تحریک انصاف پر پابندی : تصادم کی طرف خطرناک قدم

وفاقی حکومت نے تحریک انصاف پر پابندی لگانے اور اس کے بانی چئیرمین عمران خان کے علاوہ سابق صدر عارف علوی اور قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف   شق  6 کے تحت  آئین سے غداری کا مقدمہ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت سپریم کورٹ کے اس حالیہ فیصلہ کے خلاف پٹیشن بھی دائر کی ہے جس میں  تحریک انصاف کو خصوصی نشستیں دینے  کا حکم دیاگیا تھا۔ ایسی ہی پٹیشن مسلم لیگ (ن) کی طرف سے بھی دائر کی گئی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے  آج  اسلام آباد میں   پریس کانفرنس  کرتے ہوئے   بتایا کہ تحریک انصاف پر پابندی کی کابینہ سے منظوری کے بعد معاملہ سپریم کورٹ   میں بھیجا جائے گا۔ اُن کا کہنا تھا  کہ پی ٹی آئی کے خلاف  ناقابل تردید شواہد موجود ہیں جن بنا پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’ پاکستان اور پی ٹی آئی ایک ساتھ نہیں چل سکتے‘۔ملک کے آگے بڑھنے میں تحریک انصاف بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ فارن فنڈنگ کیس، 9 مئی کے واقعات اور سائفر معاملات کے علاوہ امریکی کانگرس میں  منظورت کی گئی قرارداد کی  شکل میں ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر تحریک انصاف پر پابندی لگ سکتی ہے۔ ہم آئین کی شق 17 کے تحت پی ٹی آئی پر پابندی لگائیں گے ۔ ہمارے خیال میں اس شق کے تحت حکومت کے پاس کسی پارٹی پر پابندی لگانے کا اختیار موجود ہے۔

اسی پریس کانفرنس میں وزیر اطلاعات نے  عمران خان ، عارف علوی اور قاسم سوری کے خلاف آئین کی شق 6 کے تحت   غداری کا مقدمہ قائم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ اپریل 2022 میں عدم اعتماد تحریک کے سوال پر پیدا ہونے والے تنازعہ میں قاسم سوری کی رولنگ اور اس کے بعد سپریم کورٹ کی طرف سے اسے آئین کی خلاف ورزی قرار دینے کی بنیاد پر قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔   حکومت اور مسلم لیگ (ن) نے سپریم کورٹ کے 12 جولائی کے فیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی اپیل بھی دائر کردی  ہے ۔  سنی اتحاد کونسل کی طرف  سے دائر ہونے والی  پٹیشن پر فیصلہ سناتے ہوئے  سپریم کورٹ کے فل بنچ میں شامل اکثریتی ججوں نے  خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں تحریک انصاف کو اس کی پارلیمانی نمائیندگی کے حساب سے دینے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ تحریک انصاف ایک سیاسی پارٹی ہے اور کبھی اس  کی حیثیت ختم نہیں ہوئی۔ اس لیے  مخصوص نشستوں کی تقسیم کے معاملہ میں  سیاسی پارٹی کے طور پر اس کا  ’حق‘ اسے ملنا چاہئے۔  اب حکومت اور مسلم لیگ (ن) کی طرف سے نظر ثانی درخواستوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اپیل سنی اتحاد کونسل کی طرف سے دائر ہوئی تھی، تحریک انصاف تو  درخواست گزار ہی نہیں تھی ۔ عدالت ایک غیر متعلقہ فریق کو کیسے یہ نشستیں دینے کا حکم دے سکتا ہے۔ ان درخواستوں میں  حکم التوا کی استدعا بھی کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ  اسمبلیوں کے جو ارکان ’آزاد‘ حیثیت میں منتخب ہوئے تھے، وہ سنی اتحاد کے رکن بن چکے ہیں۔ اب عدالت کیسے انہیں اپنی سیاسی وابستگی کا ازسر نو طے کرنے کا حق دے سکتی ہے۔

اس اچانک حکومتی اعلان کے بعد ملک بھر سے شدید رد عمل دیکھنے میں آیا ہے۔ عام طور سے سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ  مخصوص نشستوں کے سوال پر حکومت شدید دباؤ  محسوس کررہی ہے جس کی وجہ سے یہ انتہائی اقدام کرنے کی کوشش کی  گئی ہے۔     وزیر اطلاعات کے اعلان کو تحریک انصاف پر  دباؤ بڑھانے اور دفاعی پوزیشن میں لانے کی کوشش بھی کہا جارہا ہے۔ مبصرین اور تجزیہ نگار  محسوس کرتے رہے ہیں کہ حکومت نہ تو معاشی طور سے عوام کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہوئی ہے اور نہ ہی  اس کے پاس کوئی ایسا سیاسی بیانیہ ہے جس کی بنیاد پر عوام کو متوجہ کیا جاسکے۔ اس کے مقابلے میں تحریک انصاف  اپنے خلاف انتقامی کارروائی اور   لیڈروں کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ انتخابات میں ہارنے کے بعد موجودہ حکومت  تحریک انصاف کے  خلاف دباؤ کے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے لیکن عمران خان چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔   حکومت اس سیاسی بیانیہ کے خلاف  کوئی واضح   رائے سامنے لانے میں  کامیاب نہیں ہوئی۔ حتی کہ  وہ انتخابات میں دھاندلی کے سوال پر بھی مسلسل دفاعی پوزیشن میں ہے ۔ لیکن کسی قسم کی عدالتی تحقیقات کروانے یا  دھاندلی کا الزام لگانے والی  پارٹیوں کے ساتھ  کسی مفاہمت میں بھی کامیاب نہیں ہوسکی۔

اس پس منظر میں اچانک تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا اعلان اور عمران خان کے خلاف آئین سے غداری کا مقدمہ  بنانے کے قصد سے  حکومت  شاید اس تاثر کو قوی کرنا چاہتی ہو کہ  اس کے  اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں ہے  اور وہ اپنی پانچ سال کی مدت پوری کرے گی۔ اس طرح  ایک طرف  تحریک  انصاف کی قیادت کے حوصلے پست کرکے انہیں کسی مفاہمت پر راضی ہونے پر آمادہ کرنا  سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہوسکتا ہے تو دوسری طرف  عالمی اداروں اور ان دوست ملکوں کو واضح پیغام دینا بھی مطلوب ہوسکتا ہے جو موجودہ غیر یقینی سیاسی صورت حال میں مالی امداد اور سرمایہ کاری سے اجتناب کررہے ہیں۔  حکومت کا خیال ہوسکتا ہے کہ ایسے اعلانات سے اس کی اتھارٹی کے بارے میں  شبہات ختم ہوجائیں گے ۔ اور تحریک انصاف اشتعال میں کوئی ایسی غلطی کرسکتی ہے جس کا فائدہ اٹھاتے  ہوئے اسے نقصان پہنچایا جاسکے۔  تاہم یہ سب قیاس آرائیاں ہیں ۔ حکومت کے اصل ارادوں کے بارے میں فی الوقت کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ اگرچہ متعدد سیاسی تبصرہ نگاروں کا خیال ہے کہ حکومت کا یہ اعلان محض دھمکی کی حد تک ہی ہوگا اور وہ اس پر عمل درآمد کے لیے قدم اٹھا کر مزید شرمندگی  نہیں سمیٹے گی۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کی روشنی میں اگر عدات عظمی کے ججوں کے  موڈ کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو یہ کہنا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ تحریک انصاف پر پابندی کا ریفرنس قبول نہیں  ہوسکے گا۔

عطا تارڑ  کے مطابق   حکومت آئین کی شق 17 کے تحت کسی بھی سیاسی پارٹی پر پابندی لگانے کا  اختیار رکھتی ہے۔ آئینی شق 17(2) کے مطابق ملک کے تمام شہریوں کو سیاسی پارٹی بنانے یا کسی سیاسی پارٹی کا رکن بننے کا حق حاصل ہے۔  البتہ  کسی بھی سیاسی جماعت کو قانون کے مطابق کام کرنا ہوگا اور وہ پاکستان کی خودمختاری اور اتحاد کے خلاف کام نہیں کرسکتی۔  اسی شق کے تحت  کوئی حکومت ان اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والی  کسی پارٹی پر پابندی لگائی سکتی ہے۔  البتہ ایسا کوئی فیصلہ دو ہفتے کے اندر سپریم کورٹ کی منظوری کے لیے  بھیجنا ضروری ہے جس کا فیصلہ اس بارے میں حتمی ہوگا۔

حکومتی اعلان  پر  سیاسی تجزیہ کرنے اور اس کے ملکی سیاست پر اثرات کا جائزہ لینے کے ساتھ ہی  ایک اہم اور مقبول پارٹی پرپابندی لگانے کے اچانک فیصلہ کے دیگر پہلوؤں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس  فیصلہ کو صرف حکومت بمقابلہ تحریک انصاف نہیں  دیکھا جاسکتا۔ وزیر اعظم شہبازشریف نے  دو ہفتے پہلے ہی قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان  کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا۔ انہوں نے وسیع تر قومی مفاد میں  تحریک انصاف کو  مذاکرات کی  پیشکش  کرتے ہوئے قومی مسائل حل کرنے میں شراکت داری کی دعوت دی  تھی۔  اسی تقریر میں انہوں نے عمران خان کو جیل میں پیش آنے والی مشکلات حل کرنے کا بالواسطہ وعدہ بھی کیا تھا اور کہا تھا کہ ’عمران خان اس حوالے سے ان سے براہ راست مدد مانگ سکتے ہیں‘۔   اس کے علاوہ  ’آپریشن عزم استحکام‘ کے معاملہ پر  تنقید سامنے آنے کے بعد حکومت نے کل  جماعتی کانفرنس بلانے اور اس مسئلہ  پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے  پر اتفاق کیا تھا۔ 

اس پس منظر میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اب تحریک انصاف پر پابندی لگانے کے اچانک فیصلہ  کی ضرورت کیوں  پیش آئی ہے۔  یہ  قیاس اپنی جگہ پر درست ہوسکتا ہے کہ  حکومت کو سپریم کورٹ کے فیصلہ سے صدمہ پہنچا ہے لیکن اس فیصلہ نے حکومتی اکثریت پر کوئی اثر نہیں ڈالا اور نہ ہی شہباز شریف کے اقتدار کو کوئی براہ راست خطرہ لاحق ہے کہ وہ ایک سیاسی پارٹی پر پابندی لگانے کا سنسنی خیز  فیصلہ کرلیں۔ ماضی میں کیے جانے والے ایسے فیصلوں  کا کبھی کوئی مثبت سیاسی اثر دیکھنے میں نہیں آیا۔ بلکہ جس پارٹی پر پابندی لگائی گئی ، اس نے نئے نام سے کام شروع کردیا۔ البتہ وقتی طور سے  سیاسی خوف کی صورت  ضرور پیدا کی گئی۔ شاید   یہی کسی پارٹی پر پابندی لگانے کا اہم ترین مقصد  ہوتا ہے۔

البتہ تحریک انصاف  پر پابندی کے حکومتی اعلان کو ایک دوسرے  حوالے سے دیکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ یہ واضح ہے کہ اسٹبلشمنٹ پوری طرح شہباز شریف کی حکومت کی پشت پر ہے اور اسے اقتدار  میں رہنے کے لیے ہر سہولت فراہم کررہی ہے۔   اس کے باوجود ایک طرف حکومت تحریک انصاف کے ساتھ مفاہمت کی باتیں کرتی رہی ہے اور اسے قومی  مقاصد یا  میثاق معیشت پر  متفق ہونے کی دعوت دیتی رہی ہے تو دوسری طرف سانحہ 9 مئی کے بعد سے  تحریک انصاف کے حوالے سے پاک فوج کا  رویہ غیر مفاہمانہ  رہا ہے۔    تمام فارمیشن کمانڈرز کانفرنس یا کور کمانڈرز  کانفرنس میں 9 مئی کے ملزموں کو قرار واقعی سزائیں دینے اور عبرت کا نشان بنانے کا اعلان سامنے آتا رہا ہے۔   البتہ فوج کی یہ خواہش ملکی عدالتی نظام میں ابھی تک پوری ہونے کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔   سانحہ 9  مئی کے ملزموں  پر فوجی عدالتوں میں مقدمے چلانے کے معاملہ سے  لے کر عمران خان کو متعدد مقدموں میں ریلیف  دینے والے عدالتی فیصلے ملک کی طاقت ور اسٹبلشمنٹ کے لیے پسندیدہ نہیں ہوسکتے۔  اس کے علاوہ    گزشتہ چند ماہ کے دوران میں اعلیٰ عدلیہ کے متعدد ججوں نے عدالتی امور میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت اور ججوں کو ہراساں کرنے کے الزامات بھی عائد کیے  ہیں۔ یہ صورت حال پاک فوج کی قیادت  کے  لیے مسلسل پریشانی اور کسی حد تک  شرمندگی کا سبب بنتی رہی ہے۔

ایک طرف پاک فوج تحریک انصاف کو سخت سزا دینے کے موڈ میں ہے تو دوسری طرف   12 جولائی کے فیصلہ میں  سپریم کورٹ کے اکثریتی ججوں نے تحریک انصاف کو باقاعدہ سیاسی پارٹی تسلیم کرنے اور اسے مخصوص نشستیں دینے کا حکم صادر کیا ہے۔ یہ حکم چونکہ کسی درخواست کے بغیر  دیا گیا ہے ، اس لیے   یہ سمجھنا غلط نہیں ہونا چاہئے کہ  ججوں  نے تحریک انصاف کے حوالے سے جرنیلوں کی خواہشات کو مسترد کیا ہے۔    سپریم کورٹ کا فیصلہ عسکری اسٹبلشمنٹ کے مقابلے میں عدالتی طاقت کو منوانے کی ایسی کوشش  دکھائی دیتی ہے جو اس سے پہلے کبھی  دیکھنے میں نہیں آئی۔ اس تناظر میں  تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا حکومتی اقدام محض دو سیاسی قوتوں کے درمیان لڑائی کا نتیجہ نہیں سمجھا جاسکتا بلکہ  یہ  دو اہم اداروں کے درمیان چپقلش  کی عکاسی کرتا ہے۔   تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا اعلان کرنے میں  شہباز شریف کی حکومت تنہا نہیں ہے۔

دوسری طرف اس فیصلہ  پر تحریک انصاف کا تبصرہ   ظاہرکرتا ہے کہ پارٹی قیادت بھی شاید ملک میں تصادم کی حقیقی  کیفیت کے بارے میں  پوری طرح  آگاہ نہ ہو۔  ورنہ اسے محتاط اور ذمہ دارانہ  بیانات جاری کرنے چاہئیں۔ حکومتی اعلان پر تحریک انصاف کے بیان میں کہا  گیا ہے کہ ’  کوئی محب وطن ملک کی سب سے بڑی اور مقبول پارٹی پر پابندی عائد کرنے کا سوچ بھی نہیں  سکتا۔  ایسے عمل سے ملک کی بنیادیں ہل جائیں گی اور خانہ جنگی کا آغاز ہوسکتا ہے‘۔   اگر اس بیان کو پورے منظر نامہ میں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ اگر حکومت کے پاس تحریک انصاف پر پابندی لگوانے کے لیے شواہد و ثبوتوں کی کمی ہے تو ایسے اشتعال انگیز بیانات سے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

  ملک کو تصادم اور بے یقینی کی طرف دھکیلنے   کی دھمکی ، تحریک انصاف کے اس مؤقف کوکمزور کرے گی کہ وہ پرامن سیاسی جد وجہد پر یقین رکھتی ہے۔