مسئلہ عدت ہے یا نکاح کے اوپر نکاح

ہمارا قومی المیہ ہے کہ یہاں لوگ کسی بھی چیز کی حقیقت یاروٹس تک پہنچنے کی کاوش چھوڑ، تمنا آرزو یا تجسس بھی نہیں کرتے۔ سٹڈی کا ذوق ہی نہیں بس سطحی پن ہے۔

دوسرے یہ کہ مطلب کی بات لیں گے بالمقابل اپروچ پر دلائل کا پہاڑ بھی لگا دو نظرانداز کردیں گے۔ ہماری جوڈیشری کا بھی یہ بدترین المیہ ہے کہ آئین اور قانون گئے تیل لینے جو چیز جیسے بھی ان کے من کو بھا جائے اُس کے سامنے ہر ضابطہ ہر قانونی شق ہیچ ہے۔ وہ شیطان کو صادق و امین ثابت کرسکتے ہیں اور بے قصور کو شیطان بنا کر مذاق اڑا سکتے ہیں۔ جسٹس منیر صحیح کہا کرتے تھےکہ میں ایک ہی مقدمے میں پیش کئے گئے حقائق و دلائل پر اپنی صوابدید کے مطابق پھانسی بھی چڑھا سکتا ہوں اور بری بھی کرسکتا ہوں۔ کچھ ایسا ہی وتیرہ ہماری سپریم و ماتحت جوڈیشری نے اس وقت بالفعل اپنا رکھا ہے جس کا نام ہے جوڈیشل ایکٹوازم۔

کوئی بھی ایشو چاہے کتنا ہی مذہبی اور فرقہ وارانہ کیوں نہ ہو جب لاآف لینڈبن جاتا ہے تو تمامتر شرعی توجیہات اور موشگافیاں پیچھے رہ جاتی ہیں یا پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ فیملی لاءزآرڈیننس مجریہ1961 لاگو ہونے کے بعد،کسی کی کون سی فقہ ہے یا کون سا مذہبی فرقہ ہےایسا سوال یا ایسی بحث ہی لایعنی و شر انگیز ہے۔ کسی ریاستی محکمے یا بڑے چھوٹے ادارے کا کوئی کام نہیں کہ لا آف لینڈ کے ہوتے ہوئےفقہی و شرعی موشگافیاں کرتا پھرے۔ اسلام آباد کی سیشن کورٹ ہو یا ہماری کوئی بھی کورٹ آخر کس بنیاد پر کسی کو یہ کہہ سکتی ہے کہ آپ تو حنفی الفقہ ہیں آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں۔کوئی حنفی الفقہ ہے، شافعی ہے یا جعفری ، ریاست کا کوئی کام نہیں ہے کہ اس نوع کی تفریق پر قوانین بنائے ، ان کی تشریحات کرے یا اپنے نونہالوں کو شیعہ اسلامیات اور سنی اسلامیات پڑھاتے ہوئے ذہنی پراگندگی پھیلائے یا قوم میں تقسیم و انتشار مزید بڑھائے۔

اس تضادستان میں آپ لوگوں نے جتنے بھی قوانیں مذہبی، نسلی یا جنسی امتیازات پر استوار کر رکھے ہیں، یہ قومی و انسانی یک جہتی کیلیے زہر ہیں ان کا خاتمہ فرمائیں۔ فرقوں کے حقوق سماجی سطح پر اپنے اپنے دائرہ ء کار کے اندر رہنا چاہیں تو بے شک رہیں۔ وہاں وہ اپنی اپنی بھیڑوں پر اپنا اپنا رنگ خوب چڑھائیں لیکن ملکی و قومی یا ریاستی سطح پر تمام قوانین سازی ایسی تمامتر تنگناوُں سے مبرا  پاکیزہ و بلند و بالا ہو، یونیورسل فنڈامینٹل رائٹس کے عین مطابق جو آئین کی منسوخی پر بھی منسوخ نہیں ہو سکتے۔

الحمداللہ 1961 میں ہمارے جو عائلی قوانیں تشکیل پائے ہیں جنہیں آئینی تحفظ حاصل ہے ان کی بنیاد اسی اصول پر استوار ہے۔ البتہ ان میں جو جنسی و صنفی امتیازات پائے جاتے ہیں اکیسویں صدی کےبڑھتے ہوئے شعور کا تقاضا ہے کہ پارلیمنٹ کے علاوہ سپریم جوڈیشری ایسے تمامتر امتیازات کی انسانی مساوات کے آئینی و یونیورسل اصول پر درستی فرمائے اور عدالتیں اس نوع کے کسی بھی افتراق سے باز رہیں۔ جن کی اول و آخر ذمہ داری ہی یہ ہے کہ وہ بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے سوسائٹی کے کمزور طبقات عورتوں، اقلیتوں اور بچوں کے حقوق کا سہارا بنیں۔ کسی کی فقہ یا فرقہ کیا ہے؟یہ اس فرد اور اس کے فرقے کا باہمی معاملہ ہے ریاست کو کسی بھی قیمت پر اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے۔ وہ مائی باپ بن کر اپنے تمام بچوں کو ایک نظر سے دیکھے۔ اگر کوئی شریر یا تگڑا بچہ دوسرے کمزور یا لاچار بچے پر حاوی ہونے کی کوشش کرے گا تو ریاست مائی باپ کی حیثیت سے اس کی گوشمالی و ٹھکائی کرے اور کمزور بچے کو سینے سے لگائے۔

مسئلہ عدت ہے یا نکاح کے اوپر نکاح؟ کے عنوان سے درویش کے آرٹیکل کی پہلی قسط ہمارے اخبار جنگ میں شائع ہوئی تو مولانا مودودی کے فرزند سید حیدر فاروق مودودی کا فون آیا کہ آپ نے عدت کے حوالے سے جو وضاحت فرمائی ہے قابِل تحسین ہے۔ بلکہ آپ مزید واضح فرمادیجیے کہ آج کے دور میں جب میڈیکل سائنس میں اتنی ترقی ہوچکی ہے الٹرا ساوُنڈ کے ذریعے لمحے بھر میں یہ واضح ہوجاتا ہے کہ فلاں عورت حاملہ ہے یا غیرحاملہ تو پھر عدت کی کوئی تک نہیں بنتی ہے۔ کیونکہ عدت تو رکھی ہی اس مقصد کے تحت گئی تھی تاکہ وضع حمل میں کوئی الجھاؤ نہ رہے بچے کی ولدیت کا کوئی ایشو پیدا نہ ہو۔

اس پر درویش نے حیدر شاہ جی کو اپنی خالہ محترمہ سرداراں بی بی کا واقعہ سنایا جو بوڑھی تھیں اور ان کا خاوند فوت ہوگیا۔ وہ بیچاری منہ اور سر ڈھانپے پچھلے کمرے کے ایک گوشے میں پڑی رہتی تھیں کہ کوئی غیر محرم دکھائی نہ دے اور نہ وہ کسی سے بات کریں۔ یہ درویش گاؤں گیا تو شدت پسندی کی صورتحال دیکھ کر رنجیدہ ہوا اور انہیں مولوی صاحب کے لاگو کردہ حبس بیجا سے نجات دلائی۔ یہ کہتے ہوئے کہ ماں جی خالوجی کے گزر جانے کے بعد کیا آپ نے اب کوئی نئی شادی کرنی ہے؟وہ بیچاری شرمندہ سی ہوکر توبہ توبہ بولنے لگیں۔ ان کے سر سے یہ کہتے ہوئےچادرہٹائی کہ ماں جی جب سر کے بال سفید ہوجائیں تو انہیں اس گرمی میں چادروں کی محتاجی نہیں رہتی آپ انہیں ہوا لگنے دیں اور باہر آکر سب کے بیچ بیٹھیں۔ سوگ دل میں ہوتا ہے آپ کا میاں کھاہنڈا کر گیا ہے، جو زندہ ہیں آپ ان کی خوشیوں میں شامل ہوں۔ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ہے۔ آپ میں سے اکثر خواتین و حضرات نے اپنی فیملیز میں اس نوع کی صورتحال ملاحظہ کی ہوگی، بالخصوص ہماری دیہی زندگی میں۔

معروف ریسرچ سکالر محترم ڈاکٹرخالد مسعود اسلامی نظریاتی کونسل کے پروقار چیئرمین رہے ہیں۔ آپ کے ساتھ برسوں سے ایسی قربت ہے کہ تقریباً ہر ایشو پر ڈسکشن چلتی رہتی ہے۔ محترم ڈاکٹر جاوید اقبال کی طرح آپ کھل کر بولتے ہیں لیکن انہی کی طرح گفتگو کے ساتھ یہ شرط عمومی ہوتی ہے کہ یہ باتیں صرف آپ کیلیے ہیں پبلک کیلیے نہیں۔ کیونکہ ہر دو شخصیات یہ کہتی سنائی دیں کہ اس ملک میں آزادئ اظہار مفقود بنادی گئی ہے۔ یہاں جہل اس قدر حاوی ہو چکا ہے کہ شعور کو سرچھپانے کیلیے جگہ نہیں مل رہی۔

ناچیز کی اوائل عمری سے یہ عادت سی بن گئی ہے کہ وہ اپنے مطالعہ و مشاہدہ سے جس نئی دریافت یا سچائی تک پہنچے، وہ اپنے ان اہل علم احباب سے ضرور شیئر کرتا چلا آرہا ہے۔ اور اکثر بات شیئر سے مکالمے تک چلی جاتی ہے۔ حال ہی میں ڈاکٹر صاحب محترم سے شاہ بانو کیس میں نان و نفقہ سے لے کر عدت اور ٹرپل طلاقوں کے ایشوز تک بھرپور گفتگو ہوئی۔ بچ بچا کر عرض مدعاہے کہ تین طلاقیں یکبارگی لاگو کرنے پر احناف نے جو مؤقف اپنا رکھا ہے اس پر ڈاکٹر صاحب کا استدلال خوب تھا کہ اپنی اس سخت توجیح کے باوجود احناف اُسے ہمیشہ طلاق بدعت ہی قرار دیتے ہیں۔ یہ الگ بحث ہے کہ بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ کی تحضیص کرلی جاتی ہے۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ یہاں مذہبی مباحث و تحقیقات کو سیاسی مفادات کے تابع کردیا گیا ہے۔ عدت کا شوشہ بھی کچھ اسی نوعیت کا ہے۔ حالانکہ اس حوالے سے عورت کا اپنا بیان ہی کافی گردانا گیا ہے۔ 1961 کے فیملی لاز کو بھی اگر ضیاالحق آئینیِ تحفظ نہ دلا پاتے تو ان کا بھی تیاپانچہ کردیا جاتا۔ اس وقت ہمارے علما کے پاس سوائے علم کے شاید باقی سب کچھ ہے۔ اس حوالے سےڈاکٹر صاحب نے ایک نامور حضرت صاحب کا واقعہ سنایا جنہیں بیرون ملک ایک بین الاقوامی مذہبی کانفرنس میں، بین المذاہب ہم آہنگی کے تقاضوں پر اظہار خیال کی دعوت دی گئی تو وہ سورہ الفاتحہ پڑھ کر اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔ یوں جن ایشوز پر ضرورت کھلے مباحثوں اور مکالموں کی تھی ان پر لب کشائی کرنا بھی خوفناک بنا دیا گیا ہے۔