جماعت اسلامی اور بلوچ یکجہتی کمیٹی نے دھرنے ختم کردیے
جماعت اسلامی نے لیاقت باغ میں بجلی کے بلوں کے تنازعہ پر دھرنا ختم کردیا ہے۔ دوسری طرف بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بھی صوبائی حکومت سے مذاکرات کامیاب ہونے پر گوادر میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
البتہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ حکومت سے تفصیلی معاہدہ کرکے اسے ٹائم دیا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ہم نے دھرنے سے اپنے اہداف حاصل کیے ہیں۔ دھرنا مؤخر کیا ہے ختم نہیں کیا۔ حکومت سے تفصیلی معاہدہ کرکے اسے ٹائم دیا ہے۔ حکومت کو بتایا ہے کہ بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے اخراجات کم کرے۔
انہوں نے کہا ہم نے عوام کی آواز بن کر آئی پیز پر آگہی دی۔ فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر بجلی پر ٹیکسز بالکل غلط ہیں۔ حکومت کے ساتھ معاہدے کے تحت جماعت اسلامی اور حکومت کی مشترکہ کمیٹی 30 دن میں بجلی کے بلوں پر نظر ثانی کرے گی۔ پاکستان میں ایشوز پر سیاست نہیں ہوتی۔ ہم عوامی ایشوز کو فریضہ سمجھ کر کام کرتے ہیں۔ حکمرانوں کو سمجھ لینا ہوگا اور معاہدے پر عمل کرنا ہوگا۔
دوسری طرف بلوچستان میں 28 جولائی سے جاری دھرنے کے گیارہویں روز بلوچ یکجہتی کمیٹی اور حکومت کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں جس کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ معاہدے کے تمام نکات پر عمل درآمد کے لیے کمیٹی قائم کر لی گئی ہے۔
صوبائی وزیر ظہور بلیدی کی سربراہی میں کمشنر مکران ڈویژن، ڈپٹی کمشنر گوادر اور ایس ایس پی پر مشتمل کمیٹی نے مذاکرات کیے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے مذاکرات میں حکومت کے سامنے اپنے مطالبات رکھے جن میں گرفتار کارکنوں کی رہائی، مقدمات کا خاتمہ اور عوام کے نقصانات کا ازالہ شامل ہیں۔
مذاکرات میں طے پایا گیا کہ پرامن اجتماع پر طاقت کا استعمال نہیں ہوگا اور محکمہ داخلہ بلوچستان ایک نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔ گوادر اور مکران کی تمام شاہراہیں کھول دی جائیں گی اور نیٹ ورک بحال کیا جائے گا۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق گوادر سے تربت کی جانب مارچ کریں گے اور وہاں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔