بنگلہ دیش کی وزیر اعظم ملک سے فرار، عبوری حکومت قائم ہوگی

  • سوموار 05 / اگست / 2024

بنگلہ دیش میں پرتشدد مظاہروں کے دوران وزیرِ اعظم شیخ حسینہ نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ بنگلہ دیش کے آرمی چیف وقار الزمان نے وزیرِ اعظم کے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے ملک میں عبوری حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے۔

پیر کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کو مخلوط حکومت کے ذریعے چلایا جائے گا اور ملک میں امن واپس لائیں گے۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ تمام مسائل حل کرنے کے لیے سب مل کر کام کریں گے۔

بنگلہ دیش کے آرمی چیف وقار الزمان نے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی یا کرفیو کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ عبوری حکومت کے قیام کے لیے صدر سے ملاقات کریں گے۔

آرمی چیف نے طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ پر امن رہیں۔ ہم ملک کے مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عبوری حکومت کے قیام کے لیے صدر سے بات چیت میں تمام مرکزی سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔

بنگلہ دیش کے آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ ملک مزید بد امنی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ معیشت کو پہلے ہی نقصان پہنچ رہا ہے جب کہ بہت سے لوگ مارے جا چکے ہیں۔ اب تشدد کا راستہ روکنے کا وقت ہے۔ پرتشدد مظاہروں کے دوران جتنے لوگ بھی مارے گئے ہیں، اس معاملے کی پوری تحقیقات کی جائیں گی اور انصاف فراہم کیا جائے گا۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ تمام مسائل حل کرنے کے لیے سب مل کر کام کریں گے۔

بنگلہ دیش کے مقامی میڈیا کے مطابق شیخ حسینہ اور ان کی چھوٹی بہن ریحانہ ملک سے روانہ ہوگئی تھیں۔ وہ بھارت کے شہر اگرتلہ پہنچی ہیں۔ مقامی میڈیا اپنے ذرائع سے رپورٹ کررہا ہے کہ شیخ حسینہ مغربی بنگال پہنچ گئی ہیں۔

سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جس میں مظاہرین وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ میں داخل ہو رہے ہیں جب کہ ہزاروں مظاہرین ڈھاکہ کی سڑکوں پر نظر آ رہے ہیں۔ کچھ ویڈیوز میں مظاہرین کو وزیرِ اعظم ہاؤس سے کرسیاں، ٹی وی اور دیگر اشیا لےجاتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

دریں اثنا وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے بیٹے سجیب واجد جوئے نے ملک کی سیکیورٹی فورسز سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی ’غیر منتخب حکومت‘ کا راستہ روکیں۔ امریکہ میں مقیم سجیب واجد نے پیر کو اپنی فیس بک پوسٹ فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک اور آئین کی حفاظت آپ کی ذمے داری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ملک میں ترقی اور خوشحالی کا سفر جاری رہنا چاہیے اور فوج کی ذمے داری ہے کہ وہ کسی بھی غیر منتخب حکومت کے قیام کو روکے۔