اسمعٰیل ہنیہ کے کمرے میں بم ایرانی ایجنٹوں نے نصب کیا: برطانوی اخبار کا دعویٰ

  • ہفتہ 03 / اگست / 2024

برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے سربراہ اسمعیٰل ہنیہ کو شہید کرنے کے لیے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے ایرانی ایجنٹوں کی مدد سے بم نصب کروایا۔

برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق ایرانی ایجنٹوں نے اسمعٰیل ہنیہ کی قیام گاہ کے تین کمروں میں بم نصب کیے تھے۔  اصل منصوبہ کے مطابق انہیں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے جنازے میں شرکت کے موقع پر ہلاک کرنا تھا۔ دو ایرانی حکام نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ اس وقت منصوبے پرعمل درآمد نہ ہوسکا کیونکہ اس موقع پر ایران میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے اور یہ خدشہ تھا کہ یہ منصوبہ ناکام ہوجائے گا۔

اس کے بجائے 2 ایرانی ایجنٹوں نے شمالی تہران میں پاسداران انقلاب کے گیسٹ ہاؤس کے تین کمروں میں دھماکا خیز مواد نصب کیا جہاں اسمعٰیل ہنیہ ایران آمد پر قیام کر سکتے تھے۔ گیسٹ ہاؤس کی سی سی ٹی وی فوٹیج رکھنے والے اہلکاروں کے مطابق متعلقہ ایرانی ایجنٹس دبے پاؤں متعدد کمروں میں داخل ہوئے اور منٹوں میں وہاں سے باہر نکلے۔

برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا کہ بم نصب کرنے کے بعد ایرانی ایجنٹس بیرونِ ملک چلے گئے لیکن وہ ملک سے باہر رہ کر بھی بم دھماکا کرسکتے تھے۔ بدھ کی صبح 2 بجے جب انہیں یقین ہوگیا کہ اسمعٰیل ہنیہ کمرے میں موجود ہیں تو انہوں نے ریموٹ کی مدد سے دھماکا کردیا۔

پاسدارانِ انقلاب میں ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر برطانوی اخبار کو بتایا کہ ’تنظیم کو یقین ہے کہ اسرائیلی ایجنسی موساد نے انصار المہدی پروٹیکشن یونٹ کے ایجنٹوں کی خدمات حاصل کیں‘۔ انصار المہدی یونٹ اعلیٰ شخصیات کی سیکیورٹی کا ذمہ دار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مزید تفتیش کے بعد دو دیگر کمروں سے بھی اضافی دھماکا خیز مواد دریافت کیا گیا۔ دی ٹیلی گراف سے بات کرنے والے ایرانی عہدیدار نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ’اب پاسدارانِ انقلاب میں ایک دوسرے پر الزام تراشی کی جارہی ہے جس میں مختلف شعبے ایک دوسرے پر ناکامی کا الزام عائد کررہے ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب کے القدس فورس کے کمانڈر اسمٰعیل قاآنی لوگوں کو برطرف، گرفتار اور ممکنہ طور پر سزائے موت دینے کے لیے طلب کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سیکیورٹی مسئلے نے سب کی بےعزتی کی ہے۔ عہدیدار نے بتایا کہ ’سپریم لیڈر نے گزشتہ دو دنوں میں کئی بار تمام کمانڈروں کو طلب کیا ہے۔ وہ اس واقعے پر جواب چاہتے ہیں، ان کے لیے بدلہ لینے سے زیادہ سیکیورٹی خلاف ورزی کو دور کرنا اہم ہے‘۔

اس سے قبل امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں بتایا گیا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے 5 عہدیداران نے کہا ہے کہ بم تقریباً 2 ماہ قبل گیسٹ ہاؤس میں چھپایا گیا تھا۔ اسی رپورٹ میں مشرق وسطیٰ کے حکام کے مطابق اسمعٰیل ہنیہ تہران کے دورے پر کئی بار گیسٹ ہاؤس میں قیام کرچکے تھے۔ امریکی اخبار کی رپورٹ میں حکام کا کہنا تھا کہ دھماکے سے عمارت میں موجود عملہ چونک گیا اور وہ شور کا ذریعہ تلاش کرنے کے لیے بھاگے جو انہیں اس کمرے تک لے گیا جہاں اسمعٰیل ہنیہ قیام پذیر تھے۔

کمپاؤنڈ میں ایک طبی ٹیم موجود تھی جو دھماکے کے فوراً بعد حماس رہنما کے کمرے میں پہنچی، ٹیم نے اعلان کیا کہ اسمعٰیل ہنیہ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ طبی عملے نے محافظ کو زندہ کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ بھی جانبر نہ ہوسکے۔

خیال رہے کہ حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسمعٰیل ہنیہ کو 31 جولائی کو تہران میں اس وقت شہید کردیا گیا جب وہ نومنتخب ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی تقریب حلف برداری کے سلسلے میں ایران میں موجود تھے۔

ایران کے دارالحکومت تہران میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اسمعٰیل ہنیہ کی نماز جنازہ پڑھائی جس کے بعد جسد خاکی کو قطر منتقل کرکے ان کی رہائش گاہ پہنچایا گیا جہاں ان کی تدفین کی گئی۔

دریں اثنا امریکہ نے اسرائیل کے تحفظ اور ایران کی جانب سے ممکنہ حملے کے خدشے کے پیشِ نظر خطے میں لڑاکا طیارے اور بحری بیڑے بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے جمعے کو ایک حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے بعض علاقوں کی حفاظت کے لیے جدید جنگی ساز و سامان منتقل کیا جائے گا۔