وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس، پی ٹی آئی پر پابندی کا معاملہ زیرغور نہیں آیا

  • بدھ 24 / جولائی / 2024

وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف پر پابندی کا معاملہ زیرغور نہیں آیا۔ بانی پی ٹی آئی، عارف علوی، قاسم سوری کے خلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی پر بھی فیصلہ نہ ہوسکا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ختم ہوگیا۔ وفاقی کابینہ نے 6 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ کابینہ اجلاس میں پی ٹی آئی پر پابندی کا معاملہ زیر غور نہیں آیا۔ اجلاس میں سکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) ایکٹ 1997 کے تحت خصوصی عدالتوں کے قیام کی سمری پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں پائیدار ترقیاتی منصوبہ جات کےلیے پاکستان ڈنمارک میں ایم او یو پر دستخط کی منظوری دی گئی، متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین کی تعیناتی کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ، نجکاری کمیشن کے بورڈ کے اراکین کی تعداد میں اضافے کی سمری پر غور کیاگیا، جب کہ 22-2021 اور 23-2022 کے لیے پالیسیوں پر عملدرآمد کی رپورٹ کابینہ کو پیش کی گئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز کابینہ اجلاس جس میں پی ٹی آئی پر پابندی کے معاملے پر غور متوقع تھا، وزیر اعظم کے ’مصروف شیڈول‘ کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کابینہ سے سابق صدر عارف علوی، سابق وزیراعظم عمران خان اور قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی منظوری کے لیے کہا گیا ہے۔

واضح رہے کہ حکومت نے پہلے ہی آئین کی خلاف ورزی کے الزام میں پی ٹی آئی پر سیاست سے پابندی لگانے اور اس کے رہنما کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلانے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے میڈیا کو بتایا تھا کہ پی ٹی آئی 2014 سے ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے اور مختلف مواقع پر خاص طور پر حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف مظاہروں کے دوران ہونے والی متعدد ہلاکتوں کی ذمہ دار ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی آفیشل ویب سائٹ سے پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر اور ان کے خاندان کے خلاف باتیں کی گئیں۔ مخصوص ٹولے نے 9 مئی کو ملک کی جڑیں ہلانے کی کوشش کی اور ملکی اداروں پر حملے کیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اتحادی حکومت اجتماعی کاوشوں کے ساتھ ملک کو درپیش شدید چیلنلجز سے نمٹ رہی ہے۔ آئی ایم ایف سے ہمارا اسٹاف لیول معاہدہ بہت کاوشوں کے بعد ہوا۔ ہم  نے غریب آدمی پر بوجھ نہیں ڈالنا، آج بھی غریب آدمی مہنگائی سے پریشان ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں دہشت گردی کی واقعات میں اضافہ ہوا۔ دہشت گردی کی یہ لہر قابل افسوس ہے۔ اس میں کچھ ہمسایہ ممالک کا کردار ہے، ان کو برادرانہ طور پر سمجھایا ہ۔، پچھلے دور میں خواجہ آصف وہاں گئے تھے اور ابھی بھی ان رابطے ہورہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے شہریوں کو حفاظت دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے، مگر ہم چاہتے ہیں کہ معاملہ بات چیت اور امن سے طے ہوجائے کیوں کہ خطے میں امن ہوگا تو ترقی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح مخصوص ٹولے نے 9 مئی کو اس ملک میں غدر مچایا تھا، پاکستان کی جڑیں ہلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، سب کو علم ہے کہ پارلیمنٹ، ٹی وی اسٹیشن، وزیراعظم ہاؤس کے اردگرد پر انہوں نے ہی حملہ کیا تھا، میں 2013-2014 کی بات کررہا ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پوری قوم جانتی ہے کہ آج یہ نئے ہتکھنڈوں سے پاکستان ، پاکستان کے پرامن شہریوں اور افواج پاکستان کے خلاف نئی وارداتیں کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی آفیشل ویب سائٹ سے پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر اور ان کے خاندان کے خلاف جو باتیں کی جارہی ہیں، اس طرح کے دلخراش مناظر پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے، لہذا میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس لمحے کا پوری طرح احساس کرنا ہوگا۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ کسی صورت بھی مادر وطن اور افواج پاکستان کے خلاف کسی طور پر بھی ہم ایسا کوئی اقدام برداشت نہیں کریں گے۔