بھارت سے براستہ واہگہ پاکستان واپسی (آخری قسط)
- تحریر خالد محمود اوسلو
- اتوار 14 / جولائی / 2024
جلیانوالہ باغ اور گولڈن ٹمپل دیکھنے کے بعد پاکستان جانے کے لیے واہگہ بارڈر کا رُخ کیا۔ امرتسر کے بڑے چوک سے گزرتے ہوئے سفید رنگ کے سنگ مرمر کے ایک اُونچے چبوترے پر رنجیت سنگھ کا گھوڑے پہ سوار مجسمہ نظر آیا جو پنجاب میں سکھ حکمرانی اور عروج و عظمت کا نشان ہے۔
1849 میں چلیانوالہ کے مقام پر انگریزوں کے ہاتھوں شکست کے بعد پنجاب کی ریاست اور سکھ حکمرانی ہمیشہ کے لیے قصہ پارینہ ہو گئی۔ اس کے بعد برصغیر میں سکھوں کواقتدار نہ ملا۔ امرتسر سکھ مذہب کا مقدس اور خوبصورت شہرہے۔ اس کی آبادی ہندو اکثریت پر مشتمل ہے۔1947 میں یہاں پر مسلمان اکثریت میں تھے۔ باہر بازار میں شام کو واہگہ بارڈر پر پرچم اُتارنے کی ہونے والی تقریب کے لیے اونچی اونچی آوازیں لگا کر لوگوں کو وہاں لے جانے کی سروس کی پیشکش کی جا رہی تھی۔ یہ تقریب دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کے باوجود ایک خوشگوار تفریح بن چکی ہے جسے دیکھنے کے لیے دونوں اطراف کے لوگ بڑی تعداد میں جمع ہوتے ہیں۔ اور اپنے اپنے ملک کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کرتے ہوئے اس کے اختتام پر خوشی خوشی گھروں کو لوٹتے ہیں۔ یہ تقریب دشمنی کی فضا میں جکڑی دو قوموں کو کچھ لحموں کے لیے کھیل کے مقابلہ جیسے سماں میں محو کر دیتی ہے، جس میں برتری کا فیصلہ نعروں کی بلندی اور فوجیوں کے جوتوں سے پیدا دھمک کرتی ہے۔
یہ دنیا بھر میں کسی بھی دو ممالک کے بارڈر پر منعقد ہونے والی ایک منفرد تقریب ہے۔امرتسر سے واہگہ بارڈر ۳۰ کلومیٹر اور لاہور ۵۴ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ امرتسر میں لاہور کی میٹرو بس کی طرح سڑک کے درمیان جنگلہ لگا ہوا دیکھا لیکن وہاں عام ٹریفک چل رہی تھی ۔ پوچھنے پہ ڈرائیور نے بتایا کہ یہ سروس یہاں پر شروع کی گئی تھی لیکن خسارے میں جانے پر اسے بند کر دیا گیاہے۔ امرتسر سے واہگہ بارڈر تک سڑک کے دونوں کنارے آبادی ہی ہے۔ واہگہ بارڈر یا آٹاری جو اس کا بھارتی نام ہے سے چند میل دور سے ہی وہاں پر لگے ہوئے انڈیا اور پاکستان کے پرچم لہراتےنظر آنے لگتے ہیں۔ بھارتی جھنڈے کا پول 127میٹر اور پاکستان کا 122 میٹر اونچا ہے۔ بارڈر پہ پہنچ کر وہاں سڑک دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے۔ ایک راستہ بارڈر عبور کرنے والوں کے لیے ہے اور دوسرا تماشیوں کے بیٹھنے والےاسٹینڈ کو جاتا ہے۔
امیگریشن بلڈنگ کو جانے والے گیٹ پر گاڑی ڈرائیور کے پاس مطلوبہ شناختی دستاویز نہ ہونے پر گاڑی وہیں چھوڑ کر آگے اپنی مدد آپ جانے کا سوچ ہی رہے تھے کہ بارڈر پہ موجود ایک قُلی ٹرالی لے کر پہنچ گیا اور سامان لے کر پیدل امیگریشن عمارت تک لے گیا۔ بھارتی امیگریشن عملہ سفری کاغذات کی جانچ پڑتال دوستانہ ماحول میں کرتے ہوئے گپ شپ بھی لگاتا رہا۔ ناروے اور پاکستان کے علاوہ بھارت میں قیام کے تاثرات کا پوچھتے رہے۔ وہاں سرحد عبور کرنے والوں میں ایک پاکستانی ہندو خاندان کے علاوہ چند لوگ ہی تھے۔ عملہ کی شائستگی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ کر پاکستان کی جانب زیرو لائن کی طرف چل دیے۔ زیرو لائن پر پہنچ کر اپنا سامان لیے پیدل چل کر پاکستان میں داخل ہوتے ایک پاؤں پاکستان دوسرا بھارت میں رکھ کر دو نوں ملکوں کی ہمسائیگی کی حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے ماضی کے المناک مناظر ذہن میں گھومنے لگے، جب تقسیم کے وقت ہجرت کرنے والے انتہائی کسمپری اور لاچاری کے عالم میں اپنے آبائی گھروں سے غم ہجرت لیے اسی مقام سے اپنے نئے وطنوں میں داخل ہوئے تھے۔ جس پرامریتا پریتم نے لکھا:
اج اکھاں وارث شاہ نو ں کتوں قبروں وچوں بول
تے آج کتاب عشق دا کوئی اگلا ورق پُہرول
آٹھ دردمنداں دیا درد یا اٹھ تک اپنا پنجاب
اج بیلے لاشاں وچھیاں تے لہو دی بھری چناب
یہیں پر دو مرتبہ ہونے والی گھمسان کی جنگیں بھی لڑی گئیں۔ صدر ٹیٹو نے ایک بار کہا تھا کہ آپ اپنے دوست چُن سکتے ہیں ہمسائے نہیں۔ اُمید ہے اس میں پوشیدہ دانش کو سمجھتے ہوئے دو ہمسائے تنازعوں کوحل کرتے آگے بڑھیں گے۔ بارڈر عبور کر کے ذہنی طور پر ایک ہلکا پن سا محسوس ہو رہا تھا۔ شاید یہ گھر پہنچنےکا احساس ہو۔ حالانکہ بھارتی میزبانی میں بھرپور اپنائیت تھی۔ اس سفر کی کہانی یہاں پہ ہی ختم ہوتی ہے۔
پاکستان کے حالات آپ سب مجھ سے بہتر جانتےہیں۔