پاکستان کا بنگلہ دیشی عوام سے اظہارِ یکجہتی
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے صورتحال کی معمول کی طرف پرامن واپسی کی امید ظاہر کی ہے۔
بدھ کو دفتر خارجہ کی ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیاہے کہ ہم بنگلہ دیش میں حالات کے تیزی سے اور پرامن انداز میں معمول پر آنے کی امید رکھتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ بنگلہ دیشی عوام کا جذبہ اور اتحاد انہیں ہم آہنگی پر مبنی مستقبل کی طرف لے جائے گا۔
پاکستان کے سابق سفارت کاروں نے بنگلہ دیش میں بدلتی صورتِ حال کو خوش آئند قرار دیا ہے امید ظاہر کی ہے کہ نئی حکومت بننے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر آسکیں گے۔
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں حکومت کی تبدیلی دنیا کے دیگر تمام ممالک کے لیے ایک پیغام ہے کہ عوام کی طاقت سے کوئی بھی حکومت گرائی جا سکتی ہے۔
بنگلہ دیش میں سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف تین ہفتوں تک جاری رہنے والی طلبہ تحریک کے دوران 300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ایسے میں فوج نے مداخلت کی اور شیخ حسینہ پیر کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد ملک چھوڑ کر بھارت منتقل ہو گئیں۔ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ تحلیل کی جاچکی ہے اور عبوری حکومت قائم کی جا رہی ہے۔
بنگلہ دیش کی بدلتی صورتِ حال پر پاکستانی میڈیا پر بھرپور کوریج دیکھنے میں آئی۔ تمام اخبارات کی شہ سرخی شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام نیوز چینلز نے اس بارے میں براہِ راست نشریات کیں اور شام کو ٹاک شوز میں بھی یہی ایشو زیرِ بحث تھا۔
سوشل میڈیا پر بھی اس بارے میں بہت زیادہ تبصرے دیکھنے میں آرہے ہیں اور ان میں کئی پوسٹس میں شیخ حسینہ پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بھارت نواز اور ان کی حکومت کے خاتمے کو پاکستان کی جیت کے برابر قرار دیا جا رہا ہے۔ بعض صارفین بنگلہ دیش میں طلبہ تحریک کی کامیابی کے بعد پاکستان میں ایسی کسی تحریک کے نہ چلنے کا شکوہ بھی کر رہے ہیں۔
بنگلہ دیش میں مسلسل 15 برس تک اقتدار میں رہنے والی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے پر پاکستان کے سابق سفارت کاروں اور تجزیہ کاروں نے محتاط ردِ عمل دیا ہے۔
سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کے طلبہ کا احتجاج دراصل عوام کے جذبات تھے جو ایک لاوا کی صورت میں پھٹ کر نکلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیخ حسینہ ایک ڈکٹیٹر کی طرح حکومت کر رہی تھیں اور انہوں نے تمام اپوزیشن جماعتوں کو دیوار سے لگانے کے ساتھ پاکستان کے ساتھ تعلقات تقریباً ختم کر دیے تھے۔