بنگلہ دیش میں اردوکا نمائندہ خطاط اور شاعر قاسم انیس
- تحریر محمد حسن
- سوموار 29 / جولائی / 2024
طباعت کی تاریخ تین ہزار قبل مسیح سے شروع ہوتی ہے۔ آثار قدیمہ کے مطابق اُس وقت کی تہذیبوں میں مٹی کی تختیوں میں لکھی ہوئی دستاویزات کا انکشاف کیا گیا جس کی ابتدائی شکلوں میں بلاک مہریں، سکےاورمٹی کے ظروف میں نقوش قابلِ ذکر ہیں۔
زمانےکی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ طباعت میں بھی جدید رجحان پائے گئے۔ چین میں ساتویں صدی عیسوی میں ابتدائی طور پرریشم کےکپڑے پر پرنٹ کرنے کا طریقہ ایجاد کیا گیا۔ بعد ازاں کاغذ پر تحریروں کے لئے لکڑی کے بلاک کی پرنٹنگ کےکام کا آغازبھی چین سے ہوا۔ برِ صغیر میں وادی سندھ کی تہذیب کے زمانے میں ہی پرنٹنگ کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ اس وقت لکڑی، ہڈی اور ہاتھی کے دانت جیسی مختلف اشیا پر نقاشیاں نیز پیتل اور تانبے کے ظروف پر معلومات کومحفوظ کرنے کا رواج تھا۔ پرتگالیوں کے ذریعہ ہندوستان میں سب سے پہلے پرنٹنگ مشین ۱۵۵۶ میں گوا پہنچی۔ صنعتی انقلاب کے نتیجے میں چھاپا خانہ کا ایجاد ہوا۔
عروس البلاد کلکتہ مختلف وجہ سے جانا جاتا ہے۔ سب سے پہلا انگریزی روزنامہ ’’ہائیکی بنگال گیزیٹ‘‘ کی اشاعت۱۷۸۰ میں کلکتہ سے ہوئی۔ اگر ہم اردو روزنامہ کے حوالے سے بات کریں تو اردو کا پہلا روزنامہ شائع کرنے کا شرف بھی شہرِ کلکتہ کے سر ہے۔’’ جام جہان نما‘‘ کے نام سے۱۸۲۲ میں پہلا اردو روزنامہ شائع ہوا۔ علاوہ ازیں اس اخبارکے شائع ہونے سے اردو کے مایہ ناز شاعر غالب نے یہ کہہ کر اعتراض کیا تھا کہ یہ اخبار معنوی اعتبار سے غلط اور ناقابل اعتماد ہے۔ پھر بھی اخبارکی اشاعت تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔
اب اگر ہم مشرقی بنگال یعنی بنگلہ دیش کی پرنٹنگ کی تاریخ کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ۱۸۴۷ میں ملک کا شمالی شہر رنگپور میں پرنٹنگ مشین کے ذریعہ پرنٹنگ کے کام کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اس وقت اسی پرنٹنگ مشین کا استعمال کرتے ہوئے’’ رنگپور بارتا بوہو‘‘ کے نام سے بنگلہ روزنامہ شائع کیا گیا۔ دریں اثنا ۱۹۰۶ میں مشرقی بنگال میں اردو روزنامہ ’’المشرق ‘‘ شائع کیا گیا ۔ لیکن معیاری پرنٹنگ کی غرض سے اس خطہ کے شاعروں، ادیبوں اور صحافیوں کوہمیشہ کلکتہ کا رخ کرنا پڑتا تھا۔
۱۹۴۷ میں تقسیمِ ہند کے پیشِ نظر ہندوستان سےدوسرے دیگر لوگوں کے ساتھ اردو شعرا، ادبا اور صحافیوں کی ایک کثیر تعداد مشرقی پاکستان ہجرت کرنے پرمجبور ہوئی ۔ تقسیمِ ہند کے دوران پاکستانی سیاست دانوں نے بھارتی مسلمانوں کوجو خواب دکھائے تھے وہ کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے۔ ہجرت کرنے والوں کوقانونی یا شہری مسائل سے دوچار ہوناپڑا۔ بلکہ پاکستان کے کراچی میں آج بھی بھارت سے ہجرت کرنے والی کمیونٹی کو قانونی دستاویزات حاصل کرنے میں پیچدگی کاسامنا ہے۔
اگر ہم مشرقی پاکستان میں صحافت کے حوالے سے بات کریں تو اس شعبہ کو بھی بہت سارے مسائل درپیش تھے۔ اُنہیں مغربی پاکستان کی اردو اخباروں کی طرح سرکاری سرپرستی حاصل نہیں تھی۔ مشرقی پاکستان سے جو اخبارات و رسائل شائع ہوتے تھے، قارئین ان میں وہی معیار دیکھنا چاہتے تھے جو معیار انہیں مغربی پاکستان کے اخباروں میں نظر آتا تھا۔ لیکن سرکاری بے توجہی کی وجہ سے مشرقی پاکستان میں صحافت پنپ نہ سکی۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر ڈھاکہ میں سب سے پہلا اردو روزنامہ نہال احمد سہسرامی کی ادارت میں ’’ مشرقی پاکستان ‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس کے بعد متعدد اوقات میں تقریباً ۲۵سے زائد اردو اخبارات شائع کئے گئے۔ لیکن سرکاری سوتیلےرویوں کی وجہ سے تمام اخباروں کی اشاعت کے اوقات کار زیادہ سے زیادہ دو سال ہوتے تھے اور اُن اخباروں کی قبل از وقت موت واقع ہوجاتی تھی۔ ان ہی تمام حقائق کے پیشِ نظر مشرقی پاکستان میں اخبار کی اشاعت میں کاتبوں کا بڑا کردار رہا ہے۔ اُس زمانےمیں سرِ فہرست خطاط احمد بدایونی تھے۔ ان کے علاوہ اردوداں کاتبوں میں محمد عثمان، عبد الاحد، شمس الحق، شبیر احمد، عبد الغفور، مرتضیٰ علی، محمد کوثر علی، محمد اظہار، سلطان علی خان، حافظ جلیل ، وزیر علی، علیم اللہ صدیقی ، محمد طاہراور قاسم انیس وغیرہ قابلِ ذکر ہیں ۔ دریں اثنا مشرقی پاکستان سے متعلق غیر معمولی معلومات یہ کہ اس زمانے میں چند بنگالی نژاد اردو خطاط بھی ہوا کرتے تھے جن میں محمود اللہ، سراج احمد، عبید الحق ، نورالحق اور غریب اللہ وغیرہ قابلِ ذکرہیں۔ جنہوں نے اردوسے محبت کے پیشِ نظر اپنی گراں قدر خدمات سے اردو تحریروں کو دوام بخشنے کی کوششیں کیں۔ ان کے علاوہ اور بھی کاتب یا خطاط ہوسکتے ہوں لیکن ان کے بارے میں مزید کوئی معلومات دستیاب نہیں۔ میں آج کے اس مضمون کو بنگلہ دیش میں خاموشی کے ساتھ اردو کی خدمت کرنے والے خطاط قاسم انیس پر مرکوز کرنا چاہتا ہوں۔
بنگلہ دیش کے معرضِ وجود میں آنے کے بعداردوایک معتوب زبان بن کر رہ گئی۔ اردو لائبرریوں کو نظرِ آتش کردیا گیا۔ اردو اسکولوں اور کالجوں کا گلا ہمیشہ کے لئے گھونٹ دیا گیا۔ اردوبولنے کے جرم میں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کا قتلِ عام کیا گیا۔ انہیں گھر، کاروبار اور جائیداد سے بے دخل کر دیا گیا۔ جو قتلِ عام میں زندہ بچ گئےان کی اکثریت کو کیمپوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کیاگیا۔ ان ہی تمام نامسائد صورتِ حال میں قاسم انیس نے قلم کو تلوار کی حیثیت سے استعمال کیا۔ انہوں نے کتابت کے شغل کو اپنے سینے سے لگائے خطاطی کو اپنا ذریعہ معاش بنا لیا۔ اس مدت کے دوران انہوں نے سو سے زائد کتابوں اور رسائل کی کتابت کی ہے۔ جس کے ذریعہ بنگلہ دیش میں اردو کی نادر تخلیقات کی ا شاعت کو انہوں نےممکن بنایا جس کی اپنی ایک تاریخی حیثیت ہے۔
قاسم انیس ۱۹۴۳ میں کلکتہ کے ہوڑہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام محمد یٰسین اور والدہ کا نام عیدن بی بی ہے۔ ابھی قاسم انیس کی عمر کچھ چار سال کی تھی کہ ۱۹۴۷ میں مہلک بیماریوں میں مبتلا ہو کر ان کے والد اور والدہ نےاس جہاں کو الوداع کہا۔ قاسم انیس کا کہنا ہے’’ جس دن والد کا انتقال ہوا، اس روزاہلِ کلکتہ نےبرفباری کامشاہدہ کیا تھا‘‘ ۔ اپنے والد سے متعلق ان کے پاس صرف اتنی سی یادیں موجود ہیں۔ والدین کے گزر جانے کے بعد ان کے دادا میر بخش نے قاسم انیس اور ان کی بہن کے سر پر شفقت کاہاتھ رکھا۔ کلکتہ میں ان کے دادا ٹانگہ اور ہوٹل کا کاروبارکرتے تھے۔ ۱۹۴۷ میں کلکتہ میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات سے ان کے دادا بیحد مایوس ہوئے۔ ۱۹۵۰ میں کلکتہ سے ہمیشہ کے لئے رشتہ توڑ کروہ مشرقی پاکستان چلے آئے۔
قاسم انیس بھی اپنے دادا کے ہاتھ تھامے یہاں آئے ۔ مشرقی پاکستان آنے کے بعد ان کے خاندان والوں نے ڈھاکہ سے قریب میمن سنگھ کا ایک گاؤں ’’اکوا ‘‘ میں پناہ لی۔ اسی گاؤں میں اسلام آباد کالونی سرکاری پرائمری اسکول میں درجہ پنجم تک تعلیم حاصل کی تاہم خاندانی معاشی حالات سازگار نہ ہونے کےسبب انہیں تعلیم سے قطعہ تعلق کرنا پڑا۔ لیکن انہوں نے مطالعہ کا ساتھ نہیں چھوڑا ۔ جو بھی چھپی ہوئی چیزیں مہیا ہوتیں وہ اس کا مطالعہ کرتے۔ اسی طرح ان میں خوشخط لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ اس ضمن میں انہوں نےمشق شروع کردی اور دھیرے دھیرے کامیابی ملنے لگی۔ روزگار کی تلاش میں ۱۹۵۸ میں ڈھاکہ آئے لیکن خاطر خواہ کوئی انتظام نہ ہونے کی وجہ سے ۱۹۶۵میں وہ سید پورچلےآئے۔ سیدپور ملک کا شمالی خطہ میں واقع ایک چھوٹا سا شہر ہے جہاں اردو بولنے والوں کی آج بھی اکثریت ہے۔ یہاں ان کی ملاقات سلطانی پریس کے مالک سلطان علی خان سےہوئی۔ قاسم انیس نے باقاعدہ خطاطی کی تربیت ان سے حاصل کی۔ چار مہینہ کی مشقت اور لگن نے انہیں ایک پیشہ ور خطاط بنا دیا۔ ان کی صلاحیت کو سراہتے ہوئےحافظ جلیل جو خود بھی کاتب تھے اور ان سے ’’روزنامہ پاسبان‘‘ کے ہیڈ کاتب احمد بدایونی کے گہرے مراسم تھے۔ انہوں نے قاسم انیس کو احمد بدایونی کے پاس بھیجا۔ اسی طرح ۱۹۶۶ میں ’’روزنامہ پاسبان‘‘ میں کاتب کی حیثیت سے قاسم انیس کو ملازمت مل گئی۔ ۱۹۶۶ تا ۱۹۷۱ تک انہوں نے روزنامہ پاسبان، روزنامہ ہماری آواز، ہفتہ وار انصاف میں ملازمت کی۔
۱۹۷۱ میں پاکستا ن دو لخت ہوگیا ۔ مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش کے نام سے دنیا کے نقشہ میں ابھر کر سامنے آیا۔ جس کی وجہ سے اردو بولنے والی کمیونٹی میں اکثریت کا خواب ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گیا۔ ان میں قاسم انیس بھی شامل ہیں۔ بے روزگاری کے عالم میں انہوں نے دوبارہ سیدپور کا رخ کیا۔ لیکن ایک چھوٹا سا شہر جن میں وہاں کے مقامی لوگوں کا ہی جینا محال تھا ، وہاں قاسم انیس کس طرح خود کو ضم کر پاتے۔ جس کی وجہ سے ۱۹۷۴ میں اپنے خاندان کے ساتھ ڈھاکہ چلے آئے۔ ۱۹۷۱ کی جنگِ آزادی کے بعد بچ جانے والے لوگوں کے لئے تعمیرکردہ ۱۱۶ خیمہ جو کہ ملک کے طول و عرض میں آج بھی موجود ہے ۔ ان میں سے ایک جو ڈھاکہ میں مارکیٹ کیمپ کے نام سے منسوب ہے، میں رہائش اختیار کی۔ ایک چھوٹی سی کٹیا میں انہوں نے اردو کے لئے جہد شروع کی۔ چونکہ بنگلہ دیش کےمشہور و معروف اور نمائندہ اردو شاعر شمیم زمانوی کے ساتھ قاسم انیس کے گہرے مراسم ہیں۔ شمیم زمانوی مختلف کتابوں اور رسائل کی کتابت و اشاعت کے سلسلہ میں قاسم انیس کی کٹیا پر جاتے رہتے ہیں۔ اس حوالے سے شمیم زمانوی نے اپنی ایک غزل میں معرکتہ الآرا اشعارکہے ہیں:
زندگی کیسے گھروندوں میں بسر کرتے ہیں
سوچتا ہوں تو جینے کا ہنر لگتا ہے
کیمپ والوں کی رہائش کوئی دیکھے جاکر
’’پاؤں پھیلائیں تو دیوار سے سر لگتا‘‘
قاسم انیس نے ایوب جوہراور حید رصفی کے افسانوں کا مجموعہ احمد سعدی، عطاالرحمن جمیل اوراحمد الیاس جیسے قدآور شاعروں کی شعری مجموعے نیز ڈاکٹر یوسف حسن اور ڈاکٹر کنیز بتول جیسے شہرت یافتہ ماہرِ تعلیم کی پی ایچ ڈی کے مسودے کو لکھ کر اپنے قلم کے جوہردکھائے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہےکہ انہوں نے حیدر صفی کا نمایاں ناول ’’ مادام‘‘ کی خطاطی کی۔ اس ناول کے لئے حیدر صفی کو ۱۹۷۲ میں آدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بے شمار اردو رسائل و جرائد کی بھی خطاطی کی ہے۔ فی زمانہ وہ آنجہانی الہامی بنگالی نژاد شاعرہ ممتاز رینو کے اردواورفارسی مجموعوں کی کتابت کا کام کررہے ہیں۔ دریں اثنا ممتازرینو کے بہت سارے مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں۔ ان میں ’’ میری صورت تیرا آئینہ‘‘ اور ’’الہامی دیوانے رینو ممتاز رینو‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔ قاسم انیس بنگلہ دیش کے مدرسوں میں اردو کی تعلیم کو فروغ دینے کے لئے ترتیب دئیے گئے نصابی کتابوں کی بھی خطاطی کرچکے ہیں جس کے بارے میں بنگلہ دیش میں شاید ہی کسی کو خبر ہو۔ نیزخانقاہوں میں اردو کے فروغ کے لئے مختلف صوفیانہ کلام کی خطاطی کی اورانہیں زیورِطباعت سے آراستہ کیا۔
کتابت کے ساتھ ساتھ قاسم انیس نے افسانے بھی تحریر کئے جو کہ بنگلہ دیش سمیت ہندوستان اور پاکستان کےمختلف رسائل میں شائع ہوچکے ہیں۔
وہ ایک کہنہ مشق شاعر کی حیثیت سے شاعری میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔ اپنی شاعری کے ابتدائی مرحلے میں وہ ملک کے معروف شاعر حافظ دہلوی سے مشورہ سخن لیا کرتے تھے۔ ان کی شاعری میں ہجرتوں کا کرب، اردو بولنے والی کمیونٹی کی صورتحال عیاں ہے جس کی نمائندگی مذکورہ اشعار میں قارئین محسوس کرسکتے ہیں۔ اس ضمن میں ان کے چند متفرق اشعار پیشِ خدمت ہیں:
ذہن میں خاکہ مستقبلِ خوشتر لے کر
لوگ فٹ پاتھ پر بیٹھے ہیں مقدر لے کر
گھر میں رہتے ہوئے اب بھی ہیں بےگھر یارو
گھر سے نکلے تھے کبھی ذہن میں اک گھر لے کر
ڈولیاں اٹھتی نہیں مالِ غنیمت کے بغیر
موم کی طرح جوانی کو پگھلتے دیکھا
صبح کو روٹی ڈھونڈنے نکلے اپنے اپنے گھر سے لوگ
شام کو ایسے لوٹے جیسے لوٹے ہیں محشر سے لوگ
کہیں انسانیت اوندھی پڑی ہے
کہیں انساں بنایا جارہا ہے
ازدواجی زندگی میں ان کے تین بیٹے انعام الحق، عطا الحق، اکرام الحق اورچار صاحبزادیاں روشن آرا، زینب، صوغرہ اور رابعہ ہیں۔ اہلیہ خیرالنسا (مرحومہ) کا انتقال ۲۰۲۲ میں ڈھاکہ میں ہوا۔ ایک شاعر کی حیثیت سے انہیں جو مقام ملنا چاہئے تھا وہ حالات کی بےحسی کی وجہ سے نہ مل سکا۔ پھر بھی ایک شاعر کی تخلیق ہی اس کی نمائندگی کرتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ قاسم انیس کا شعری مجموعہ جلد ہی منظرِ عام پر آجائے گا اور ان کی تخلیق ناقدین کی توجہ کا مرکز بنے گی۔ اور ان کی شاعری قدرکی نگاہ سے دیکھی جائے گی۔
میں قاسم انیس کی اچھی صحت اور پُر سکون زندگی کے لئےدعا گو ہوں۔