شیخ حسینہ: مظلوم لیڈر سے ظالم ڈکٹیٹر تک

ابھی 2024 میں انہوں نے یکطرفہ طور پر جو الیکشن جیتا اس پر نہ صرف اندرون ملک بلکہ مغرب میں بھی بہت سی انگلیاں اٹھیں۔ وہ لگاتار وزارت عظمٰی کے پندرہ سال پورے کرچکی تھیں۔ بحثیت پرائم منسٹر بنگلہ دیش کل ملا کر ان کے اقتدار کا دورانیہ بیس برس دوسو چونتیس دن بنتا ہے۔

اگر عوامی جمہوریت کی روح کے مطابق جائزہ لیا جائےتو کسی بھی جمہوری قائد کو چاہے وہ جتنا ہی پاپولر لیڈر کیوں نہ ہو اتنی طویل مدت تک اپنی قوم پر مسلط رہنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اپنی پارٹی سے نئی قیادت کو سامنے آنے کا موقع دینا چاہیے۔ اس کے برعکس اپنی اپوزیشن کو یوں دیوار سے لگادینا یاجیل میں بند کرنا جمہوری آدرشوں کے خلاف ہے چلیں اسے بھی سیاسی بندوبست کانام دیا جاسکتا ہے۔ لیکن مظلوم سے ظالم بن جانے کا تو کوئی جواز نہ تھا۔ شیخ حسینہ صاحبہ! آپ تو بنگلہ بندھو کی بیٹی تھیں آپ کو تو قوم کی ماں بن کر سٹوڈنٹس سے اپنے بچوں کی طرح شفقت واپنا ئیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ آپ کے سینے میں ان کیلیے دوسروں سے بڑھ کر درد ہونا چاہیے تھا۔ لیکن افسوس آپ بڑے پن کا مظاہرہ کرنے کی بجائے اختلاف رائے کرنے والوں کو “رضاکار” کے طعنے دینے لگ گئیں۔ آپ کی مامتا نے کیسے گوارا کیا کہ اپنے بچوں پر گولیاں چلانے اور انہیں بھون ڈالنے کا حکم جاری فرمادیں؟

 ہیلی کاپٹروں سے اپنے نونہالوں پر بارود پھینکا جائے جبکہ ان کے ابتدائی مطالبات سو فیصد سچائی اور انصاف پر مبنی تھے۔ یوں آپ مظلوم لیڈر سے ظالم ڈکٹیٹر بن گئیں۔ جن لوگوں نے آزادی کی جنگ لڑی تھی اور بے پناہ قربانیاں دی تھیں ان کیلیے تو کوٹہ سمجھ میں آتا ہے۔ لیکن نصف صدی گزرنے کے بعد ان کے بچوں اور پوتوں کیلیے کوٹہ مقرر رکھنے پر اصرار بے اصولی و دھاندلی تھی۔ تیس فیصد ان کیلیے اور دیگر کو ڈال کر چھپن فیصد کوٹہ نکلنے کے بعد عام نوجوانوں کیلیے پیچھے بچتا ہی کیا تھا؟ ان نوجوانوں کا اس زیادتی کے خلاف اٹھنا قابل فہم تھا۔ اپنے حق اور سچائی کیلیے آواز اٹھانے والوں کا تو پھولوں سے سواگت ہونا چاہیے مگر آپ کے حکم پر ان کے اوپر گولیاں برسائی گئیں۔ اس کے بعد اگر وہ بپھر جائیں اور صریح بدتمیزی پر اتر آئیں تو یہ قابل فہم ری ایکشن ہی قرار پائے گا۔یہ بھی بڑی اچھائی ہوئی ہے کہ 5 اگست 2024 کو15اگست 1975 کی تاریخ نہیں دہرائی گئی۔ جنرل وقارالزماں نے رشتے اور تعلق کا احترام کرتے ہوۓ اپنوں جیسا برتاؤ کیا ہے۔ توقع یہی ہے کہ جن بنگلہ دیشی عوام نے سیاستدان شیخ حسینہ کی ڈکٹیٹرشپ کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے، وہ کسی فوجی جنرل کی آمریت کو بھی اسی طرح مسترد کریں گے۔

شاید جنرل وقارالزماں کیلیے ممکن نہیں تھا کہ وہ مارشل لا لگاتے ہوئے اپنی من مانی کرسکیں۔ ایسی صورت میں خون خرابہ مزید بڑھ جاتا۔ اس سلسلے میں ابھی یقین کے ساتھ کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا جبکہ ہم سب یہ جانتے ہیں کہ جب فوجی لوگ ملک کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں تو ابتدا میں وہ جتنے سادہ دکھتے ہیں مابعد ضروری نہیں وہ حقیقت میں بھی اتنے ہی سادہ ثابت بھی ہوں۔ جنرل ضیاالحق کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جو نوے دن میں انتخابات کروانے اور واپس جانے کا وعدہ کر کے آۓ تھے مگر پھر کار جہاں دراز ہے ابھی میرا انتظار کر کے مصداق برسوں اقتدار پر قابض رہے۔

اس ایشو کو ہم تضادستانیوں سے بڑھ کر کون جانتا ہے۔ ویسے بنگلہ دیش میں بھی اوپر نیچے جتنے مارشل لاز لگتے رہے ہیں۔ خوندکر مشتاق احمد سے لے کر جنرل ارشاد تک ایسے بھی ہوا جب ایک ویک کی تاخیر میں دوسرا مارشل لا لگ گیا۔ جنرل وقارالزماں کے متعلق سب کو معلوم ہے کہ وہ شیخ حسینہ کے قریبی عزیز میں ان کے ملٹری سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں۔ اٹھاون سالہ جنرل کی تعیناتی ابھی جون ہی میں وزیراعظم شیخ حسینہ کی طرف سے یہ سوچتے ہوئے کی گئی تھی کہ وہ ان کیلیے طلبا تحریک کے پر تشدد مظاہروں میں ڈھال ثابت ہوں گے۔ ابتدا میں جنرل نے انہیں تحفظ فراہم کرنے کیلیے اچھا خاصا کریک ڈاؤن کیا بھی مگر جب ملک بھر سے طلبا کو ڈھاکہ پہنچنے کی کال دی گئی تو جنرل نے بڑے خون خرابے سے بچنے کیلیے یہ اعلان کردیا کہ ہم اپنے بچوں پر گولی نہیں چلاسکتے۔ ہم قوم کے ساتھ ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے پرائم منسٹر کو پینتالیس منٹ میں مستعفٰی ہونے کا الٹی میٹم دے دیا اور انہیں کسی نوع کی تقریر ریکارڈ کرانے کی بھی مہلت نہ دی۔

فوجی ہیلی کاپٹر میں انہیں اگر تلہ بھیجنا بھی ان کیلیے بہت بڑی مہربانی تھی۔ اب ایک طرف شواہد یہی ہیں کہ فی الوقت وہ انڈیا میں ہی کسی نامعلوم مقام پر رکھی جائیں گی۔ تاوقتیکہ انہیں کسی ویسٹرن کنٹری میں اسائیلم نہیں مل جاتی۔ فی الوقت جس کا امکان کم دکھتا ہے۔ دوسری طرف جنرل وقار نے جس عبوری حکومت کے قیام کا اعلان کیا ہے وہ بھی شاید ہی ان کی مرضی کے مطابق بن سکے گی۔ حالات زیادہ بگڑے تو کوئی نیا فوجی کو بھی ہوسکتا ہے ، حسینہ مخالفین کی طرف سے انہیں ہٹاۓ جانے کا مطالبہ بھی آسکتا ہے۔ ان کی مخالفت میں مظاہرے بھی شروع ہو سکتے ہیں۔ ہلاک شدگان کی تحقیقات کے مطالبات کرتے ہوئے کچھ انگلیاں ادھر بھی اٹھ سکتی ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ حالات پر قابو پاتے ہوئے اصل معاملات اپنے قابو میں لے لیں اور بشمول طلبا سیاستدانوں کو لائن میں لگا دیں۔

طاقت کی نفسیات تو ایسی ہی ہوتی ہیں طلبا رہنما ناہید اسلام نے اعلان کیا ہے کہ عبوری پرائم منسٹر بنگلہ دیشی ماہر معیشت نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کو بنایا جائے گا۔ طلبا  کے الٹی میٹم پر صدر شہاب الدین متنازع اسمبلی تحلیل کرچکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عبوری سیٹ اپ میں خالدہ ضیا کی بنگلہ نیشنلسٹ پارٹی اور جماعت اسلامی کو کیا اہمیت ملتی ہے۔ عبوری سیٹ اپ میں فی الوقت شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کیلیے کوئی گنجائش نہیں دکھتی۔ حالانکہ عوامی لیگ کی حکومت کے خلاف کامیاب عوامی بغاوت کے باوجود یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ عوامی سطح پر اتنی بڑی پارٹی عوامی لیگ کی حیثیت زیرو نہیں ہوگئی ہے۔ اس کے ہیڈ آفس کو اگرچہ جلادیا گیا ہے اور ان کے دفاتر سمیت لیڈران پر حملوں کی رپورٹس بھی ہیں۔ ہندو اقلیت کی بھی پریشان ہے۔ ان کے مندروں اور جائیدادوں کے تحفظ کے بھی ایشوز ہیں اور یہ خدشہ محسوس کیا جاسکتا ہے کہ اب بنگلہ دیش میں ایک نوع کی ایسی سیاسی انارکی ہوگی جو نہ صرف سیاسی استحکام کا خاتمہ کردے گی بلکہ بنگلہ دیش کی ابھرتی یا اٹھتی ہوئی اکانومی کو ڈاکٹر محمد یونس جیسی قدآور شخصیت بھی اس بدترین بدامنی میں سنبھال نہیں پائے گی۔

یہ امر بھی واضح رہے کہ اس تمامتر ہلے گلے میں جماعت اسلامی کا رول اچھا خاصا محسوس اور ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ شیخ حسینہ حکومت کے خلاف جتنی پرتشدد سٹوڈنٹس موومنٹ چلی ہے اس میں قدم قدم پر اسلامی چھاتروشبر کی دہشت و وحشت ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس کی کڑیاں کہیں آگے تک ملی ہوئی ہوں، ورنہ عام بنگالیوں کو اپنے دیش کے فاؤنڈر سے اتنی زیادہ نفرت کیسے ہو سکتی تھی کہ سب سے پہلے اس کے مجسموں پر دھاوا بولتے یا توہین آمیز سلوک کرتے۔ (جاری ہے)