مجاہد علی کے اداریے اور پاکستان کی تاریخ
- تحریر زاہد حسن
- اتوار 14 / جولائی / 2024
وہ قیامتیں جو گزر گئیں
تھیں امانتیں کئی سال کی
اور منیر نیازی کی اس عمدہ اور خوبصورت غزل کا ایک اور شعر ہے:
وہی قرب و دور کی منزلیں
وہی شام خواب و خیال کی
اور پھر ایک شعر ہے:
نہ مجھے ہی اس کا پتہ کوئی
نہ اسے خبر مرے حال کی
مجھے یاد ہے کہ 2006 کی ایک شام جب میں ، انور سن رائے ، عذرا عباس اور منیر نیازی یار عزیز فیصل حنیف کی گاڑی میں سوار لاہور کی سڑکوں پر آوارہ گردی میں مصروف تھے اور گاڑی میں بہت ہی آہستہ لیکن نہایت مترنم آواز میں اقبال بانو یہ غزل گا رہی تھیں، اور وہ ’’وہ قیامتیں جو گزر گئیں‘‘ والے شعر پر پہنچیں تو منیر نیازی کی آنکھوں میں بے ساختہ آنسو رواں ہو گئے ۔ اس کے بعد منیر نیازی نے جو گفتگو ، اسے پھر کسی موقع کیلئے اٹھا رکھتے ہیں ۔
فی الحال اسی شعر سےوابستہ ایک اور کتاب کا ذکر مقصود ہے ۔ پورا شعر بھی نہیں بلکہ سید مجاہد علی نے اپنی ضخیم اور دس جلدوں پر مشتمل اداریوں کی کتاب کا نام ’’امانتیں کئی سال‘‘ رکھا ہے۔ جس کا ایک منطقی اور معنوی جواز بھی ہے، اور وہ یہ کہ اپنے رسالہ ’’کاروان‘‘ ناروے میں وہ جو کئی برسوں تک اداریے لکھتے رہے، انہیں یکجا کر کے انہیں بڑے سائز کی دس جلدوں میں چھپوا دیا ہے۔ میرا اپنا خیال یہ ہے کہ اردو صحافت کی تاریخ میں اتنے برسوں پر محیط صحافتی اداریوں کو ایک ساتھ پڑھنے والوں کے سامنے پیش کرنے کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ اور آنے والے وقتوں میں اس لیے بھی مشکل ہے کہ دنیا کاغذ کی بجائے سوشل میڈیا پر منتقل ہوتی جا رہی ہے اور بہت جلد لکھا اور چھپا ہوا حرف ’’تاریخ‘‘ کا حصہ بننے والا ہے۔
’’امانتیں کئی سال کی‘‘ کو چھپے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ لاہور الحمرا ہال کی ادبی بیٹھک میں اس حوالے سے ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت عطا الحق قاسمی نے کی۔ مہمان خصوصی سید مجاہد علی تھے۔ نظامت کے فرائض پروفیسر محمد نعیم ورک نے ادا کئے ۔ جبکہ گفتگو کرنے والوں میں سہیل وڑائچ ، وجاہت مسعود ، سعادت سعید ، سجاد میر اور نجیب جمال شامل تھے ۔ بنیادی طور پر ان کے 2014 سے 2024 تک کے وہ اداریے ہیں جو ’’کاروان‘‘ اور بعد ازاں ’’ہم سب‘‘ پر شائع ہوتے رہے۔ مقررین نے جہاں ایک طرف اتنے بڑے اور وسیع کام کو یکجا کرنے پر سید مجاہد علی اور ان کے پبلشر کو خراج تحسین پیش کیا وہیں پر انہوں نے کہا کہ سید مجاہد علی نے دراصل ان اداریوں میں دنیا بھر کی سیاسی و سماجی اور خاص طور پر ساؤتھ ایشیا اور اس میں بھی برصغیر پاک و ہند کی باہمی چپقلش و آویزش ، دونوں ممالک کی معاشی صورتحال ، یہاں پر موجود جمہوریتوں کا تجزیہ اور مستقبل میں ان ممالک کی دنیا بھر میں حیثیت اور وجودی اہمیت کو موضوع بنایا ہے۔
اگرچہ وہ گزشتہ انچاس پچاس سے ایک سیکنڈے نیوین ملک کے باسی ہیں، تاہم چونکہ ان کی جڑیں اس دھرتی (پاکستان) میں پیوست ہیں، اس لیے ان کے اداریوں اور خاص طور پر صحافتی تجزیوں کا موضوع بھی پاکستان ہی ہوتا ہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ اس ملک میں رہ رہے صحافی بھی اتنی گہرائی اور دکھ کے ساتھ پاکستان کے سیاسی و معاشی معاملات پر قلم نہیں اٹھاتے ہوں گے جتنی توجہ اور تحقیق کے ساتھ مجاہد علی اس پر غور کرتے اور عمیق نظری سے لکھتے ہیں۔ اس پر طرفہ یہ کہ وہ یہ کام روزانہ بلاناغہ کرتے ہیں جو ان کے اخلاص اور ثابت قدمی کا اظہار تو ہے ہی، ان کے علم و مشاہدے پر بھی دلیل ہے۔
اس پر وجاہت مسعود کا کہنا یہ بھی تھا کہ بعض اوقات وہ اتنے حساس اور اہم موضوع پر لکھ بھیجتے ہیں کہ اس بات کا کسی سیاسی رپورٹر کو بھی پتہ نہیں ہوتا۔ انسان سوچتا ہے کہ اتنے دور بیٹھے وہ اس حقیقت تک کیسے رسائی حاصل کر سکتے ہیں، جب اس کیلئے ان سے ریسورس اور حوالہ پوچھا جاتا ہے تو وہ پلک جھپکتے میں بین الاقوامی نیوز سروسز اور رسائل و جرائد کا حوالہ لف کر کے بھیج دیتے ہیں۔ یہی ایک زیرک ، دانا ، معاملہ فہم اور دور اندیش صحافی کی بنیادی خوبی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دور دیس میں بیٹھے بھی پاکستان میں چلنے والی تحریکوں، سیاسی تبدیلیوں ، حکومتوں کی اتھل پتھل اور یہاں ہونے والے دھرنوں اور واقعات پر بھی چشم کشا تبصرے کرتے رہے ہیں۔
نجیب جمال کا کہنا تھا کہ سید مجاہد علی کے یہ اداریے دراصل پاکستان کی متوازی تاریخ مرتب کرتے ہیں۔ انہوں نے ان کے سیاسی سفر کے ساتھ ساتھ عملی زندگی کے سفر پر بھی سرحاصل گفگو کی۔ سعادت سید کے نزدیک ان کا یہ کام کسی انسائیکلو پیڈیا سے کم نہیں، جس سے صحافت اور سیاست سے تعلق رکھنے والے طالبعلم خاطر خواہ فائدہ اٹھا پائیں گے۔ صاحب صدارت عطا الحق قاسمی کا کہنا تھا کہ سید مجاہد علی نے اپنے اداریوں میں کسی مخصوص سیاسی جماعت کی بجائے پاکستان کی نمائندگی کی ہے جو قابل ستائش عمل ہے۔
سید مجاہد علی نے اپنی کالموں کی کتاب ’’گفتگو‘‘ کے حوالے سے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) میں آرٹ آف ریڈنگ اینڈ رائٹنگ کے طلبا و طالبات سے ایک لیکچر کی صورت میں بات چیت کی، یہ بات چیت نظری اور فکری حوالوں سے ثمر آور ثابت ہوئی کہ بچوں نے ان سے اس ادبی ، فکری اور صحافت سے متعلق مکالمہ کے دوران بہت کچھ سیکھا، وہ کم و بیش پچاس سال پر محیط اپنے سفر زندگی اور اس دوران دنیا بھر کے مختلف خطوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو زیر بحث لائے۔ طلبا نے اس دوران ان سے بعض نہایت حساس اور سلگتے ہوئے موضوعات پر سوالات پوچھے، جن کا انہوں نے بہت عمدگی کے ساتھ جواب دیا۔ ان کی کتاب ’’امانتیں کئی سال کی‘‘ کی طرح یہ مکالمہ بھی ہر حوالے سے بھرپور اور مفید ثابت ہوا۔