ہواس باختہ فیصلے کسی کے مفاد میں نہیں ہیں!
- تحریر مختار چوہدری
- منگل 16 / جولائی / 2024
پاکستان میں پچھلے سوا دو سال سے جو ہیجان کی صورتحال پیدا کی گئی ہے، اس نے ملک کو تباہی کے دہانے لا کھڑا کیا ہے۔ اس ملک کے فیصلے جہاں بھی ہوتے ہیں وہاں بیٹھے لوگوں کے عقل پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔
سمجھ نہیں آتی کہ ایسے فیصلے کون کرتا یا کرواتا ہے جو کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہوتے البتہ ملکی تباہی میں ایک اور قدم آگے بڑھ جاتا ہے اور اب ہم گہری کھائی کے کنارے سے زیادہ دور نہیں ہیں۔ ان سوا دو سال کے عرصے میں ملک کے اندر شدید عدم استحکام کی صورتحال پیدا ہوئی ہے، اس کا ذمہ دار کسی ایک فریق کو ٹھہرانا درست نہیں ہوگا لیکن اس کا آغاز چند شخصیات کی انا پرستی سے ہوا تھا۔ کیونکہ یہ باتیں سر عام ہوتی رہی ہیں کہ اس وقت کے وزیراعظم عمران خان فوج کے اندر ہونے والے ایک تبادلے میں رکاوٹ بنے تھے۔ پھر کچھ لوگ ایکسٹنشن کی باتیں کرتے رہے۔ اور کچھ کے خیال میں بڑے باس نے عمران خان کی شکایت کر دی تھی کہ یہ ہمیں قبول نہیں ہے۔
لیکن جو بھی ہو آپ نے جس کو بھی نکالنا ہو، جسے رکھنا چاہتے ہوں کس کو بدنام کرنا ہے اور کسے صادق و امین قرار دلوانا ہے، کسے ہیرو بنانا اور کسے زیرو کرنا ہے۔ اس کے لیے درست منصوبہ بندی اور بہتر طریقے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ جس سے عوام اور دنیا کو بھی لگے کہ یہ فیصلہ وقت کی ضرورت تھی۔ مثال کے طور پر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان میں بدعنوانی عروج پر ہے، 80 کی دہائی سے سیاست میں پیسے کا استعمال اور حکمرانوں کی بدعنوانیوں کو چھپانا ممکن ہی نہیں ہے۔ اور یہ سلسلہ پانامہ پر آ کر پوری دنیا کے سامنے کھل گیا۔
اس سے پہلے پرویز مشرف دور میں سوئس بینکوں میں پڑی پاکستان کے ایک بڑے سیاستدان کی دولت سامنے آ گئی تھی۔ اور وہ سوئس حکومت نے پاکستان کو واپس دینے کی حامی بھی بھر لی تھی لیکن ہمارے آمر حکمران اور کرپٹ سیاستدانوں کے بیچ بدنام زمانہ معائدہ "این آر او" ہو گیا اور اس دولت کو واپس لانے اور پھر وہی رکھنے پر مزید 29 لاکھ ڈالر خرچ کر کے ہم نے پوری دنیا کو دکھایا کہ ہم بطور قوم ہی بدعنوان ہیں۔ ہمیں اپنے ملک سے کوئی ہمدردی ہے نہ قومی دولت کے ضیاع کا کوئی دریغ ہے. ہم صرف اپنی اپنی انا اور اپنے اپنے مفاد کے میدان میں کھیلتے ہیں۔
پھر پانامہ کا اسکینڈل سامنے آیا تو پوری دنیا میں جس جس ملک کے لوگ اس میں ملوث پائے گئے تھے، انہوں نے اپنے مقدمات کا عدالتوں یا اپنے اپنے ملک کے نظام میں سامنا کیا اور سب اپنے انجام کو پہنچے۔ جبکہ پاکستان میں اس معاملے کو خوب اچھالا گیا، دھرنے دیے گئے۔ پھر سپریم کورٹ میں مقدمہ چلا اور آخر میں اس وقت کے وزیراعظم کو دوبئی کے اقامہ اور وہاں کی تنخواہ کو اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے پر سزا دے کر وزیراعظم ہاؤس سے باہر نکالا اور وہ اسلام آباد سے یہ سدا لگاتے لاہور تک پہنچے کہ ’مجھے کیوں نکالا‘۔
ہمارے عوام تو خیر اتنا گہرا سوچتے بھی نہیں، اقامہ کا معاملہ بھی بہت سنگین تھا۔ کیونکہ ایک ملک کے وزیراعظم کو کیا ضرورت تھی، دوسرے ملک کا اقامہ لینے کی اور وہاں نوکری کرنے کی۔ چاہے ان کا آجر ان کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو؟ اگر آپ کے پاس اقامہ اور ایک کمپنی میں ایک عہدہ ہے تو کیوں نہ اس کی تنخواہ آپ کی آمدن میں شامل کی جائے؟ اب وزیراعظم یہ بھی تو نہیں بتا سکتے تھے کہ یہ اقامہ اور ملازمت تو صرف پاکستان سے لوٹے ہوئے مال کی منی لانڈرنگ کے لیے تھا۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ پاناما کا فیصلہ کیا ہوا؟ لندن سے پکڑے جانے والے مہنگے فلیٹوں کا پیسہ کہاں سے آیا تھا اور کیسے لندن پہنچا اس معاملے کو کیوں گول کر دبا دیا گیا تھا؟ کیا اس پر کوئی ڈیل تو نہیں ہو گئی تھی کہ کہیں طاقتوروں کو مال دے کر اس بات پر راضی کر لیا گیا ہو کہ ہم وقتی طور پر سیاست سے کنارہ کش ہو کر خاموشی اختیار کرتے ہیں اور آپ کو آپ کا حصہ بھی دیتے ہیں تو ہمیں بچا لیا جائے؟
ہم یہ تو سوچ بھی نہیں سکتے کہ ہمارے حکمران اتنے سیدھے سادے ہیں کہ ان کو فیصلے کرتے وقت بالکل سمجھ ہی نہیں آتی ہوگی۔ ضرور کچھ دیکھ کر یا حاصل کر کے ہی کوئی فیصلہ کرتے ہوں گے۔ اب آتے ہیں موجودہ صورتحال پر۔ ہم مان لیتے ہیں کہ عمران خان اس ملک کے لیے نقصان دہ شخصیت بن گئے تھے۔ ملک میں مہنگائی ہو گئی تھی۔ روپے کی قدر بہت گر گئی تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ گستاخ خان امریکہ کی پرواہ بھی نہیں کرتے تھے جس سے پاکستان کے بیرونی دنیا کے ساتھ تعلقات خراب ہونے لگے تھے۔ لیکن جس طرح عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی اور جن طریقوں سے خان صاحب کو نکالا گیا، اس سے کہیں بہتر ہوتا کہ تھوڑا سا صبر کر کے عمران حکومت کو پانچ سال مکمل کرنے دیتے یا کم از کم اتنا مزید وقت دیتے کہ عوام مہنگائی سے بلبلا کر خود ہی سڑکوں پر آ جاتے اور عمران خان کی سیاست کو ختم کر دیتے۔
لیکن لگتا یہ ہے کہ آپ کسی کو سکون سے رہنے بھی نہیں دیتے اور اسے ختم بھی نہیں کرتے کیونکہ بوقت ضرورت کسی کی بھی دوبارہ ضرورت پڑ سکتی ہے۔ تحریر طویل ہو گئی میرا اصل موضوع ملک میں پیدا ہونے والا نیا قضیہ ہے یعنی پاکستان تحریک انصاف پر پابندی کا فیصلہ۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جس جس سیاستدان یا سیاسی جماعت کو جتنا دبانے کی کوشش کی گئی وہ اتنا ہی مقبول ہوگئی۔ لیکن فیصلے کرنے والوں کو سمجھ آئی نہ ان کی روش بدلی۔ پچھلے دو سال کی تمام جابرانہ کارروائیوں نے عمران خان کی ساری غلطیوں پر پردہ ڈال کر اسے مزید مقبول کیا ہے۔ 8 فروری کے انتخابات سے پہلے اور بعد میں تمام ہتھکنڈے استعمال کرنے کے بعد بھی خان کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ اب آپ کس کس چیز پر پردہ ڈالیں گے؟ کیا دنیا فارم 45 اور فارم 47 کے فرق کو نہیں جانتی؟ کیا پاکستان کے تمام جج صاحبان سمیت سب عوام کو علم نہیں کہ کون کس کی جماعت کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لے رہا/رہی تھی۔ اور کس حلقے سے کون کامیاب ہوا/ہوئی؟
توشہ خانہ اور عدت کیس سمیت جتنے بھی مقدمات عمران خان کے خلاف بنائے گئے ان کی حیثیت سے بچہ بچہ واقف ہے۔ اب وہاں عدالتیں کیا کر سکتی ہیں؟ جب آپ پے در پے غلطیوں کے سبب عمران خان کو مزید مقبول کر کے عدالتوں سے بھی ریلیف دلوا چکے تو اب بدحواسی اور ایسی افراتفری میں سب سے بڑی سیاسی جماعت پر پابندی کا فیصلہ کیا کہ اتحادی جماعتوں سے مشاورت کی زحمت کی، نہ کابینہ کو اعتماد میں لیا۔ معاملہ عدالت میں لے گئے نہ پارلیمنٹ میں۔ تو کیا اس طرح پابندی کو پاکستانی عوام اور بیرونی دنیا قبول کر لے گی؟ کیا اس سے ن لیگی یا اتحادی حکومت کی ساکھ بحال ہو جائے گی؟ کیا اس تماشے سے اداروں کا کھویا ہوا مقام انہیں واپس مل جائے گا؟
کم از کم میرا تو یہ خیال نہیں ہے۔ میں نے تو اپنے پچھلے کالم میں بھی یہی لکھا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سیاسی مکالمہ کی ضرورت زیادہ ہے اور ملک میں استحکام لانے کے لیے تمام قوتوں کو قومی مفاد میں سوچنے کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ ورنہ آپ ایک دوسرے کو شکست دیتے دیتے ملک کو شکست خوردہ حالت میں لے جائیں گے۔ کیونکہ ان حالات میں کوئی بیرونی سرمایہ کار کیا آئے گا اندرونی بھی بھاگ جائیں گے۔