لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کا 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دے دیا

  • جمعرات 25 / جولائی / 2024

لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کا نو مئی کے 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ اور ویڈیو لنک پر عمران خان کی حاضری کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا۔

عمران خان نے دس روزہ جسمانی ریمانڈ کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ عمران خان کی 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواستوں پر سماعت لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم اور جسٹس انوار الحق پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔  پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے دلائل دیتے ہوئے عمران خان کی درخواستوں کی مخالفت کی۔

عدالت نے 12 مقدمات میں عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواستوں پرفیصلہ سناتے ہوئے جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دے دیا اور عمران خان کی ویڈیو لنک پر حاضری کا نوٹیفکیشن بھی کالعدم قرار دے دیا۔ سماعت کے آغاز پر جسٹس انوار الحق نے دریافت کیا کہ درخواست گزار کتنے مقدمات میں نامزد ہیں؟ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے جواب دیا کہ عمران خان تین مقدمات میں نامزد ہیں۔

پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے عمران خان پر درج تمام مقدمات کا ریکارڈ اور ان مقدمات میں ہونے والی پیش رفت رپورٹ بھی عدالت کے سامنے پیش کردی۔ لاہور پولیس نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں نو مئی کے 12 مقدمات میں عمران خان کی گرفتاری ڈالی تھی، جس کے بعد 5 جولائی کو عمران خان کو ویڈیو لنک کے ذریعے انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

15 جولائی کو لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پولیس کی عمران خان کی 9 مئی کے بارہ مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر دس روزہ ریمانڈ دے دیا تھا۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج خالد ارشد نے درخواست پر سماعت کی تھی۔