کھلاڑی کا پیغام، عسکریوں کے نام

سینے پر ہاتھ رکھ کر کہیے کہ اس تضادستان کے موجودہ حالات میں تدبر وخرد کی کون سی ایسی گتھی ہے جو خامہ فرسائی سے سلجھائی جائے۔ کسی دوست نے کیا خوب کہا ہے کہ انڈیا محض اپنی آئی ٹی کی ترقی سے 193 ارب ڈالر کمارہا ہے، مگر کوئی واویلا ہے نہ بڑھک نہ شورشرابہ جبکہ ہم ترلے منتوں سے سخت شرائط کے ساتھ دوارب ڈالر قرضہ لے آتے ہیں تو ڈھول ڈھمکے کے ساتھ بڑھکیں مار رہے ہوتے ہیں۔

چاپلوس کریڈٹ کا ہار کبھی اپنے گلے میں ڈالتا ہے، کبھی طاقتور کے۔ یوں قصیدہ خوانی کا ایک اور موقع ہاتھ آجاتا ہے، ویسے اگر کسی کی چودھراہٹ چاپلوسی کی مرہون منت ہو تو اسے کوئی لاکھ طعنے دے کہ بنا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا،  تو اسے خوشامدی مواقع ڈھونڈنے کا کیا تردد ہے جب بھی منہ کھولا کوئی نہ کوئی بیان داغ دیا۔ یوں موقع خود ہی بن گیا۔ تازہ ارشاد ہے کہ طاقتور کے خلاف پروپیگنڈہ ناقابل قبول ہے۔ صحیح بات ہے کیوں قبول کیا جائے اگر قبول کر لیا تو پھر اپنی نوکری تو گئی۔ یہ بھی فرمایا کہ 9 مئی کو غدر مچانے والا ٹولہ آج نئے ہتھکنڈوں سے وارداتیں کررہا ہے۔

یہ نئی واردات کیا ہے؟ہماری دانست میں کھلاڑی کا جیل خانہ جات سے طاقتور کے نام یہ پیغام ہے کہ بلند پرواز ہمیں آپ سے لڑانا چاہتے ہیں حالانکہ آپ سے لڑنا تو ہماری سرشت میں ہی نہیں۔ ہماری لڑائی تو روز اول سے چور سیاسیوں سے رہی ہے۔ طاقتوروں کے سامنے تو ہم ہمیشہ کورنش بجالاتے ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر انہیں اپنے والد محترم کا مقام دیتے ہیں۔

یہ جو 9 مئی کا دھبہ ہے یہ انہی چور سیاسیوں کی چوں چوں کا مربہ ہے۔ ہمارا ارادہ تو کچھ بھی نہ تھا یہ تو محض ان رقیبوں پر رعب دبدبہ ڈالنے اور اپنی عوامی کریڈیبلٹی کو مضبوط و توانا دکھانے کیلیے ایک نمائشی سا کرکٹ میچ تھا، جو خواہ مخواہ دنگل سے دنگا بن گیا۔ جس کی چاہو قسم  لے لو سوائے دابے شابے کے ہمارے ذہن میں دنگا فساد یا بلوہ ہرگز نہ تھا۔ لیکن جوانی چونکہ دیوانی ہوتی ہے، ہمارے نوجوان اپنے محبوب لیڈر کی محبت میں پاگل ہوگئے تھے۔ یا پھر ہمیں مشورے دینے والے اور اس راہ پر لگانے والے غیر سیاسی خردماغ تھے۔ اگر ان کے ذہنوں میں اس نوع کا کوئی زہر تھا بھی کہ پرتشدد عوامی ہجوم کے دباؤ میں آکر عسکریت پھٹ جاۓ گی اور کمان کوئی دوسرا طاقتور سنبھال لے گا تو ہمارا کھلاڑی ذہن ایسی کسی ناکام بغاوت کی طرف قطعی نہیں گیا۔

اس نوع کی منصوبہ بندی کرنے والوں کی یہ اپنی ذہنی اختراع تھی کہ بنگالی عوام کی طرح پاکستانی عوام بھی اتنی بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئیں گے کہ طاقتور جس طرح شیخ مجیب کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئے تھے، اسی طرح ہماری عوامی سونامی کے سامنے ہتھیار پھینکتے ہوئے سرنگوں ہوجائیں گے۔ یوں اس سیلاب کی طغیانی میں ہر چیز خش و خاشاک کی طرح بہہ جائے گی۔ ایک کھلاڑی ذہن بھلا اس نوع کی اتنی بڑی اور خطرناک رسکی منصوبہ بندی کیسے کرسکتا ہے؟ یہ تو کوئی آپ کا عسکری دماغ ہی تھا جس کی ناکام چال نے ہم عادی وفاشعاروں کو خواہ مخواہ آزمائش کی بھٹی سے گزار کر اڈیالہ جیل میں پہنچادیا ہے۔ ورنہ ہم تو ایسے ہرگز نہ تھے۔

میں نے اپنی طویل کرکٹ لائف سے یہ سبق سیکھا ہے کہ سچا کھلاڑی کبھی ہار نہیں مانتا وہ آخری بال تک اس امید کے ساتھ لڑتا ہے کہ شاید کوئی نہ کوئی معجزہ ہوجائے بارش آجائے یا مخالف کی کوئی پسلی ٹوٹ جائے۔ یہ سپریم جوڈیشری کے اتنے زیادہ ججز کا میری محبت میں ماورائے آئین و قانون فیصلہ، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ ویسے ہی محض اتفاق سے ہوگیا ہے؟ نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے یہی وہ بارش ہے جس کی میچ ہارنے والے ہر کھلاڑی کو آس ہوتی ہے۔ سیانے لوگ اسے باران رحمت کہتے ہیں۔ جب اللہ اپنے کام کیلیے کسی کو چن لیتا ہے تو وہ اس کی محبت و وارفتگی عوام ہی میں نہیں ججز کے دلوں میں بھی ڈال دیتا ہے۔ رہ گئی مخالف کی پسلی ٹوٹنے والی بات تو اس سے مراد صدر زرداری کی پسلی بھی تو ہوسکتی ہے۔ اگر آدم ؑ کی پسلی سے حوا بن سکتی ہے تو ایک بزرگ کی پسلی ٹوٹنے سے حکومت کیوں نہیں گرسکتی۔ ویسے بھی اندر خانے باپ بیٹے کے بیچ جو تناؤ چل رہا ہے آخر اس نے بھی تو کسی روز ایک مقام پر آکر ٹھہرنا ہے۔ ہونے کو کیا کچھ نہیں ہوسکتا جیسے ایسٹیبلشمنٹ محض خاکی ہی تو نہیں ہوتی، کالی بھی تو ہوتی ہے۔ فی زمانہ ججز کی طا قت خاکیوں سے کسی طرح کم نہیں گردانی جا رہی ہے۔ اگر وہ میری مری ہوئی بھیڑوں کو مخصو ص نشستوں کی صورت زندہ کرسکتے ہیں تو جن حلقوں میں فارم 47 کے تحت ہم  نے دھاندلی کی اپیلیں دائر کررکھی ہیں وہ سب سیٹیں بھی تو وہ پکے ہوئے پھل کی طرح ہماری جھولی میں ڈال سکتے ہیں۔

میری پارٹی کے لوگ ایسے ہی بونگیاں نہیں مار رہے ہیں، وہ پورے حساب کتاب اور پلاننگ کے ساتھ بتارہے ہیں کہ دسمبر تک ہماری اتنی نشستیں آجائیں گی کہ ہم اپنی حکومت بناسکیں گے۔ اب وہ زمانے گئے جب سب کچھ عسکری خاکیوں کے ہاتھوں میں ہی ہوتا تھا۔ اب پاکستانی عوام اتنے باشعور ہوچکے ہیں اگرچہ بنگالی نوجوانوں جتنے نہیں، اگر اتنے ہوجاتے پھر تو کوئی کمی نہ رہ جاتی۔ اتنی بڑی عوامی سونامی کے سامنے کوئی عسکری بند نہیں باندھا جاسکتا تھا۔

اسی کمی کو پورا کرنے کیلیے ہم ایسٹیبلشمنٹ کے دوسرے طبقے کا تعاون لے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اول طبقے کی غلط فہمیاں دور کرنے کیلیے کوشاں ہیں۔ اسی لیے وضاحت کیے دے رہے ہیں کہ ہم نے 9 مئی کو جی ایچ کیو کے سامنے احتجاج کرنے کا ضرور کہا تھا مگر ہمارے ذہن میں یہ احتجاج پر امن اور فرینڈلی تھا۔ اب آپ دیکھیں امریکی فوج سے زیادہ منظم فوج تو سوائے ہمارے دنیا میں کوئی نہیں، آخر ان کے اندر بھی تو فرینڈلی فائر ہوجاتے ہیں۔ کئی لوگوں کی جانیں تک چلی جاتی ہیں لیکن کیا اس سے ان کی باہم دشمنی ہوجاتی ہے؟

ہمارے لڑکوں نے اگر فرینڈلی فائر کربھی دیے ہیں تو کیا ہوا ان سے کسی کی جان تو نہیں گئی ہے اگرچہ کچھ یادگاریں خراب ہوئی یا جلی ہیں، مگر ایسے تو نہیں ہے کہ وہ دوبارہ نہ بن سکتی ہوں۔ الحمداللہ وہ سب دوبارہ بن بھی چکی ہیں تو اس پر آپ کو اتنا غصہ نہیں ہونا چاہیے۔ آپ کو اپنے ذہن سے یہ خوف نکال دینا چاہیے کہ ہم اگر دوبارہ اقتدار میں آگئے تو آپ سے کسی قسم کا کوئی انتقام لیں گے۔ ہم اگر انتقام لیتے بھی ہیں تو صرف سیاسیوں سے، کیونکہ وہ چور ہوتے ہیں اور میں نے قسم کھا رکھی ہے کہ میں نے چوروں کو نہیں چھوڑنا۔ طاقتور اگر زیادتی بھی کرلیں تو ہم پی جاتے ہیں۔ باجوہ نے ہمارے خلاف کتنی خفیہ کارروائیاں کیں ہمارےمخالفوں سے اندرون خانہ تعلقات استوار کیے۔ ہمارے خلاف امریکا سے مل کر نو کانفیڈنس موشن لائےاس سب کے باوجود ہمارا ذہن انتقامی نہیں تھا۔

آخری لمحوں میں بھی ہم  نے انہیں پیش کش کی کہ اگر وہ ہماری طرف دست تعاون بڑھائیں تو ہم انہیں تاحیات ایکسٹینشن دینے کیلیے تیار تھے اور یہ پیشکش ہم آپ کو کرنے کیلیے بھی تیار ہیں، بشرطیکہ آپ اپنے ذہن میں بٹھایا ہوا ہمارے سے خوف نکال کر باہر پھینک دیں۔ اور ان چوروں چاپلوسوں کے سروں سے اپنا دست شفقت ہٹالیں۔ ہم پاکستان کے کروڑوں عوام کی نمائندہ سب سے بڑی سیاسی پارٹی ہیں۔ ہم پر پابندی کا سوچئے گا بھی نہیں ورنہ ملک ٹوٹنے کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔