جوڈیشل کمیشن کی جسٹس (ر) طارق مسعود، جسٹس (ر) مظہر عالم کو ایڈہاک جج تعینات کرنے کی سفارش کردی

  • جمعہ 19 / جولائی / 2024

جوڈیشل کمیشن نے جسٹس ریٹائرڈ سردار طارق مسعود اور جسٹس ریٹائرڈ مظہر عالم میاں خیل کو سپریم کورٹ میں ایڈہاک جج تعینات کرنے کی سفارش کردی ہے۔

جسٹس منیب اختر نے جسٹس سردار طارق مسعود کی بطور ایڈہاک جج تعیناتی پر اختلاف کیا، تاہم جوڈیشل کمیشن نے جسٹس سردار طارق مسعود کے نام کی منظوری 8:1 کے تناسب سے دی۔ اسی طرح جسٹس ریٹائرڈ مظہر عالم میاں خیل کے نام کی منظوری 6:3 کے تناسب سے دی گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی کی جانب سے جسٹس ریٹائرڈ مظہر عالم میاں خیل کی تعیناتی کی مخالفت کی گئی۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈہاک ججز کی تقرری کے لیے 4 ریٹائرڈ ججز کے نام تجویز کیے ہیں۔ ان ججز میں جسٹس ریٹائرڈ مشیر عالم، جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر، جسٹس ریٹائرڈ مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس ریٹائرڈ طارق مسعود کے نام شامل کیے گئے۔

تاہم 16 جولائی کو سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مشیر عالم نے ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرلی تھی، اور اپنے فیصلے سے جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ کر آگاہ کردیا تھا۔ 18 جولائی کو جسٹس (ر) مقبول باقر نے بھی ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرلی تھی۔ سابق نگران وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر کا کہنا تھا کہ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے ایڈہاک جج کا عہدہ قبول نہیں کرسکتا۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ایڈہاک ججز تعینات ہونے چاہئیں، ایڈہاک ججز کی تعیناتی کی آئین اجازت دیتا ہے اور ان کی تقرری چیف جسٹس نے نہیں بلکہ جوڈیشل کمیشن نے کرنی ہے۔

دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ساتھ تعطیلات کے دوران 4 ایڈہاک ججز کو 3 سال کے لیے سپریم کورٹ لانا بدنیتی پر مبنی ہے۔