انسانی حقوق کمیشن کے چئیرمین پوچھ گچھ کے لئے حراست

  • جمعرات 25 / جولائی / 2024

کراچی پولیس پاکستان میں آزادانہ حیثیت میں کام کرنے والے انسانی حقوق کمیشن  کے چیئرمین اسد بٹ کو پوچھ گچھ کے لیے اپنی حراست میں گلبرگ تھانے لے گئی۔

ایس ایس پی کراچی  وسطی نے بی بی سی کو بتایا کہ اسد بٹ کو حراست میں نہیں لیا گیا بلکہ انہیں ڈی ایس پی کے دفتر میں پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا ہے۔ ایس ایس پی کے مطابق بلوچستان اور ریلیوں میں شرکت کے حوالے سے کچھ انٹلی جنس رپورٹس اس بارے میں ان سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔

اسد بٹ نے بی بی سی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان سے بلوچ مسنگ پرسنز پر سولات کیے گئے اور ان سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا۔ ان کے مطابق انہوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ اس مسئلے سے دور نہیں رہ سکتے۔ ان کے مطابق ان سے پوچھا گیا کہ آپ کوئٹہ گئے تھے تو انہوں نے بتایا کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں وہ وہاں نہیں جا سکے۔ اسد بٹ کے مطابق اب پولیس کہتی ہے کہ ’وہ غلطی ہوگئی معذرت۔‘ پولیس نے پوچھ گچھ کے بعد اسد بٹ کو رہا کر دیا۔

ایچ آر سی پی پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے معاملے پر ریاستی پالیسیوں پر سوالات اٹھاتا آ رہا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنٹسی انٹرنیشنل کے مطابق جبری گمشدگی کا شکار وہ لوگ ہیں جو عملی طور پر غائب ہو چکے ہیں۔ وہ اس وقت لاپتہ ہو جاتے ہیں جب ریاستی اہلکار انہیں کسی گلی یا گھروں سے پکڑتے ہیں اور پھر یہ بتانے سے انکار کرتے ہیں کہ وہ کہاں ہیں۔

ایمنٹسی کے مطابق بعض اوقات مسلح غیر ریاستی عناصر، جیسے مسلح اپوزیشن گروپوں کی طرف سے گمشدگی کا ارتکاب کیا جا سکتا ہے اور یہ بین الاقوامی قانون کے تحت جرم ہے۔ پاکستان میں ’جبری گمشدگیوں‘ کے مسئلے نے  2000 میں اس وقت زور پکڑا جب افغانستان پر امریکہ کے حملے کے بعد مذہبی اور مسلکی جماعتوں کے کارکنوں اور ہمدردوں کی گمشدگیاں ہونے لگیں۔

بلوچستان میں بزرگ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کی فوجی آپریشن میں ہلاکت کے بعد اس میں تیزی آئی۔ سپریم کورٹ سے لے کر چاروں صوبوں میں موجود ہائی کورٹس میں لاپتہ افراد کی جبری گمشدگیوں کے خلاف درخواستیں دائر ہیں۔ ہر درخواست پر وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کو نوٹس ملتے ہیں جن میں اکثریت کے جوابات یہ ہی آتے ہیں کہ متعلقہ شخص ان کی تحویل میں نہیں۔