ہنیہ کا قتل اور ولایت فقیہہ کی دھمکی
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 02 / اگست / 2024
درویش نے جب سے اس عالم رنگ و بو میں شعوری قدم رکھا ہے مڈل ایسٹ پرابلم کے ہر ہر پہلو سے آگہی حاصل کرتے ہوئے اس کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ اس ایشو پر جذباتی جنونیت کا پروپیگنڈہ اس قدر شدید ہے کہ اصلیت اس میں گم کردی جاتی ہے۔
ہردواطراف مظلومیت کی کہانیاں اور داستانیں بکھری پڑی ہیں جبکہ خونخواری کا موقع کوئی بھی فریق ضائع ہونے نہیں دے رہا۔ مسلمان معاشروں کا المیہ یہ ہے کہ ان میں عقل وشعور کی بات کرنا اپنے آپ کو دوہرے عذاب میں ڈالنے کے مترادف ہےکوئی پرعزم انسان حقیقت بیانی کی خاطرحوصلےکے ساتھ بالمقابل کھڑے ہوبھی جائے توابلاغی ادارے والےاس نوع کا رسک لینے کے لیےقطعی آمادہ نہیں ہوں گے۔ بلکہ قریبی خیرخواہ منع کرتے ہوئے بولیں گے، لعنت ڈالیں آپ کوئلوں کے بیوپار سے اپناچہرہ کیوں داغدار کرنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ کو اپنی زندگی پیاری نہیں ہے؟
ابھی حال ہی میں دوایسے سانحات ہوئے ہیں جن کے اثرات آگے چل کر کسی بڑی تباہی کا شاخسانہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ ایک تو اسرائیل کے زیر قبضہ جولان ہائٹس کے علاقے میں حزب اللہ کا حملہ ہے جس میں اسرائیل کا مؤقف ہے کہ اس کے دروز شہری 12 بچے مارے گئے ہیں جس کا فوری جواب دیتے ہوئے اسرائیل نے بیروت میں حزب اللہ کے ٹھکانے پر حملہ کرتے ہوئے حسن نصراللہ کے کمانڈر فواد شکری کو ہلاک کردیا ہے۔ دوسرا اس سے بھی شدید حملہ حماس کے چیف اسمعیل ہنیہ کی تہران میں ناگہانی ہلاکت ہے ۔قتل کی اتنی شدید واردات ریموٹ کنڑول سے ہوئی ہے یا گائیڈڈ میزائل مارا گیا ہے، اس کی تحقیق ایرانی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بلکہ اگر انصاف کی نظر سے جائزہ لیا جائے تو یہ ایرانی سیکیورٹی سسٹم کی کھلی ناکامی ہے۔
حماس چیف سٹیٹ گیسٹ کی حیثیت سے ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری میں مدعو تھے اور انہیں سربراہ حکومت جیسا پروٹوکول دیاگیا تھا۔ ان کی زندگی کا تحفظ پاسداران انقلاب کی ذمہ داری تھی۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اسماعیل ہنیہ جس گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے تھے یہاں وہ اس سے پہلے بھی قیام کرتے رہے ہیں۔ پاسداران انقلاب کی زیر نگرانی یہ گیسٹ ہاؤس ایک وسیع کمپاؤنڈ میں واقع ہے۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پوری عمارت ہل کر رہ گئی، کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور بیرونی دیوار بھی جزوی طور پر گرگئی۔ یہ ایرانی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی کی بہت بڑی ناکامی اور پاسداران انقلاب کیلیے باعث شرمندگی ہے۔ اگر یہاں دوماہ قبل کوئی ریموٹ کنٹرول بم نصب کیا گیا تھا تو اسے کیسے چھپایا گیا تھا اور پھر اتنی سیکیورٹی میں اس کا اہتمام کیسے ہوا؟ اس امر میں کوئی اشتباہ نہیں کہ یہ سب اسرائیل نے ہی کیا ہے۔ اگرچہ اسرائیل نے عوامی یا سرکاری سطح پر اب تک اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور امریکا نے بھی یہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں اس حوالے سے علم نہیں ہے۔ دوسری طرف اس نوع کے دعوے بھی کیے گئے ہیں کہ اسرائیل نے کارروائی سے قبل اپنے مغربی اتحادیوں کو آگاہ کیا تھا اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اسرائیل نے اپنی سرزمین سے یا ایرانی سرزمین سے گائیڈڈ میزائل کے ذریعے اسماعیل ہنیہ کو نشانہ بنایا ہے۔ اصلیت ہنوز واضح نہیں، یہ بھی کہاجارہا ہے کہ یہ اسپائک این ایل اوایس جدید ترین اسرائیلی گائیڈڈ میزائل تھا۔
میڈیا رپورٹس جو بھی دعوے کرتی رہیں یہ امر واضح ہے کہ حماس چیف کی ہلاکت ایرانی دارالحکومت تہران میں ہونا ایرانی حکومت کیلیے شرمندگی ، خجالت، ذلت اور پوری دنیا میں جگ ہنسائی کا باعث ہے۔ اور اس کے سیکیورٹی سسٹم کی اندرونی خامیاں سب پر واضح ہوگئی ہیں۔ اسی پس منظر میں ایران کے طاقتور ترین رہنما ولایت فقیہہ کے منصب پر براجمان آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے نہ صرف یہ اعلان کیا ہے کہ وہ حماس چیف کی ہلاکت کا بدلہ لیتے ہوئے اسرائیل پر شدید حملہ کریں گے بلکہ انہوں نے اپنی مسلح افواج کو یہ ہدایات بھی جاری کی ہیں کہ ردعمل میں اسرائیلی اور امریکی جواب کا سامنا کس طرح کرنا ہے، اس کی تیاری بھی کرلی جائے۔
دوسری جانب امریکا نے نہ صرف یہ اعلان کیا ہے کہ وہ ہر صورت اسرائیل کا دفاع کرے گا بلکہ امریکیوں نے اپنے جنگی جہازوں اور میزائیلوں سے لیس بحری بیڑا خلیج فارس کی جانب روانہ کردیا ہے۔ ایرانی پراکسیوں حزب اللہ، حماس اور یمنی حوثیوں نے بھی اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ہم اسماعیل ہنیہ کا بدلہ لیتے ہوئے اسرائیل کو سبق سکھادیں گے۔ ان دعوؤں اور اقدامات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مڈل ایسٹ میں اس وقت جنگ کے بادل کس طرح منڈلا رہے ہیں۔ ایران کو اس سلسلے میں شام اور ترکی کے علاوہ چائینہ سے بھی تعاون کی امید ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کے ہمسایہ ممالک میں سوائے شام کے کوئی بھی عرب ملک ایسی تباہ کن جنگ کا حصہ بننے کیلیے تیار نہیں ہے، بشمول سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات کسی بھی عرب ملک نے اسمعیل ہنیہ کے قتل پر رسمی مذمتی بیان تک جاری نہیں کیا ہے۔ اردن نے بھی اگر اسرائیل کا نام لیے بغیر رسمی سا بیان دیا ہے تو سب پر اس کا رول واضح ہے جسے شاہ عبدللہ دوئم کے امریکا اور اسرائیل سے قریبی تعلقات کے تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔ پچھلے دنوں ایران نے جب اسرائیل پر لاحاصل قسم کے میزائل پھینکے تھے تو اردن نے نہ صرف یہ کہ ایرانی جوابی حملے کی مذمت کی تھی بلکہ عملی طور پر ان میزائلوں کو راستے میں روکنے یا ناکارہ بنانے کیلیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا تھا۔ سعودی عرب نے بھی یہ کہا تھا کہ وہ اپنی فضائی حدود کو کسی بھی ایسے حملے کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ لبنان میں حزب اللہ جو بھی کاروائیاں کرتی رہتی ہے اور اسے ان کے جوابات بھی ملتے رہتے ہیں مگر لبنانی حکومت حزب اللہ کے ساتھ کھڑی نہیں ہوتی ہے۔
درویش کی نظر میں ایران کیلیے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ بڑی جنگ چھیڑنا خود ایرانی حکومت کیلیے بہت بڑا رسک ہوگا۔ نو منتخب ایرانی صدر مسعود پزشکیاں روایتی ملاؤں کے برعکس مغرب سے خوشگوار تعلقات کا عزم رکھتے ہیں اور وہ یہی نعرہ لگا کر انتخابی مہم چلاتے رہے ہیں اور ایرانی لبرل طبقات کا تعاون لے کر اس عہدے تک پہنچے ہیں۔ اب انہیں حلف اٹھاتے ہی اپنے اس مشن کے خلاف جنگ کی طرف جانا پڑتا ہے تو انہیں اس کے عواقب کا بھی ادراک ہوگا۔ ایرانی ولایت فقیہہ نے جو بھی اعلانات کیے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا ایران کی یہ کمزور انقلابی حکومت امریکا کا جوابی وار سہہ سکے گی؟ ماقبل درویش نے تحریر کیا تھا کہ 4 نومبر کو امریکا میں جو صدارتی انتخاب ہونے جارہا ہے ان کے باعث جو بائیڈن کیلیے ممکن نہیں ہوگا کہ وہ ان دنوں امریکا کو کسی بڑی جنگ میں الجھائیں۔ اب موجودہ امریکی صدر پر یہ واضح ہوچکا ہے اور وہ یہ اعلان کرچکے ہیں کہ وہ صدارتی امیدوار اپنی نائب کملا حارث کو بناچکے ہیں تو ان کیلیے کچھ مشکل نہیں رہا کہ کسی بھی ایرانی حملے کی صورت ایک سخت امریکی جواب دیں۔ ایرانی عوام تو پہلے ہی اپنے انقلابی ملاؤں کے استبداد اور معاشی بدحالی کے ستاۓ ہوئے ہیں۔ ایسے میں بڑی جنگ، اسلامی انقلابیوں اور خامینہ ای کو نہ صرف یہ کہ اقتدار سے محروم کر سکتی ہے بلکہ عین ممکن ہے یہ انقلابی قیادت صدام حسین جیسے انجام سے دوچار ہوجائے۔