عدت میں نکاح کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی بری، رہا کرنے کا حکم

  • ہفتہ 13 / جولائی / 2024

بانی پی ٹی آئی عمران خان  اور بشریٰ بی بی کو عدت نکاح کیس سے بری کردیاگیا۔ عدالت نے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدت میں نکاح کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلیں منظور کرلی گئیں۔ اپیلیں منظور ہونے پر ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا گیا۔ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف دورانِ عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف مرکزی اپیلوں پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے کی۔

آج خاور مانیکا کے وکیل اور بانی پی ٹی آئی کے وکلا اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ خاورمانیکا کے وکیل نے کہا کہ ٹرائل کے دوران بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکلا کی جانب سے گواہ لانے کا کہا گیا، اگر گواہ لانا چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ عدالت کسی بھی وقت شواہد لے سکتی ہے۔ کل آپ نے فقہ حنفی کا پوچھا تھا، کہیں بھی ذکر نہیں کیا گیا کہ حنفی ہیں۔ مفتی سعید نے بھی یہ نہیں کہا کہ دونوں حنفی ہیں۔

خاور مانیکا کے وکیل نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ کہتے ہیں کہ ان کے کلائنٹ بانی پی ٹی آئی نے شادی کی ہے۔ انہیں عدت کے بارے میں علم نہیں، تمام تر ذمہ داری بشریٰ بی بی کے کندھوں پر منتقل کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شوہر عورت کی قربانیوں کو سائیڈ پر رکھ کر کہہ رہا ہے میں نے کچھ نہیں کیا۔ خاتون مشکل وقت میں خاوند کے ساتھ کھڑی رہی، ایک لیڈر سے ایسی توقع نہیں کی جاسکتی۔

خاور مانیکا کے وکیل نے کہا کہ بیوی بنی گالہ کی آسائش چھوڑ کر اڈیالہ جیل تک چلی گئی۔ جج افضل مجوکہ نے کہا کہ ایسے ہو ہی نہیں سکتا اگر شادی ہوئی تو دونوں ذمہ دار ہیں۔

جج افضل مجوکہ بولے کہ پراسیکیوشن کی ڈیوٹی ہے کہ وہ ثابت کرے کہ عدت پوری نہیں۔ بشریٰ بی بی کے بیان کو آپ اس کے خلاف کیسے استعمال کرسکتے ہیں۔ شرعی تقاضے پورے کرنے کا ذکر تو کیا گیا ہے، بیان میں تو کہا گیا ہے کہ نکاح کے لیے شرعی تقاضے پورے ہیں۔

جج نے کہا کہ ملزم کا کام ہے کہ عدالت کے ذہن میں شک ڈالے۔ ثابت کرنا تو پراسیکیوشن کا کام ہے۔ وکیل نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میں نے فرد جرم نہیں سنی لیکن یہ بھی کہا کہ یہ جھوٹا کیس ہے۔ خاور مانیکا کا سافٹ ویئر اپڈیٹ ہوا۔

عدالت میں بشریٰ بی بی کے وکیل نے کہا کہ ہم ریمانڈ بیک نہیں چاہ رہے ہم صرف میرٹ پر فیصلہ چاہتے ہیں۔ عدالت میں ایڈووکیٹ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ خاور مانیکا نے ٹی وی انٹرویو میں بھی میری سابقہ اہلیہ کے الفاظ استعمال کیے تھے۔ سیکشن 494 کا بھی کوئی ثبوت موجود نہیں ہے، وہ کیسے سزا مانگ رہے ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 496 بی ڈالا گیا مگر وہ چارج فریم میں نکال دیا گیا، اللہ داد کیس میں سپریم کورٹ نے سیکشن 7 کے بارے میں واضح کیا کہ 4 سال بعد دوبارہ سابق شوہر کی بیوی تصور نہیں کیا جاسکتا۔