ایک دوسرے کی غلطیوں کے پیچھے چھپتے ہمارے راہنما

1988 سے آج تک ہم دیکھتے آ رہے ہیں کہ ہمارے سیاستدان جو میوزیکل چئیر کے کھیل کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کبھی اپنی غلطیوں کا انکار نہیں کیا بلکہ اپنی غلطیوں کو اپنے مخالفین سے موازنہ کر کے جیتنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔

90 کی دہائی دو جماعتوں یا دو خاندانوں کے بیچ کھینچا تانی کے کھیل کی دہائی تھی۔ اس کھیل کے میدان کی باؤنڈری ملکی باؤنڈری سے آگے تک چلی جاتی تھی کیونکہ ایک جماعت کی قیادت دوسری جماعت کی قیادت کو اپنے ملک کے لیے سیکیورٹی رسک قرار دیتی تھی۔ اور جب ایک جماعت کے راہنماؤں اور کارندوں سے ان کی بدعنوانیوں، اقربا پروریوں، میرٹ کی دھجیوں، لاقانونیت، بڑھتی مہنگائی اور سر چڑھتے قرضوں، بے روزگاری اور دوسرے مسائل پر سوالات کیے جاتے تو وہ برجستہ جوابات میں دوسری جماعت سے موازنے کر کے سرخرو ہو جاتے تھے۔

لیکن میوزیکل چیئر جن کے ہاتھ میں تھی وہ صرف یہ دیکھتے کہ کرسی پر بیٹھنے والا/والی میں سے زیادہ برخوردار کون ہے یا کتنی دیر نہایت ایمانداری سے تابع فرمانی کرتا/کرتی ہے۔ جب انہیں دونوں پر اعتبار نہ رہا تو پھر وہ دونوں کو دھکے دے کر کرسی پر خود بیٹھ گئے ۔اور عوام کو بتایا گیا کہ بدعنوانی اور ملک دشمنی میں دونوں برابر ہی ہیں۔ لہذا ہم اب موازنے کے حساب کتاب پر وقت ضائع کرنے کی بجائے کرپشن کے خاتمے کے لیے خود بندوبست کریں گے۔ اور ان دونوں جماعتوں سے لوٹی ہوئی دولت واپس قومی خزانے میں لا کر ملکی معیشت کو مضبوط کریں گے۔ اب ایک بار پھر لوگوں کی امید بندھی کہ اب ہمارا ملک درست راستے پر چل نکلے گا کیونکہ جب کوئی ڈکٹیٹر نیا نیا آتا ہے، اس کا غصہ دیکھ کر سب سہم سے جاتے ہیں۔ اور آس لگا بیٹھتے ہیں کہ اب کسی چور اور بدعنوان کی خیر نہیں یہ تو بعد میں پتا چلتا ہے کہ یہ تو علی بابا تھے۔

پرویز مشرف  نے چند ایک ایسے اقدامات اٹھائے جن کی ضرورت تھی مگر تھوڑی ہی دیر بعد9/11 ہو گیا تو پھر "سب سے پہلے پاکستان" کے سلوگن کے ساتھ ان کی پالیسیوں کا رخ موڑ دیا گیا۔ اس دوران انصاف کا منشور لیے عمران خان صاحب بھی میدان میں کود پڑے اور اسلامی نظام کا جھانسہ دیتے شیخ الاسلام قادری صاحب نے بھی عوام کو امید دلائی 2002 کے انتخابات اس طرح ہوئے کہ دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت ملک سے دربدر تھی۔  پرویز مشرف نے دونوں بڑی جماعتوں کی دوسرے تیسرے نمبر کی قیادت کا مکسچر بنا کر ساتھ اسلامی نظام کی دعویدار جماعتوں کا کنبہ ایک کر کے میدان میں اتارا۔ ان انتخابات میں ق لیگ کے نام سے معرض وجود میں آنے والی مکسچر جماعت اکثریتی جماعت ٹھہری۔ خیبر پختون خواہ میں مذہبی کنبے کی حکومت بنا دی گئی۔ جبکہ عمران خان اور طاہر القادری صاحب کو ایک ایک سیٹ جتوا کر پارلیمانی سیاست چکھنے کا موقع دیا گیا۔ لیکن یہ دونوں راہنما زیادہ تر پارلیمنٹ سے دور ہی رہے۔

یہ سب کچھ ہو جانے کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کی قیادت کو کچھ کچھ سمجھ آ گئی کہ ہم تو مہرے ہیں، اصل حکمران ہمیں استعمال کرتے ہیں تو انہوں نے لندن میں بیٹھ کر میثاق جمہوریت لکھا۔ دونوں راہنماؤں نے اس پر دستخط کر کے عہد کیا کہ آئندہ ہم مل کر جمہوریت کی مضبوطی کیلئے کام کریں گے اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کی بجائے ایک ضابطہ اخلاق کے پابند ہو کر سیاست کریں گ۔ے ایک ایسا ضابطہ جس میں مرکزی کردار عوام کا ہو اور کوئی ہمیں ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ کر سکے، اس معاہدے کی سیاہی ابھی خشک نہ ہوئی تھی کہ پیپلزپارٹی یا محترمہ بے نظیر  نے پرویز مشرف کے ساتھ بدنام زمانہ معائدہ این آر او کر لیا، جس کے بعد سیاسی قیادت پر بنائے گئے بدعنوانیوں کے مقدمات ختم ہوئے اور سوئس بینکوں میں پڑی بے نظیر یا زرداری صاحب کی دولت سے بھی ریاست پاکستان نے اپنا دعویٰ ختم کر دیا۔

پھر میاں نواز شریف نے میمو گیٹ مقدمے میں کالا کوٹ پہنا اور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت اور پیپلز پارٹی حکومت کی مخالفت میں عدالت پہنچ گئے۔ اس کے آگے کی کہانی بھی ملتی جلتی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ سامنے جمہوری حکومتوں کا دور رہا ہے جبکہ فیصلے کہیں اور سے ہوتے رہے۔ اور اب اپریل 2022 سے ملک میں مہنگائی کا طوفان، ہر شہری پریشان، سوئی گیس مہنگی بھی ہوئی اور ملتی بھی کہیں یا کبھی کبھی ہے۔ نئے کنکشن تین برس سے بند ہیں۔ جن لوگوں نے گیس لگوانے کے اخراجات جمع کروا رکھے ہیں، انہیں بھی کنکشن نہیں ملے۔ بجلی کی قیمتوں میں تین سو فیصد اضافہ کر کے بھی حکومت مطمئن ہوئی، نہ آئی ایم ایف کو سکون ملا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہوا۔ بجلی پر انکم ٹیکس سمیت کئی قسم کے ٹیکسز لگائے گئے ہیں جبکہ پٹرولیم مصنوعات پر لیویز بڑھتے بڑھتے 60 روپے سے تجاوز کر چکی جسے مزید بڑھائے جانے کا پروگرام ہے.۔پچھلے چند ہفتوں میں کم از کم چار قیمتی جانیں بجلی بلوں کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں جن میں دو خود کشیاں اور دو قتل شامل ہیں۔

ملکوں پر مشکل وقت آتے ہیں عوام کو قربانیاں بھی دینا پڑتی ہیں۔ مگر کہیں کوئی روشنی کی کرن تو نظر آتی ہو۔ کسی سیاسی جماعت کا کوئی ایسا پروگرام یا بیان تک سامنے نہیں آیا جس میں مسائل کے حل کا کوئی روڈ میپ ہو۔ ہمارے سیاستدان اور ادارے آپس میں دست و گریبان ہیں اور ایک دوسرے پر الزامات کی پوچھاڑ کر رہے ہیں۔ حکومت نمائشی اقدام اور سابقہ حکمرانوں کی کارکردگی کے ذکر کے علاوہ ابھی تک کچھ نہیں کر پائی۔ جبکہ حزب اختلاف اپنے ساتھ ہونے والی دھاندلی اور زیادتیوں کے رونے کے علاوہ مسائل کے حل کا کوئی ذکر نہیں کرتی۔ تمام سیاستدان اور طاقتور ادارے یا تو اپنی تعریفیں کرتے ہیں یا اپنے مخالفین پر الزامات کے پلندے کھولے بیٹھے ہیں۔

90 والی تکرار میں یہ اضافہ ہوا ہے کہ اب ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات کے ساتھ یہ تکرار بھی ہوتی ہے کہ کون زیادہ بوٹ پالش کرتا ہے۔ مطلب کرتے سب ہیں مگر دوسرے کو زیادہ کہتے ہیں۔ کیا ان حالات میں کسی بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے؟