بائیڈن صدارتی دوڑ سے دستبردار، نائب صدرکاملا ہیرس کی حمایت

  • سوموار 22 / جولائی / 2024

صدر جو بائیڈن نے اتوار کے روز وائٹ ہاؤس کے لیے اس سال نومبر میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے سے اپنی دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے۔ الیکشن کی دوڑ سے الگ ہونے کے اعلان کے تقریباً 30 منٹ بعد بائیڈن نے نائب صدر کاملا ہیریس کی نامزدگی  کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا۔

بائیڈن نے مختصر پیغامات کے پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیے جانے والے اپنے ایک خط میں کہا ہے کہ ِ ’آپ کے صدر کے طور پر خدمات انجام دینا میری زندگی کا سب سے بڑا اعزاز رہا ہے۔ اوراگرچہ میرا یہ پختہ ارادہ تھا کہ میں اس عہدے کے لیے دوبارہ منتخب ہو جاؤں۔ مجھے یقین ہے کہ میری پارٹی اور ملک کے بہترین مفاد میں ہے کہ میں صدارتی دوڑ سے دستبردار ہو جاؤں اور اپنے عہدے کی باقی مدت کے لیے بطور صدر اپنے فرائض کی ادا ئیگی پر توجہ مرکوز کروں‘۔

الیکشن کی دوڑ سے الگ ہونے کے اعلان کے تقریباً 30 منٹ بعد، بائیڈن نے نائب صدر کاملا ہیریس کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا جو شکاگو میں اگست کے ڈیموکریٹک پارٹی کے کنونشن میں نامزدگی کے لیے پارٹی کی پسندیدہ تھیں۔ صدر نے لکھا آج میں کاملا کی اس سال ہماری پارٹی کی نامزدگی کے لیے اپنی مکمل حمایت اور توثیق کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ اب وقت آگیا ہےکہ ڈیموکریٹس متحد ہوں اور ٹرمپ کو شکست دیں۔

تاہم صدر کی جانب سے خمایت کا مطلب نامزدگی نہیں ہے۔ اب ڈیموکریٹس کو فوری طور پر چند ہفتوں کے اندر صدارتی نامزدگی کے عمل میں ہم آہنگی لانے کی کوشش کرنا ہو گی۔ اور اتفاق رائے سے ایک نئے امیدوار کو نامد کرنا ہوگا۔ بائیڈن کی مدت صدارت جو 20 جنوری 2025 کو ختم ہو رہی ہے، وہ اسے پوری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

بائیڈن نے اس فیصلے کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب وہ گزشتہ ہفتے کوویڈ۔19 کی تشخیص ہونے کے بعد ڈیلاویئر کے اپنے بیچ ہاؤس میں قرنطینہ میں رہ رہے ہیں اور اپنے خاندان اور قریبی ساتھیوں کے مختصر حلقے کے ساتھ اپنے سیاسی مسقتبل کے بارے میں سوچ بچار کر رہے ہیں۔ بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ اس ہفتے کے آخر میں اپنے فیصلے کے متعلق تفصیل سے بتانے کے لیے قوم سے خطاب کریں گے۔۔ نصف صدی کے سیاسی سفر میں وہ سینٹ، پھر نائب صدر کے عہدے اور پھر وائٹ ہاؤس تک پہنچے۔

اس سے قبل کسی بھی سیاسی پارٹی کا امکانی امیدوار ایسے میں کبھی انتخابی مہم دوڑ سے الگ نہیں ہوا جب الیکشن میں اتنا کم وقت باقی رہ گیا ہو۔ اس سے ملتا جلتا ایک واقعہ 1968 کا ہے جب صدر لنڈن بی جانسن نے ویت نام جنگ کی صورت حال کے باعث مارچ میں ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ وہ اپنے عہدے کی دوسری مدت کے لیے الیکشن نہیں لڑیں گے۔

کاملا ہیرس  کی عمر 59 سال ہے۔ بظاہربائیڈن کی فطری جانشین نظر آتی ہیں ، جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ وہ واحد ایسی امیدوار ہیں جو وفاقی مہم کے مالیاتی قوانین کے مطابق، بائیڈن کی انتخابی مہم کے وسائل استعمال کر سکتی ہیں۔ بائیڈن کی حمایت ہیرس کے لیے راستہ ہموار کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود نامزدگی کی ہموار انداز میں منتقلی کی یقین دہانی کسی بھی طرح سے یقینی نہیں ہے۔

ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن 19 سے 22 اگست کے دوران شکاگو میں ہونے والا ہے لیکن پارٹی نے اعلان کیا تھا کہ وہ (اس وقت) بائیڈن کی باضابطہ نامزدگی کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے رابطے کی ایک ورچوئل تقریب کرے گی۔ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا دیگر امیدوار کاملا ہیرس کی نامزدگی کو چیلنج کریں گے یا پھر ڈیموکریٹک پارٹی کو کنونشن کے پلیٹ فارم پر صدارتی امیدوار کے طور پر ہیرس کی نامزدگی کے لیے دوبارہ اپنے قوانین میں کس طرح مطابقت لا سکتی ہے۔

صدارتی دوڑ سے دست برداری کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں انتخابی سیاست میں بائیڈن کے 52 برسوں کے سفر کے تیز تر اور حیرت انگیز اختتام کی نشاندہی کرتا ہے، جب عطیہ دہندگان، قانون ساز اور حتیٰ کہ ان کے معاون اس بارے میں شکوک و شہبات کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ بائیڈن مزید چار سال تک صدارتی امور کو خوش اسلوبی سے نبھا سکتے ہیں اوعر ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دے سکتے ہیں۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے عہدے داروں سمیت ان سے دست بردار ہونے کی درخواست کرنے والوں نے فوری طور پر بائیڈن کے اس فیصلے کی تعریف میں بیانات جاری کیے ہیں۔ نیویارک سے ڈیموکریٹ سینیٹر اور سینیٹ کےاکثریتی رہنما چک شومر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’یہ فیصلہ یقیناً ان کے لیے آسان نہیں تھا لیکن انہوں نے ایک بار پھر اپنے ملک، اپنی پارٹی اور ہمارے مستقبل کو اولیں ترجیح دی ہے۔ جو آج یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ(بائیڈن) ایک سچے محب وطن اور عظیم امریکی ہیں۔

ایوان نمائندگان کے ریپبلکن اسپیکر مائیک جانسن نے کہا ہے کہ اگر بائیڈن اس عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کے قابل نہیں ہیں تو انہیں فوری طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ’پانچ نومبر اتنی جلد نہیں آ سکتا‘۔