اک حسینہ تھی

بنگلہ دیشی ماڈل زمیں بوس ہوا، بنگلہ دیشی ماڈل منہدم ہوا، یعنی ’شائستہ‘ زبان میں کہیں گے کہ بنگلہ دیشی ماڈل تو ”وڑ“ گیا۔

بنگلہ دیشی ماڈل کا مطلب ہے ہائی برڈ نظامِ حکومت، اور ہائی برڈ انصرامِ ریاست کا آسان تر زبان میں مطلب ہے ایک ایسا حکومتی بندوبست جس میں عسکری اور کسی مخصوص سیاسی جماعت کے درمیان ایک ایسا گٹھ جوڑ طے پا جائے جو آئین سے ورا ہو، جس میں اختیارات اور فیصلہ سازی کے ماخذ وہ نہ ہوں جو آئین میں لکھے ہیں، ایک ایسا نظام جس میں عساکر کی طاقت کے بل بوتے پر آزادی اظہارِ رائے ، سیاسی مخالفین اور ہر ہر شعبے میں اختلاف کو کچل دیا جائے، اور اس کے بدلے عساکر کو معاشی معاملات میں قریباً کامل خود مختاری عطا کی جائے اور احتساب کے بکھیڑوں سے آزاد کر دیا جائے۔بنگلہ دیش میں یہی ماڈل رائج تھا۔

بنگلہ دیش کے حالیہ واقعات میں ہمارے لیے کیا سبق پوشیدہ ہے؟ اس طرف رخ کرنے سے پہلے کچھ حقائق جان لیں۔ جولائی کے آغاز میں بنگلا دیش میں جو عوامی مظاہرے شروع ہوئے تھے وہ دو دن پہلے دخترشیخ مجیب الرحمنٰ، حسینہ واجد کے ملک سے فرار پر منتج ہوئے۔ شروع میں مظاہرین کا فقط ایک مطالبہ تھا کہ ملک میں سرکاری نوکریوں میں کوٹا سسٹم ختم کیا جائے۔ اس کوٹا سسٹم کے تحت تیس فی صد نوکریاں 1971 کی جنگ کے شہداء کی اولاد کے لیے مختص کی گئی تھیں، اور ان کی اکثریت عوامی لیگ کے کارکنوں میں بانٹ دی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ تقریباً 26 فی صد نوکریاں خواتین اور دوسرے پچھڑے ہوئے طبقات کیلئے مخصوص تھیں۔ نتیجتاً عام لوگوں کیلئے بہت کم نوکریاں بچتی تھیں۔ جب مظاہرے شروع ہوئے اور ان میں بہ تدریج شدت آنے لگی تو ایک عدالتی حکم کے تحت کوٹا سسٹم کو وقتی طور پر معطل کر دیا گیا۔ مگر شاید اب دیر ہو چکی تھی۔

مظاہروں میں تندی آتی گئی، حکومت نے مظاہرین سے نپٹنے کیلئے جبر میں اضافہ کر دیا، لوگ مرنے لگے، آخری دو دنوں میں لگ بھگ دو سو مظاہرین ہلاک ہوئے۔ اور پھر میرے ’عزیز ہم وطنو‘ نما ایک شے ہو گئی۔ یاد رہے کہ پچھلے پندرہ سال حسینہ اور فوج مل کر ’سیم پیج‘ والی حکومت کرتے رہے ، ان پندرہ سالوں میں گمشدہ افراد کی تعداد بڑھتی رہی، ماورائے قانون قتل بڑھتے رہے، سیاسی مخالفین جیلوں میں سڑتے رہے اور جعلی الیکشن ہوتے رہے۔ اور پھر جیسے ہی حسینہ عوامی غیظ و غضب کی زد میں آئی، فوج الگ ہٹ کر کھڑی ہو گئی۔ ہائی برڈ نظام بنایا ہی اس لیے جاتا ہے کہ گالی اور جوتا کھانے کیلئے کوئی چہرہ دست یاب ہو۔بنگلہ دیشی آرمی چیف نے کہا ہے کہ مائنس عوامی لیگ ایک قومی حکومت قائم کی جائے گی۔وہ یہ فرمان آئین کی کس شق کے تحت جاری کر رہے تھے، انہوں نے اس سلسلے میں کچھ ارشاد نہیں فرمایا۔ ہائی برڈ ماڈل میں آئین کی بس اتنی ہی توقیر رہ جاتی ہے، جیسے ہی معاملات ذرا ’سیریس‘ ہوتے ہیں، بندوق نکل آتی ہے۔

بنگلہ دیشی انقلاب میں فتیلے کو آگ تو کوٹا سسٹم نے لگائی مگر یہ ہنڈیا اندر ہی اندر کھول رہی تھی۔بنگلہ دیش کے معاشی اشاریے کچھ سال سے بہت متاثر کن رہے، برآمدات 50 بلین ڈالر تک بڑھیں، گروتھ ریٹ چھ، سات کے پاس پاس رہا ، فی کس آمدنی بڑھی اور ورلڈ بینک رپورٹ کے مطابق پچھلی دہائی میں ڈھائی کروڑ لوگوں کو خطِ غربت سے اوپر کھینچ لیا گیا۔ مگر اس دوران بیرونی قرضہ تقریباً دو گنا بڑھ گیا جس سے زرِ مبادلہ کے ذخائر گھٹے، اور کووڈ کے بعد مہنگائی بڑھی۔ مسئلہ یہ تھا کہ اس ترقی کے ثمرات نچلے طبقے تک ان کی توقعات کے مطابق نہیں پہنچ سکے۔ عام بنگالی کا خیال ہے کہ اس ترقی کا فائدہ کرپٹ سیاست دانوں اور اداروں کے بدعنوان اہل کاروں کو پہنچا ہے جو نظام سے ان کی نفرت کی بنیاد بنا۔ بات یہ ہے کہ پِسے ہوئے طبقات اپنی حالت کے بدلنے کی امیدمیں زندہ رہتے ہیں، اگر یہ امید ٹوٹ جائے تو لوگوں کے پاس گنوانے کیلئے کچھ نہیں رہتا، سوائے اپنی جان کے۔ بنگلہ دیش میں جب دہائیوں کے انتظار کے بعد خوش حالی کی خبریں آنے لگیں تو امید کی لو اور بلندہو گئی، لیکن پھریوں ہوا کہ اشرافیہ نے اس خوش حالی پر کامل قبضہ کر لیا۔ ہنڈیا کھولنے لگی مگر بھاپ نکلنے کا کوئی رستہ نہیں تھا۔ ہر مخالف آواز کا گلا بے رحمی سے گھونٹ دیا گیا۔ اسی کو پریشر ککر کہتے ہیں، اوربنگلا دیش میں یہی پریشر ککر پھٹا ہے۔

ایک اور اہم بات، بنگلا دیش میں یہ ساری تحریک طلبا نے چلائی ہے، یعنی نوجوانوں نے، اور اگر موازنہ کیا جائے تو پاکستان کا Youth bulge بنگلا دیش سے بھی بڑا ہے، اگر اگلی نسل کے خواب بھی چھین لیے جائیں توریاست بے تعبیر ہونے لگتی ہے، یعنی بہ قول شاعر ”گل ہوا ہے چراغِ مے خانہ…اب بڑی دور تک اندھیرا ہے۔“ بنگلہ بندو کی بیٹی کے اقتدار سے بے دخل ہونے پرہندوستان میں جو قومی سوگ منایا جا رہا ہے اس پر ہم مسکرا تو سکتے ہیں، مگر زیادہ دیر کیلئے نہیں۔ ہمارے لیے اس ساری صورتِ حال میں گہرے اشارے ہیں۔ اپنے ہاں ہر کچھ سال بعد کسی اینڈی بینڈی نظام کے مداحوں کی ٹولیاں نکل آتی ہیں، کبھی مصری ماڈل، کبھی برما ماڈل اور کبھی بنگلا دیش ماڈل، سب کہ سب خام، سارے کہ سارے اوٹ پٹانگ۔ کوئی بھی حکومتی ماڈل جو عوام کو شہری کے منصب سے معزول کر کے رعایا کی سطح پر لے آئے، کوئی بھی ماڈل جو جبر اور نا انصافی کی بنا پر قائم رہنا چاہے، ناپائیدار ہے۔ ایسے ماڈل کا جلد یا بہ دیر بنگلا دیش والا انجام ہوتا ہے جہاں آج 17 کروڑ انسان نامعلوم کی سرحد پر ہکا بکا کھڑے ہیں اور… حسینہ فرار ہو چکی ہے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)