عمران خان پر غداری کا مقدمہ چلانے اور تحریکِ انصاف پر پابندی کا فیصلہ

  • سوموار 15 / جولائی / 2024

حکومت نے پاکستان تحریکِ انصاف پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی حکومت نے عمران خان، سابق صدر عارف علوی اور سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کیس دائر کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے پیر کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ تحریکِ انصاف پر پابندی کی کابینہ سے منظوری کے بعد معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں بھیجا جائے گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے خلاف ایسے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں جس بنا پر اس پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ پاکستان اور پی ٹی آئی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس، نو مئی کے واقعات، سائفر کے استعمال سے بین الاقوامی تعلقات متاثر کرنے اور پارٹی کی ملک مخالف سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب تحریکِ انصاف کے وکیل علی ظفر کا کہنا ہے کہ جو لوگ تحریکِ انصاف پر پابندی لگانے کی بات کر رہے ہیں وہ کسی اور دنیا میں رہ رہے ہیں۔ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے علی ظفر کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستوں کے کیس کے فیصلے سے حکومت کو صدمہ ہوا ہے۔ اس کے بعد وہ ایسی ناجائز باتیں کر رہے ہیں۔ علی ظفر کا کہنا تھا کہ آرٹیکل چھ کا مقدمہ چلانے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

وفاقی حکومت نے مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحادیوں سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔ درخواست میں قانون سقم سمیت دیگر سوالات اٹھائے جائیں گے۔ یہ سوال اٹھایا جائے گا کہ جو جماعت عدالت کے سامنے فریق ہی نہیں تھی اسے کیوں ریلیف دیا گیا۔ آئین کی تشریح کرنے کا اختیار سپریم کورٹ کو ہے لیکن کیا آئین میں ترمیم کا اختیار قومی اسمبلی کو نہیں ہے؟

سپریم کورٹ آف پاکستان نے جمعے کو کثرتِ رائے سے مخصوص نشستوں سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھنے کے فیصلے کو کالعدم کردیا تھا۔ سپریم کورٹ کے 13 رکنی بینچ میں سے آٹھ ججز نے اپنے فیصلے میں تحریکِ انصاف کو مخصوص نشستوں کا حق دار قرار دیا تھا۔

وزیر اطلاعات  نے کہا کہ حکومت ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے کوشاں ہے جب کہ ملک میں ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہمارے اہداف مقرر ہیں۔ 7 خون معاف کےنام سے ٹریلر چلایا جارہا ہے، یہ کچھ بھی کریں، ملک کے خلاف سازش کریں، فارن فنڈنگ لیں، بیرون ملک لابنگ کریں، فرمز ہائی کریں، پاکستان کے خلاف قراردادیں پاس کرائیں، سائفر کا ڈرامہ رچائیں، 9 مئی کے حملے کریں، ملک کو ڈیفالٹ کرنے کی کوشش کریں، آپ کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔ یہ ایک تاثر دیا جا رہا ہے ملک میں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ مخصوص ذہنیت کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔ ہمارے تحمل اور برداشت کو کمزوری سمجھاگیا، اس کا بھرپور جواب دوں گا۔ بس بہت ہوگیا، اب مزید نہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اور ملک ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمارے اخلاق کو کمزوری سمجھا جاتا ہے تو میں واضح کردوں کہ حکومت یہ ارادہ رکھتی ہے کہ جس جماعت نے فارن فنڈنگ لی، الیکشن کمیشن نے کہا کہ آپ نے ممنوعہ فنڈنگ لی، اس حوالے سے واضح ثبوت ہیں کہ فنڈنگ دینے والوں میں بھارتی نژاد امریکی شامل ہیں۔ امریکا میں موجود مخصوص لابی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ فارن فنڈنگ کا فیصلہ آپ کے خلاف آیا ہے۔ مخلتف طریقوں سے اس کیس کو 6 سال تک تاخیر کا شکار کیا کیونکہ آپ کے پاس اپنے دفاع میں کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔

فنڈنگ کرنے والے اس لیے فنڈز دیتے ہیں کہ جب یہ جماعت اقتدار میں آئے گی تو وہ ایسے فیصلے کرے گی جو ان کے حق میں ہوں گے۔ اس کے علاوہ 9 مئی کو ذاتی مفاد کے لیے ملکی دفاع پر حملہ کیا۔ آپ کا پورا خاندان اس میں ملوث تھا، تینوں بہنیں کور کمانڈر ہاؤس کے باہر موجود تھیں، آپ کا بھانجا وردی کی بے حرمتی کر رہا تھا۔ آگ لگائی جا رہی ہے، آپ (عمران خان) نے انتشار کی سیاست اور آئین کیخلاف ورزی کو فروغ دیا، ملک کے دفاعی اداروں کو نقصان پہنچایا۔

عطا تارڑ نے کہا کہ بطور ایک پاکستانی سوال کرتا ہوں کہ آپ کو کس نے اختیار دیا کہ طالبان کو واپس لا کر بسائیں۔ پھر ملک کے دفاعی ادارے پر حملہ آور ہوجائیں۔ ایک طرف دہشت گردوں کو پناہ دے رہیں، دوسری طرف فوج پر حملہ کر رہے ہیں۔ آپ اس سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آئین پاکستان کے تحت آرٹیکل 17 ہے جو سیاسی جماعتوں پر پابندی لگانے کے حوالے سے حکومت کو اختیار دیتا ہے۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ کو بھیجا جائے گا، تمام موجودہ ثبوتوں کو دیکھتے ہوئے قابل اعتماد شواہد موجود ہیں کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگائی جائے۔ عطا تارڑ نے کہا کہ آپ نے آئی ایم ایف ڈیل کو سبوثاز کرنے کی کوشش کی۔ سیاسی مفادات کی خاطر آئی ایم ایف کو خط لکھنے کی حد تک چلے گئے۔ تاکہ پاکستان ڈیفالٹ کرجائے، یہ آپ کی کوشش تھی، آپ نے کوشش کی کہ ملک میں عدم استحکام ہو، انتشار ہو، یہاں کبھی بھی استحکام نہ آئے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ آپ نے تحریک عدم اعتماد کے دوران آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسمبلیوں کو توڑا تھا۔ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری چار سال تک اسٹے آرڈر پر اسمبلی میں بیٹھے رہے، اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے ہوئے اسمبلی کو تحلیل کیا۔ سپریم کورٹ نے بھی کہا کہ یہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان، سابق صدر عارف علوی اور سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کیخلاف آرٹیکل 6 کا ریفرنس سپریم کورٹ کو بھیجا جائےگا۔ یہ ریفرنس بھی کابینہ کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ کو ارسال کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ کی سمت کا درست تعین ہونا چاہیے ورنہ کل کو جس کا دل چاہے گا وہ بھی اس طرح کے سنگین جرائم کرے گا۔ جرائم کی فہرست اتنی طویل ہے کہ آپ اسمبلی توڑتے ہیں، آئین کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو بھی کوئی نہیں پوچھتا۔ ان تینوں اشخاص کے خلاف کارروائی کو آگے بڑھائٰیں گے اور کابینہ سے منظوری کے بعد یہ معاملہ سپریم کورٹ کو بھیجا جائےگا۔

ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک موجود تارکین وطن ہمارے سروں کا تاج ہیں لیکن مخصوص لابیاں وہاں ہمارے ملک کے خلاف سازش میں مصروف ہیں۔ حکومت نے ان کے خلاف سخت بھی تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، قانون کے مطابق اگر بنتا ہوا اور ان کے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک کرنے پڑے تو یہ تمام اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اور اسمبلی میں ریاست مخلاف عناصر کے خلاف ایک قرارداد منظور کرائی جائے گی کہ یہ غداری کے مرتکب ہیں کہ ممنوعہ فنڈنگ لے کر پاکستان کے خلاف مہم چلاتے ہیں۔ علیحدگی پسند تحریکوں کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما اب دباؤ ڈال رہے ہیں کہ نیب توشہ خانہ کے کیس سے پیچھے ہٹ جائے۔ یہ لوگ صرف من مانی پر اترے ہوئے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ خان نہیں تو پاکستان نہیں۔ ہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے، آپ نے ٹھیک کہا ہے۔ حکومت نے بڑے فیصلے کے ہیں، اس سلسلے میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے اور معاملات کو آگے بڑھایا جائے گا تاکہ آئندہ کوئی فرد یا جماعت آئین توڑنے کا نہ سوچے۔

ایک سوال کے جواب میں عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کے حوالے سے کافی عرصے سے غور ہو رہا تھا۔ اس حوالے سے قانونی تیاری کافی حد تک ہے، ہو سکتا ہے کہ کابینہ کے اگلے اجلاس میں اس معاملے کو لایا جائے اور پروسیجر پر عمل کرتے ہوئے اس کو سپریم کورٹ کو بھجوایا جائے۔

دوسری طرف پاکستان پیپلزپارٹی نے پاکستان تحریک انصاف پر پابندی سے متعلق وفاقی حکومت کے اعلان کردہ فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ پیپلزپارٹی کے ذرائع کے مطابق سینئر رہنماؤں نے اپنی قیادت کو کھل کر حکومت کے فیصلے کی مخالفت کرنے کی تجویز دی ہے اور کہا ہے کہ وہ حکومت کے فیصلے کی حمایت نہیں کرتے۔

پیپلزپارٹی کے بعض رہنماؤں نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کی جانب سے اس حوالے سے اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کے بیان پر تعجب کا اظہار کیا۔