پارلیمنٹ کے سامنے پی ٹی آئی کی بھوک ہڑتال
پاکستان تحریک انصاف کا پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جس میں چیئرمین بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سمیت دیگر سینئر رہنما موجود ہیں۔
ڈان نیوز کے مطابق گرفتاریوں، چھاپوں اور مقدمات کے خلاف پی ٹی آئی کے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر کے علاوہ علی محمد خان، شیخ وقاص اکرم، سینیٹر ہمایوں مہمند اور فلک ناز چترالی بھی موجود ہیں۔
سہ پہر 3 بجے سے لگایا گیا بھوک ہڑتالی کیمپ روزانہ شام 7 بجے تک جاری رہے گا۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق بھوک ہڑتال کے ذریعے ارکان پارلیمان کو وفاداریاں نہ بدلنے پر مقدمات کی دھمکیوں کا معاملہ اٹھایا جائے گا۔
احتجاجی کیمپ کے ذریعے بانی پی ٹی آئی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔ بعد ازاں پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ بھو ک ہڑتالی کیمپ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ آج پاکستان تحریک انصاف کے ایک وفد نے اسپیکر ایاز صادق کے ساتھ ان کے چیمبر میں ملاقات کی۔ ہم نے ملاقات میں اپنے اراکین اسمبلی کی سیکیورٹی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلی بار آج پارلیمنٹ کی حدود میں 3 گھنٹے کے لیے بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگایا۔ ہم روزانہ کی بنیاد پر بنیادی حقوق کی فراہمی تک بھوک ہڑتالی کیمپ لگائیں گے۔ خان صاحب کی رہائی تک یہ بھوک ہڑتالی کیمپ جاری رہے گا۔
رہنما پی ٹی آئی و قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے کہا کہ سخت گرمی و حبس میں ہم نے آج یہ کیمپ لگایا۔ عمران خان نے ملاقات میں کہا کہ میں بھوک ہڑتال کروں گا۔ ہم نے انہیں ہاتھ جوڑ کر کہا کہ آپ ہم بھوک ہڑتال نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ جب عمران خان کا حکم ہوگا پورے ملک میں بھوک ہڑتال کریں گے۔ ہمارے سیکریٹری اطلاعات اور دیگر رہنماؤں کو اٹھایا گیا، ملک میں جاری مہنگائی کی لہر اور ملک میں امن کے لیے آج کیمپ لگایا گیا، جبکہ تحریک تحفظ آئین پاکستان سے بھی یہ ہی مطالبہ ہے کہ دوبارہ الیکشن کروائے جائیں۔