بنگلہ دیش میں احتجاج دبانے کے لئے فوج طلب، کرفیو نافذ، ہلاکتیں 105 ہو گئیں
بنگلہ دیش میں کوٹہ سسٹم کے خلاف طلبہ کے احتجاج کے دوران جھڑپوں اور مختلف واقعات میں ہلاک افراد کی تعداد 105 ہو گئی ہے جب کہ ملک بھر میں کرفیو نافذ ہے اور دارالحکومت ڈھاکہ کی سڑکوں پر فوج گشت کر رہی ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق بنگلہ دیش بھر میں جعمرات سے موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں جب کہ احتجاج پر قابو پانے کے لیے حکومت نے ملک بھر میں عوامی اجتماعات پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے۔
گزشتہ پانچ روز سے ڈھاکہ سمیت مختلف شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری تھا جس پر قابو نہ پانے کے بعد وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی حکومت نے ملک بھر میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے فوج کو طلب کیا ہے۔ مقامی ٹی وی رپورٹس کے مطابق کرفیو میں ہفتے کی دوپہر دو گھنٹے کے لیے نرمی کی گئی تاکہ لوگ ضروری اشیا کی خریداری کر سکیں۔ البتہ کرفیو اتوار کی صبح دس بجے تک نافذ رہے گا جس کے بعد حکومت صورتِ حال کا جائزہ لے کر کرفیو ختم کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے گی۔
مقامی ٹی وی چینلز نے پولیس کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ جمعے کو مظاہرین نے ڈھاکہ کے ضلع نارسنگدی میں ایک جیل پر دھاوا بولا اور وہاں سے 850 قیدیوں کو فرار کرواتے ہوئے جیل کی عمارت کو آگ لگا دی۔ ہفتے کو بھی ڈھاکہ کے مختلف علاقوں میں جلاؤ گھیراؤ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے وزیرِ اعظم آفس کی پریس سیکریٹری کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ وزیرِ اعظم شیخ حسینہ نے کشیدہ صورتِ حال کے باعث اسپین اور برازیل کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔
طلبہ سرکاری ملازمتوں میں 1971 کی جنگِ آزادی میں شریک افراد کے اہلِ خانہ کے لیے 30 فی صد کوٹہ مختص کرنے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ اس کوٹے سے وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کو فائدہ ہو رہا ہے۔ احتجاجی طلبہ کوٹہ سسٹم کے خاتمے اور میرٹ کی بنیاد پر سرکاری ملازمتیں دینے کا نظام نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بنگلہ دیش کی حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے جلا وطن قائم مقام چیئرمین طارق الرحمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مظاہروں کے دوران حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے کئی رہنما، سماجی کارکن اور طلبہ مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔
مظاہرین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پولیس نے ہفتے کی علی الصبح کارروائی کرتے ہوئے مظاہروں کی کوآرڈینیٹر ناہید اسلام کو گرفتار کر لیا ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بنگلہ دیش میں انٹرنیٹ کی بندش اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر تشدد کی مذمت کی ہے۔ یورپی یونین نے ایک بیان میں تشدد اور مظاہروں کے دوران اموات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔