گولان کے مقبوضہ علاقے میں حزب اللہ کے راکٹ حملے میں 11 افراد ہلاک

  • اتوار 28 / جولائی / 2024

گولان کی پہاڑیوں کے مقبوضہ علاقے میں حزب اللہ کے راکٹ حملے میں 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ حملہ ایک فٹ بال گراؤنڈ پر کیا گیا۔ اسرائیل نے جوابی کارروائی میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو امریکہ کا دورہ مختصر کرکے واپس آگئے ہیں۔

اس حملہ کے بعد مبصرین غزہ میں جاری جنگ کے خطے میں پھیلنے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔ اسرائیل کی مقؓوضہ علاقوں ہفتے کو ہونے والے اس حملے کے بارے میں اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں حماس کے حملے کے بعد شمالی سرحد پر لبنانی عسکریت پسند گروپ حزب اللہ سے ہونے والی سرحدی جھڑپوں میں یہ اب تک کی سب سے ہلاکت خیز کارروائی ہے۔ حکام کے مطابق حملے میں کم از کم 11 بچے اور نوجوان ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ حملہ اسرائیل کے زیرِ انتظام گولان کی پہاڑیوں کے علاقے میں ہوا ہے۔ اسرائیلی حکام نے اس کارروائی کے لیے لبنانی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کو ذمے دار قرار دیا ہے۔ تاہم حزب اللہ نے فوری طور پر اس کی تردید کر دی ہے۔ اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے حزب اللہ کو خبردار کیا ہے کہ اسے اس حملے کی قیمت چکانی پڑے گی۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینئل ہگاری نے اس کارروائی کو گزشتہ برس سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیلی شہریوں پر سب سے بڑا حملہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہفتے کے راکٹ حملے میں 20 دیگر افراد زخمی ہیں۔

وزیرِ خارجہ  کاٹز نے  کہا ہے کہ بلاشبہ حزب اللہ نے سرخ لکیر عبور کر لی ہے اور اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں ایک باقاعدہ جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے۔

حزب اللہ کے ترجمان محمد عفیف نے خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تنظیم مجد الشمس کے علاقے میں ہونے والے حملے سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے۔ حزب اللہ کا اس طرح کسی کارروائی کی ذمے داری قبول کرنے سے انکار کرنا خلافِ معمول بات ہے۔

ہفتے کی یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیل اور حماس جنگ بندی کے مجوزہ معاہدے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں 10 ماہ سے غزہ میں جاری جنگ کی شدت میں کمی اور 110 اسرائیلی یرغمالوں کی اپنے گھروں کو واپسی ممکن ہو سکتی ہے۔