قومی اسمبلی میں اسماعیل ہنیہ کے قتل پر اسرائیل کی مذمت
قومی اسمبلی نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قتل اوراسرائیلی جارحیت کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کی ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فلسطین میں اسرائیلی جارحیت اورحماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کے خلاف قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی۔
ایوان نے متفقہ طور پر اسے منظور کرلیا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان اسرائیلی مظالم کو مسترد کرتا ہے اور فلسطینی عوام سے مکمل اظہار یکجہتی کرتا ہے۔ اسرائیلی مظالم کے باعث 40 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔
قرار داد کئے مطابق پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے اور اسرائیلی مظالم کی مذمت کرتا ہے۔ قومی اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد میں اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے فلسطین میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی بربریت سے خواتین اور بچے بھی ہلاک ہوئے۔ تمام پارلیمانی جماعتیں گزشتہ نو ماہ سے فلسطینی عوام کے خلاف جاری اسرائیلی جبر و بربریت پر متحد ہو کر غم و غصے کا اظہار کرتی ہیں۔ ایسے واقعات کو فلسطینیوں کے خلاف جاری ظلم و بربریت کو روکنے اور خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی سوچی سمجھی سازش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ جس میں محرکات سے قطع نظر ماورائے عدالت اور ماورائے عدالت قتل، اور خطے میں بڑھتی ہوئی مہم جوئی پر شدید تشویش کے ساتھ خیالات شامل ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے جمعے کے روز ملک بھر میں یوم سوگ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ فلسطین کی صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ کے اراکین کے علاوہ اتحادی جماعتوں کے اراکین نے شرکت کی تھی۔ جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ فلسطینیوں سے یکجہتی اور اسرائیلی مظالم کے خلاف کل ملک بھر میں یوم سوگ منایا جائے گا۔
فلسطین کی عسکری تنظیم حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران کے دارالحکومت تہران میں بدھ کے روز ایک حملے میں مارے گئے تھے۔