بلوچستان میں احتجاج روکنے کے لیے شاہراہیں بند، گوادر میں موبائل سروس معطل
بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں اتوار کو دوسرے روز بھی قومی شاہراہیں بدستور بند ہیں۔ یہ شاہراہیں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام ضلع گوادر میں ’بلوچی راجی مچی‘ (بلوچ قومی اجتماع) میں دوسرے علاقوں سے لوگوں کی شرکت روکنے کے لیے حکومت کی جانب سے بند کی گئی ہیں۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ گوادر میں اجتماع کے انعقاد کی اجازت نہیں لی گئی ہے، اس لیے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے قافلوں کو گوادر جانے سے روک دیا گیا ہے۔ دوسری جانب گزشتہ روز کوئٹہ سے جانے والے قافلے پر فائرنگ کے خلاف آج شٹرڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔
ہڑتال کے علاوہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور دیگر قوم پرست جماعتوں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کی کال بھی دی گئی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے ’بلوچ قومی اجتماع‘ ساحلی شہر گوادر میں آج شام منعقد ہو رہا ہے۔ گوادر شہر کو جانے والی تمام شاہراہوں بند ہونے کے علاوہ گوادر میں موبائل فون سروس کے علاوہ پی ٹی سی ایل کے فون بھی کام نہیں کر رہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ان کی بہن اس وقت گوادر میں موجود ہیں اور ان کی طرف سے پیغام دیا گیا ہے کہ گوادر میں فون نیٹ ورک بند کردیے گئے ہیں۔
گزشتہ روز ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ مکران ڈویژن میں ’کرفیو‘ کی صورتحال ہے اور گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنان کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ آج صبح جب گوادر کی صورتحال معلوم کرنے کے لیے موبائل فون نمبروں کے علاوہ پی ٹی سی ایل کے بعض سرکاری نمبروں پر رابطے کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ بند تھے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بیبرگ بلوچ کا دعویٰ ہے کہ ایک طرف حکومت گوادر میں اس اجتماع منعقد نہیں کرنے دے رہی ہے تو دوسری طرف گوادر شہر میں موبائل فون نیٹ ورک کو بند کرنے کے ساتھ ساتھ پی ٹی سی ایل کے نیٹ ورک کو بھی بند کیا گیا ہے۔
کوئٹہ سے جو قافلہ گزشتہ روز گوادر کے لیے نکلا تھا وہ بدستور کوئٹہ سے اندازاً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع مستونگ میں کوئٹہ کراچی ہائی وے پر موجود ہے۔ اس قافلے پر گزشتہ روز اس مقام کے قریب فائرنگ کی گئی تھی جس میں مجموعی طور پر 14 افراد گولی لگنے سے زخمی ہوئے تھے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے فائرنگ کا الزام فرنٹیئرکور پر عائد کیا گیا ہے۔
تاہم حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ کی اطلاعات غیر مصدقہ ہیں۔ جب بیبرگ بلوچ سے اس قافلے کی کوئٹہ سے آگے نہ بڑھنے کی وجوہات پوچھی گئیں تو ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں، جبکہ دوسری طرف قافلے میں شامل گاڑیوں کے ٹائروں کو بھی فائرنگ کرکے ناکارہ بنادیا گیا۔ انہوں نے بتایا چونکہ راستوں کی بندش کی وجہ سے ان گاڑیوں کے ٹائر نہیں منگوا سکتے اس لیے قافلے کے شرکا نے مستونگ میں ہی دھرنا دیا ہوا ہے۔
بلوچستان میں قومی شاہراہیں قلات ڈویژن اور مکران ڈویژن میں بند ہیں کیونکہ ’بلوچ قومی اجتماع‘ میں قافلوں کو زیادہ تر ان ہی دو ڈویژنوں کے علاقوں سے گزرنا ہے۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ قلات ڈویژن کے 6 اضلاع مستونگ، قلات، خضدار، آواران، لسبیلہ اور حب میں مجموعی طور پر 14 مقامات پر شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔
محکمہ داخلہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ رکاوٹیں سکیورٹی کی وجہ سے کھڑی کی گئی ہیں تاکہ لوگوں کے لیے خطرات کم کیے جا سکیں۔ تاہم حکومت کی جانب سے شاہراہوں کی بندش سے عام لوگوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان رکاوٹوں کی وجہ سے گزشتہ روز فاقلے پر فائرنگ کے ان شدید زخمیوں کو بھی کوئٹہ لانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا جن کو مستونگ میں ابتدائی طبیّ امداد کی فراہمی کے بعد کوئٹہ منتقل کیا جارہا تھا۔
عام لوگوں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے سوال پر حکومت کے ترجمان شاہد رند کا کہنا تھا کہ حکومت عام لوگوں کے نقل و حمل کو جاری رکھنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔