شیخ حسینہ:مظلوم لیڈر سے ظالم ڈکٹیٹر تک
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 07 / اگست / 2024
۔“تُم کون میں کون؟ رضاکار رضاکار ، کون کہتی ہے؟ ڈکٹیٹر ڈکٹیٹر “
خامیاں جمہوریت میں بھی نکالی جاسکتی ہیں لیکن دنیا صدیوں کے سفر میں اتنے زیادہ تجربات سے گزر نے کے بعد یہ سمجھ چکی ہے کہ انسانیت کے حق میں جمہوریت سے بہتر کوئی نظام حکومت وضع نہیں ہوا۔ کہاجاتا ہے کہ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے۔ جمہوریت برداشت، حوصلہ اور دوسرے کی رائے کا احترام کرنا سکھلاتی ہے۔
جمہوریت میں میجارٹی کی اتھارٹی ضرور ہے لیکن اس کا مطلب ون پارٹی استبدار نہیں۔ منارٹیز کے بھی مسلمہ حقوق ہیں جو فنڈامینٹل ہیومن رائٹس میں ریڑھ کی ہڈی جیسے ہیں۔ دنیا بھر کی جمہوریتوں میں حزب اختلاف یا قائد حزب اختلاف کا بھی ایک مقام، وقار اور احترام ہے۔ اپوزیشن کے بغیر جمہوریت لاحاصل و بے معنی یکطرفہ پروپیگنڈہ یا من گھڑت دھندہ ہے۔
ترقی یافتہ اور مضبوط جمہوریتوں میں اگر اس نوع کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ ایک ہی شخص پیہم یا تاحیات قوم کی گردن پر سوار نہ رہے، تو اس کی حکمت کو سمجھا جانا چاہیے۔ امریکی آئین سازوں نے اپنے ہر صدر کیلیے چاہے وہ کتنا ہی پاپولر ترین صدر ہو یہ حد مقرر کررکھی ہے کہ وہ دوسے زائد ٹرمز کیلیے قومی قیادت پر فائز نہ ہوسکے۔ چند استثنیات کے سوا امریکی اڑھاائی صدیوں سے اسی آئینی روایت پر عمل پیرا ہیں۔ جارج واشنگٹن کی عظمت کو سلام ہے کہ جب اس عظیم انسان کی مقبولیت زوروں پر تھی ہر طرف سے آوازیں اٹھ رہی تھیں کہ آپ دوبارہ صدارتی الیکشن لڑتے ہوئے قومی قیادت فرمائیں۔ مگر اس نے ہاتھ باندھتے ہوئے معذرت کی اور کہا کہ میری قوم میں اور بھی بڑے اہل لوگ موجود ہیں۔ انہیں بھی موقع ملنا چاہیے کہ وہ منتخب ہوکر آئیں اور اپنی صلاحیتوں سے قوم کی خدمت کریں۔
مہاتما گاندھی کی بیسویں صدی کے نصف اول میں جو مقبولیت تھی، اس سے کون انکار کرسکتا ہے۔ وہ اٹھتے تو پوری جنتا اٹھ کھڑی ہوتی، وہ چلتے تھے تو پوری قوم ساتھ چل پڑتی تھی۔ اگر وہ کانگریس کے تاحیات صدر بن کر رہنا چاہتے تو کون آڑے آسکتا تھا۔ وہ آزاد ہند کے پہلے گورنر جنرل بننا چاہتے تو کیا رکاوٹ تھی۔ مگر اس مہان انسان نے کبھی کوئی عہدہ نہیں لیا۔ خدمت اور جدوجہد سے جنتا کے دلوں میں جگہ بنائی اور دلوں پر راج کیا۔
ساؤتھ افریقہ کے عظیم ہیرو نیلسن منڈیلا تو ابھی کل کی بات ہیں۔ آزادی کی جدوجہد میں جس شخص نے اپنی ساری جوانی جیلوں میں گزار دی، قوم کو آزادی دلائی تو جنتا نے انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا۔ وہ تاحیات جنوبی افریقہ کے صدر بن سکتے تھے۔ مگر ایک ہی ٹرم کے بعد دوبارہ اس عہدے کیلیے الیکشن لڑنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کی میری قوم کے دلوں میں میرے لیے جومحبت و عزت ہے اس کا تقاضاہے کہ میں خود کو ان پرمسلط کرنے کی کوشش نہ کروں۔ دوسروں کو موقع دوں کہ وہ آگے بڑھیں اور منتخب ہوکر قوم کی قیادت فرمائیں۔
یہ سب دانا و مدبر لوگ، انسانی نفسیات کو بخوبی سمجھتے تھے کہ ایک ہی شخص کو اپنے اوپر پیہم مسلط دیکھتے ہوئے لوگ بوریت کا شکار ہوسکتے ہیں۔ انسانی فطرت تبدیلی پسند ہے کہ ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔ ابھی حال ہی کی بات ہے انگلینڈ میں نئے انتخابات ہوئے ہیں جن میں کنزرویٹیو پارٹی کے بالمقابل لیبر پارٹی کو بھاری مینڈیٹ کے ساتھ کامیابی ملی ہے۔ حالانکہ کنزرویٹو پارٹی کے اندر سے تبدیلی کے تحت پانچ وزرائے اعظم بدلے گئے۔ ان کی پالیسیاں قومی مفاد میں بہتر جارہی تھیں، انہوں نے مہنگائی اور افراط زر کو ختم کرنے کیلیے بہتر اقدامات اٹھائے۔ رشی سونک محنت، لگن اور بہترین صلاحیت کے ساتھ بہت بہتر جارہے تھے۔ مگر پچھلے 14 برسوں سے کنزر ویٹیو پارٹی مسلسل برسراقتدار تھی اگرچہ پالیسیاں بظاہر دونوں کی ملتی جلتی ہیں، کوئی خاص فرق نہیں مگر یہ جمہوریت کی عظمت ہے جو دوسروں کو بھی آگے آنے کے بہتر مواقع فراہم کرتی ہے۔
اس کے بالمقابل ہم دیکھتے ہیں کی غیر جمہوری معاشروں میں خواہ کیسی ہی ترقی و خوشحالی ہو لیکن اندر ہی اندر ایک نوع کی گھٹن اور فرسٹریشن ملاحظہ کی جاسکتی ہے لوگ بے بس و مجبور ہوتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بے وجہ اور شوقیہ طور پر سیاسی توڑ پھوڑ ،ہل چل یا عدم استحکام کو بڑھاوا دیا جائے۔ سیاسی استحکام ہوگا تو ملک و قوم میں معاشی ترقی و خوشحالی بھی آئے گی ورنہ تصادم کی فضا میں جب ہر حکومت کو اپنی بقا کے لالے پڑے رہیں گے تو ترقی کیا خاک ہوگی۔
اس سلسلے میں ہم بنگلہ دیش کی حالیہ مثال کو ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمٰن کی سپتری شیخ حسینہ پورے بنگلہ دیش کی پالولر ترین لیڈر بن کر ابھری تھیں۔ ان کے والد مرحوم نے اپنی قوم کو جس طرح پاکستانی فورسز کے استبداد سے آزادی دلوائی اس کے باوجود شیخ صاحب کو جس ظلم کے ساتھ ان کی اپنی فوج نے پورے خاندان سمیت موت کے گھات اتار دیا۔ سوائے دوبیٹیوں شیخ حسینہ اور شیخ ریحانہ کے جو اس وقت اپنے ملک کی بجائے جرمنی میں تھیں۔ بنگالیوں نے اپنے بابائے قوم کی بیٹی شیخ حسینہ کو سرآنکھوں پر بٹھایا۔ فوجی استبداد سے ٹکر لے کر بھی 1996 میں انہیں جتوایا، بنگلہ دیش کے اقتدار تک پہنچایا اور پھر ابھی 2009 سے تواتر کے ساتھ چار مرتبہ یعنی کل ملا کے پانچ مرتبہ پرائم منسٹر بنوائی گئیں (جاری ہے)