لبنان میں اسرائیلی ڈرون حملے میں دو افراد ہلاک، جنگ پھیلنے کا اندیشہ

  • سوموار 29 / جولائی / 2024

اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ نے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کی حکومت کو اختیار دیا ہے کہ وہ گولان کی پہاڑیوں میں راکٹ حملے کے جواب کے طریقے اور وقت کے بارے میں فیصلہ کرے۔ پیر کو جنوبی لبنان میں اسرائیل کے ڈرون حملے میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔

امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کو گولان کپ پہاری پر ہونے والے حملے کا الزام لبنان کے عسکری گروہ حزب اللہ پر لگایا تھا حملے میں 12 نوجوان اور بچے ہلاک ہوئے تھے۔ حزب اللہ نے روز اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔

گزشتہ برس سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے بعد یہ اسرائیل پر سب سے زیادہ ہلاکت خیز حملہ تھا۔ اس سے اسرائیل اور حزب اللہ میں جنگ شروع ہونے کا اندیشہ ہے۔ حملے کے بعد اسرائیلی جیٹ طیاروں نے اتوار کو دن کے وقت جنوبی لبنان میں اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔

وزیرِ اعظم نیتن یاہو اپنا امریکہ کا دورہ مختصر کرکے کابینہ کے ساتھ ہنگامی اجلاس اور حالات کا جائزہ لینے کے لیے واپس تل ابیب پہنچ گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والا راکٹ ایرانی ساختہ میزائل تھا۔

وائٹ ہاؤس نے اتوار کو مجدل شمس کے حملے کا ذمہ دار حزب اللہ کو ٹھہرایا ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ لبنان کی حزب اللہ نے کیا تھا۔ یہ ان کا راکٹ تھا اور ان کے زیرِ کنٹرول علاقے سے داغا گیا۔ امریکہ کی نائب صدر اور ڈیموکریٹس کی ممکنہ صدارتی امیدوار کاملا ہیرس نے اپنے قومی سلامتی کے مشیر کے ذریعے کہا ہے کہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے ان کی حمایت فولاد کی طرح مضبوط ہے۔

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ ہفتے کو ہونے والے خوفناک حملے کے بعد اسرائیلی اور لبنانی حکام کے ساتھ مسئلے کے سفارتی حل پر کام کر رہا ہے۔ امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹونی بلنکن نے کہا کہ واشنگٹن تنازع میں مزید اضافہ نہیں چاہتا۔ اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ روزانہ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کو اسرائیل کو خبردار کیا کہ وہ لبنان میں کسی بھی نئی مہم جوئی کا مخالف ہے جب کہ شام کی وزارتِ خارجہ نے اسرائیل کو خطے میں اس خطرناک کشیدگی کا مکمل ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ حزب اللہ کے خلاف اس کے الزامات درست نہیں ہیں۔

اس کشیدگی کے باعث کثیر آبادی نے سرحدی علاقے چھوڑے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق لبنان میں لگ بھگ ایک لاکھ جب کہ اسرائیل میں 60 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ دونوں اطراف کئی اسکول اور صحت کے مراکز بند ہیں۔