سیاسی تصادم میں غیر منتخب حکومت کے اندیشے

ملک  میں جس قدر سیاسی درجہ حرارت کم کرنے اور قومی مسائل پر کسی اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیاجارہا ہے، سیاسی لیڈر اتنی ہی شدت سے انتشار، ہیجان اور بے چینی پیدا کرنے کے لیے نازیبا، سخت اور اشتعال انگیز الفاظ کا استعمال کرتے ہیں یا حکومت ایسے اقدامات کا اعلان کرتی ہے جس  سے مفاہمت کا راستہ مزید مشکل ہوجائے۔

حکومت نے اگر تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا اعلان کرکے عمران خان اور پی  ٹی آئی پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی ہے تو دوسری طرف تحریک انصاف بدستور مفاہمت کی ضرورت کو سمجھنے اور ملکی مسائل  کا سیاسی راستہ نکالنے کی کوشش سے انکار کررہی ہے۔  اگرچہ حکومت اب تحریک انصاف پر پابندی کے حوالے سے اپنے مؤقف میں نرمی پیدا کرکے یہ کہہ چکی ہے کہ  ابھی اس سلسلہ میں حتمی فیصلہ نہیں ہؤا اور وسیع مشاورت کے بعد ہی کابینہ کسی نتیجہ پر پہنچے گی۔  ایک سخت اعلان اوراس کے بعد  حکومتی پسپائی کی  صورت  حال کو اپنی کامیابی مان کر تحریک انصاف کو معتدل اور مفاہمانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت تھی۔ لیکن  اس کی طرف سے  مسلسل دباؤ بڑھانے اور پروپیگنڈا کو ایک مؤثر ہتھیار بنائے رکھنے  کا طرز عمل دیکھنے میں آیاہے۔

آج ہی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کسی کا باپ بھی پاکستان تحریک انصاف پر پابندی عائد نہیں کرسکتا۔  سپریم کورٹ   پی ٹی آئی  کو سیاسی پارٹی  قرار دے چکی ہے‘۔ انہوں نے  عمران خان کا یہ پیغام بھی    عوام تک پہنچایا کہ  ’ یہ حکومت پاگل ہوچکی ہے ہمیں ہماری سیٹیں ملیں گی، چیف الیکشن کمشنر اور چاروں کمشنرز کو فوری مستعفی ہوجانا چاہیے۔ ان پر فی الفور آرٹیکل 6 لگائیں‘۔ آئینی عہدوں پر فائز لوگوں کے خلاف غداری کے الزام میں مقدمے چلانے کا مطالبہ کرنے والا لیڈر خود قید ہے اور عالمی اداروں کی رپورٹنگ کے مطابق  ان کی رہائی کا کوئی امکان بھی نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ  اپنے سیاسی لب و لہجہ کی تمکنت، تلخی اور  شدت کم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ عمران خان کا خیال ہے کہ یہی شدت پسندی درحقیقت موجودہ مشکل مالی حالات میں حکومت کو کمزور کرنے اور ان کی اپنی  مقبولیت میں اضافہ کا سبب بن رہی ہے۔ ایسے میں قومی مفادات ثانوی حیثیت اختیار کرجاتے ہیں۔

عمران خان کا یہ اندازہ کسی حد تک درست ہے۔ شہباز حکومت آئی ایم ایف سے قرض لینے اور معیشت کے لیے ٹھوس بنیاد فراہم کرنے کے مقصد سے سخت بجٹ بنانے اور ٹیکسز میں اضافہ کرنے پر مجبور تھی۔ ملک  میں پیٹرول اور بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔   اس بارے میں خبریں  عوام  کی پریشانی میں اضافہ کرتی ہیں  اور یوں لگتا ہے کہ ملکی معیشت میں سب کچھ ہی دگرگوں ہے۔  حالانکہ سخت معاشی اقدامات کے نتیجہ میں مہنگائی میں کمی کے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں اور ملکی معیشت میں بہتری کے  آثار دکھائی دینے لگے ہیں جن کا ایک اشاریہ حصص مارکیٹ میں بہتری  ہے۔ اسٹیٹ بنک بھی  شرح سود میں کمی کا جائزہ لے رہا ہے اور قیاس ہے کہ اگر موجودہ حکومت حالات پر کنٹرول رکھنے میں کامیاب رہی تو شاید یہ ٹارگٹ بھی حاصل کرلیا جائے جس کا ملکی صنعت اور عوام کو فائدہ ہوگا۔

اس کے  باوجود حکومت دو وجوہات کی بنیاد پر اپنا مقدمہ خوش اسلوبی سے   پیش کرنے میں ناکام ہے۔ ایک تو بجٹ میں محاصل بڑھانے کے لیے صرف باالواسطہ محاصل پر انحصار کیا گیا ہے جس کی قیمت بالآخر عوام ہی کو ادا کرنی پڑتی ہے۔  آئی ایم ایف کی شرائط اور  دگرگوں ملکی معیشت کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر خزانہ متعدد بار سخت اقدامات کو ضروری قرار دے چکے ہیں لیکن وہ کوئی ایسا حکومتی فیصلہ ریکارڈ پر نہیں لاسکے جس سے یہ ظاہر ہو کہ ملک میں پہلے سے امیر طبقات کو معاشی بہتری کے منصوبے میں زیادہ حصہ ادا کرنے پر مجبور کیا   گیا ہو۔ اسی طرح   نان فائیلرز  کے بارے میں منفی تاثر قائم کرنے کی کوشش ضرور کی گئی ہے لیکن حکومت کے ایسے کوئی اقدام  دکھائی نہیں دیے  جن سے  ٹیکس دہندگان کی شرح میں اضافہ ہوسکے۔  ٹیکس نیٹ میں نئے گروہوں کو شامل کرنے کا معاملہ  روائیتی طور سے  سیاسی کھینچا تانی کی نذر ہوجا تا ہے۔ پیپلز پارٹی زرعی ٹیکس کی مخالفت کرتی ہے لہذا ملک کے جاگیردار محفوظ رہتے ہیں اور  مسلم لیگ (ن) سمجھتی ہے کہ ٹریڈر یا دکاندار  اور تاجر طبقہ اس کا ووٹر اور ہمدرد ہے، لہذا وہ اس گروہ   کو سختی سے ٹیکس نیٹ میں لانے کا  کوئی اقدام  دیکھنے میں نہیں آتا۔

اس کے علاوہ حکومت کم از کم دکھاوے ہی کے لیے بجٹ میں یہ پابندی لگا سکتی تھی کہ ملک  میں 20 گریڈ سے اوپر  کے عہدوں پر کام کرنے والے سول اور فوجی عہدیداروں کی سہولتوں میں کمی کی جائے گی یا تنخواہ کے علاوہ فراہم کرنے والی ہمہ قسم سہولت کو فی الفور بند کیا جائے گا۔ ہوسکتا ہے کہ اس قسم کے مالی اقدام سے  بہت زیادہ بچت  نہ ہوتی لیکن عوام تک یہ پیغام ضرور پہنچایا جاسکتا تھا کہ  حکومت ذمہ داری سے ملکی معاشی بحالی کے منصوبے پر کام کررہی ہے اور جن لوگوں کو پہلے ہی زیادہ سہولتیں حاصل ہیں انہیں اب  ان سے دست بردار ہوکر قومی تعمیر  کے منصوبہ میں حصہ دار بننے پر مجبور کیا جائے گا۔    لیکن حکومت ایسا کوئی فیصلہ کرنے میں ناکام رہی ۔

اس کے نتیجہ میں سوشل میڈیا جیسی مواصلاتی طاقت کے ذریعے درست یا غلط معلومات کی بنیاد پر  سوال اٹھانے کا سلسلہ جاری ہے۔ پوچھا جاتا ہے کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک کلرک تو  بجلی کا بل خود ادا کرے لیکن اس محکمے کا سیکرٹری جو پہلے ہی کثیر تنخواہ اور دیگر مراعات لیتا ہے، اس سے بجلی کا بل بھی نہ لیا جائے۔ اسے مفت  گاڑی اور پیٹرول بھی فراہم ہو۔   حکومت ان سوالوں کو قابل اعتنا نہیں سمجھتی لیکن ان کی کوکھ سے جنم لینے والی پریشان حالی ملک میں شدید بے چینی اور بحران پیدا کررہی ہے۔ بدقسمتی سے ملک میں چونکہ  سیاسی تقسیم کم کرنے کی بجائے  مسلسل  بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے لہذا تحریک انصاف ایسے سب معاملات کو بڑھا چڑھا کر اپنے سیاسی بیانیے کا حصہ بناتی ہے اور عوام میں یہ تاثر قوی کیا جاتا ہے کہ ’بدعنوان حکمران‘ آئی ایم ایف سے قرضے لے کر اپنے خزانے بھرتے ہیں اور ملک کو  کنگال اور عوام  کو مفلس بنارہے ہیں۔  گو کہ تحریک انصاف کے پاس بھی اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہے کہ وہ موجودہ معاشی صورت حال کو کیسے  ’عوام دوست‘ بنادے گی۔ نہ ہی کوئی یہ سوال کرتا ہے کہ جب  پی ٹی آئی کو حکومت کا موقع ملا تھا تو  اس نے بھی وہی معاشی  پالیسی اختیا رکی تھی جو گزشتہ دو تین دہائیوں سے حکومتوں کا  وطیرہ رہی ہے۔  لیکن سیاسی نعرے بازی کی گرم جوشی میں ایسے مباحث کی گنجائش بہت کم ہوچکی ہے جن میں دلیل اور  حجت سے بات کو منوایا  یا مانا جاسکے۔ حکومت   اس میدان میں مسلسل پسپا ہورہی ہے اور اسے شاید اپنی پسپائی کی شدت اور سنگینی کا احساس بھی نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ   مخصوص نشستوں کے بارے میں  سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد اسے خوش دلی سے قبول کرنے کی بجائے ، ایک تو اس کے خلاف نظر ثانی کی  اپیل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ دوسرے مسلسل یہ اشارے دیے جارہے ہیں کہ حکومت اس فیصلے کو تسلیم کرنے کا  ارادہ نہیں رکھتی اور پارلیمانی طاقت سے اس پر عمل درآمد   روکا جائے گا۔  حکومت کی واحددلیل یہ ہے کہ تحریک انصاف  چونکہ اس کیس میں مدعی نہیں تھی لہذا عدالت اسے ریلیف نہیں دے سکتی۔ حالانکہ  حکومت میں شامل سیاسی پارٹیوں کو یہ سوچنا چاہئے اور اس سوال کا جواب دینا چاہئے کہ انہیں جن نشستوں پر کامیابی ہی نہیں ملی، وہ اس حصے کی  مخصوص نشستوں پرکس حساب سے   قبضہ کرنا چاہتی ہیں۔ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ  آزاد ارکان کی کامیابی کی تعداد دوست دشمن سب کے سامنے ہے۔ الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق اس پارٹی کو سب سے زیادہ ووٹ پڑے ہیں اور اسی نے قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں بھی جیتی ہیں۔

یہ ممکن ہے کہ سپریم کورٹ کے ججوں  نے تحریک انصاف کی مقبولیت کا  اثر قبول کیا ہو یا سوشل میڈیا ٹرینڈز  نے اس فیصلہ میں کوئی کردار ادا کیا ہو لیکن   یہ کہنا غلط نہیں کہ قانونی و آئینی پیچیدگیوں سے قطع نظر   مخصوص نشستوں پر تحریک انصاف کا  حق  فائق ہے۔ اگر  سپریم کورٹ یہ حق اس پارٹی کو دے رہی ہے تو اسے تسلیم کرکے ملک میں سیاسی ماحول  کی حدت کم کرنے کی کوشش کی جاسکتی تھی۔ لیکن حکومت نے اس کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ پہلے اس فیصلے کو مسترد کیا گیا پھر تحریک انصاف پر پابندی لگانے اور   عمران خان پر غداری  کا مقدمہ چلانے کا اعلان کردیا گیا۔

دوسری طرف تحریک انصاف مسلسل سوشل میڈیا مہم جوئی کے ذریعے عدالتوں پر اثر انداز ہونے اور  ججوں کو ہراساں کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ سپریم کورٹ  میں مقدمات  نمٹانے کے نقطہ نظر سے  چیف جسٹس  نے  ایڈہاک ججز کی تقرری کے لیے 4   نام تجویز کیے تھے۔ ان میں جسٹس ریٹائرڈ مشیر عالم ، جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر ، جسٹس ریٹائرڈ مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس ریٹائرڈ طارق مسعود کے نام شامل ہیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 19 جولائی کو طلب کر رکھا ہے۔ تاہم اب تک دو نامز ریٹائرڈ ججوں جسٹس (ر) مشیر عالم کے بعد جسٹس (ر) مقبول باقر نے بھی ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرلی ہے۔ ڈان نیوز کے مطابق  جسٹس (ر) مقبول باقر کا کہنا تھا کہ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے ایڈہاک جج کا عہدہ قبول نہیں کرسکتا۔  تاہم انہوں نے کہا کہ ایڈہاک جج بننا قانونی عمل ہے، اس میں کوئی عیب نہیں۔ اس سے پہلے 16 جولائی کو  سابق جج جسٹس مشیر عالم نے ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرتے ہوئے اپنے خط میں  جوڈیشل کمیشن کو لکھا تھا کہ ’اللہ نے انہیں ان کی حیثیت سے زیادہ عزت دی ہے۔ ایڈہاک جج کی نامزدگی کے بعد سوشل میڈیا پر جو مہم شروع کی گئی، اس سے شدید مایوسی ہوئی ہے‘۔ انہوں نے اپنے خط میں کہا کہ وہ موجودہ حالات میں بطور ایڈہاک جج کام کرنے سے معذرت چاہتے ہیں۔

تحریک انصاف مسلسل   اس بنیاد پر ایڈہاک ججوں کی مخالفت کررہی ہے کہ  اس سے سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کے  ’حامی‘ ججوں کی تعداد کم کرنے  کی کوشش  ہورہی ہے،  اس لیے یہ بدنیتی پر مبنی فیصلہ ہے ۔ حالانکہ کسی معزز جج کو اس کی قانونی و آئینی رائے اور فیصلوں کی بنیاد پر کسی ایک سیاسی رائے کا مخالف یا  ہمدرد قرار دینا ملک کے عدالتی نظام پر براہ راست حملہ کے مترادف ہے۔ اب تحریک انصاف نے سپریم  جوڈیشل کونسل میں ایڈہاک ججوں کی تقرری کے خلاف درخواست  بھی دائر کی ہے۔  اور اس اقدام کو روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

یہ سب طریقے ملک میں سیاسی تصادم  بڑھا رہے  ہیں۔    بدقسمتی سے  اقتدار پر قابض اور اقتدار حاصل کرنے کی خواہش مند سب سیاسی پارٹیاں  باہمی تصادم کم کرنے کی بجائے مسلسل  ان میں اضافہ کررہی ہیں۔ حالانکہ اس  انتشار  سے پیدا ہونے والی مشکلات کی قیمت بھی سیاسی پارٹیوں کو ہی ادا کرنا پڑے گی۔  اسی لیے معاشی درجہ بندی کے عالمی ادارے   ’فچ‘ نے پیش گوئی  کی ہے کہ اگر موجودہ حکومتی انتظام ناکام ہوگیا تو ملک میں انتخابات کا کوئی امکان نہیں بلکہ اس صورت میں ٹیکنوکریٹ حکومت قائم ہوگی اور معاملات آگے بڑھائے گی۔