بنگلہ دیش میں پارلیمنٹ توڑ دی گئی، پولیس کا احتجاج کرنے کاا علان
بنگلہ دیش میں صدر نے پارلیمنٹ توڑ دی ہے۔ دوسری طرف مظاہروں کی قیادت کرنے والے طلبہ رہنماؤں نے عبوری حکومت کے لیے نوبل انعام یافتہ محمد یونس کا نام دیا ہے۔
طالب علم لیڈروں نے کہا ہے کہ وہ فوج کی حمایت یافتہ یا فوج کی سربراہی میں کسی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے۔
دوسری طرف بنگلہ دیش پولیس سروس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پولیس کے اہلکاروں کو بنگلہ دیش میں جاری احتجاج کے دوران مظاہرین پر فائرنگ کرنے کے لیے مجبور کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق وہ ایسا کرنے کے لیے رضامند نہیں تھی۔ پولیس نے حکام بالا پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے پولیس کو عوام کی نظروں میں ولن بنایا۔
پولیس کے مطابق ریاست قانون سازی کرتی ہے جبکہ ہمارا کام ان قوانین پر عملدرآمد کرنا ہوتا ہے۔ ہمیں اعلی حکام اور سیاسی رہنماؤں کے احکامات پر عمل پیرا ہونا ہوتا ہے چاہے وہ قانونی ہوں یا غیر قانونی ہوں۔ پولیس کا یہ اتحاد ہزاروں پولیس افسروں کا نمائندہ پلیٹ فارم ہے۔
پولیس کے مطابق شیخ حسینہ واجد کے استعفے کے بعد پیر کو احتجاج کے دوران 450 سے زائد تھانوں پر حملے کیے گئے اور متعدد پولیس افسران کو بھی ہلاک کیا گیا۔ پولیس یونین نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ پولیس نے جو معصوم طلبہ کے ساتھ کیا ہے اس پر معافی مانگتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس یونین کا کہنا ہے کہ جب تک پولیس والوں کی حفاظت کی ضمانت نہیں مل جاتی اس وقت تک کے لیے پولیس ہڑتال کرے گی۔
بنگلہ دیش میں پولیس سروس ایسوسی ایشن نے پولیس اہلکاروں کے تحفظ کو یقینی بنانے تک ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پولیس سروس ایسوسی ایشن ملک میں کانسٹیبل سے انسپکٹر رینک تک کے اہلکاروں کی نمائندہ تنظیم ہے۔
یپ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ بنگلہ دیش کی فوج نے اعلیٰ عہدے داروں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں اور تقریریاں کی ہیں جب کہ ایک میجر جنرل کو سبکدوش کردیا ہے۔ فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے بیان کے مطابق میجر جنرل ضیا الاحسن کو سبکدوش کردیا گیا ہے۔ میجر ضیا بنگلہ دیش کے نیشنل کمیونیکیشن مانیٹرنگ سینٹر(این ٹی ایم سی) کے ڈائریکٹر جنرل تھے۔