہ پی ٹی آئی کے خلاف مزید انتقامی کاروائیاں کر سکے۔ پھر الیکشن کمیشن کی بدنیتی اس وقت کھل کر سامنے آ گئی جب اس نے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں میں تقسیم کر دیں جس کی وہ آئین پاکستان کے مطابق کسی بھی طرح حقدار نہ تھیں۔ سنی اتحاد کونسل نے جب الیکشن کمیشن اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تو سپریم کورٹ نے اس پر فل کورٹ بینچ بنا کر اس مقدمے کو اہمیت دی۔ دوران سماعت کسی کو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ یہ مقدمہ سنی اتحاد کونسل کا ہے یا پی ٹی آئی کا، حالانکہ پی ٹی آئی نے تو کوئی مقدمہ دائر ہی نہیں کیا تھا۔ لیکن سماعت کے دوران بار بار پی ٹی آئی سے ہونے والی زیادتیوں کی بازگشت سنائی دیتی رہی اور کئی ججز کے ریمارکس میں بھی یہ ذکر ہوتا رہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔

پی ٹی آئی کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی گونج سپریم کورٹ سے نکل کر میڈیا میں بھی سنی جاتی رہی اور پھر پاکستان کی تاریخ کا وہ فیصلہ آیا جس کی قانونی حیثیت کچھ بھی ہو مگر اخلاقی طور پر یہ فیصلہ تاریخ کے سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ ایک طرف یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ جب تحریک انصاف نے مقدمہ ہی دائر نہیں کیا اور مخصوص نشستوں کا مطالبہ ہی نہیں کیا تو پھر انہیں یہ سیٹیں کیوں کر دی جا رہی ہیں۔ لیکن دوسری طرف پہلی بار سپریم کورٹ نے ریاست کے دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اصل حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے انصاف پر مبنی فیصلہ دیا ہے۔ اس فیصلے کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ اس سے انصاف کے راستے کھلیں گے اور اگر اب سیاسی قیادت بالخصوص پی ٹی آئی کی قیادت نے ہوشمندی سے کام لیا تو ملک میں
استحکام آئے گا اور جمہوریت مضبوط ہوگی۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ اس فیصلے کو اپنی انا کا مسلہ نہ بنائے بلکہ اسے قبول کرتے ہوئے فوری طور پر تحریک انصاف کی قیادت کو مذاکرات کی دعوت دے کر اس فیصلے سے فائدہ اٹھایا جائے۔

ادھر اسلام آباد ہائیکورٹ، اسلام آباد کی تین نشستوں پر دھاندلی کے مقدمہ میں بھی ن لیگی قیادت تاخیری حربے تو اختیار کر سکتی ہے مگر وہ فیصلہ بھی اب نوشتہ دیوار ہے کہ اسلام آباد کی تینوں نشستیں پاکستان تحریک انصاف کو ہی ملیں گی، جس سے پورے پاکستان میں ہونے والی دھاندلی سے پردہ بھی اٹھ جائے گا۔ اب تحریک انصاف کو بھی چاہیے کہ وہ حکومت اور اپنے مخالف سیاستدانوں سے بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہو اور ملکی مفاد میں اپنے اندر لچک پیدا کرے۔