جنگ بندی کے بعد غزہ میں آزاد فلسطینی حکومت کے قائم ہونی چاہئے: حماس

  • ہفتہ 13 / جولائی / 2024

حماس کے پولیٹیکل بیورو کے ایک رکن نے کہا ہےکہ جنگ بندی مذاکرات کے دوران حماس کی تجویز ہے کہ جنگ کے بعد کےغزہ اور اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے کا انتظام غیرجماعتی شخصیات پر مشتمل ایک آزاد حکومت چلائے۔

حسام بدران نے قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری مذاکرات کے بارے میں ایک بیان میں کہا کہ ہم نے تجویز پیش کی ہے کہ جنگ کے بعدایک غیر جانبدار قومی حکومت غزہ اور مغربی کنارے کا انتظام چلائے۔ جنگ کے بعد کسی بیرونی مداخلت کے بغیر غزہ کو چلانا فلسطینیوں کا اندرونی معاملہ ہے۔ ہم غزہ میں جنگ بندی کے اگلے دن کسی بیرونی فریق کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے۔

حماس کی تجویز ہے کہ یہ عبوری انتظامیہ جنگ کے بعد ابتدائی مرحلے میں غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کے امور کو سنبھالے گی، جس سے عام انتخابات کی راہ ہموار ہو گی۔ یہ تبصرے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے اس مطالبے کے بعد سامنے آئے ہیں کہ مصر کی سرحد کے ساتھ واقع غزہ کے علاقے، فلاڈیلفی کوریڈور، پر اسرائیلی کنٹرول بر قرار رکھا جائے۔

یہ شرط حماس کے اس موقف سے متصادم ہے کہ اسرائیل کو جنگ بندی کے بعد غزہ کے تمام علاقوں سے دستبردار ہونا چاہیے۔ نیتن یاہو نے جمعرات کو کہا کہ فلاڈیلفی کوریڈور کا کنٹرول مصر سے حماس کو اسمگل کیے جانے والے ہتھیاروں کو روکنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

مذاکرات مصر میں ہو رہے ہیں جن کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کے ساتھ ساتھ حماس کے پاس اب تک قید یرغمالوں کی واپسی ہے۔