یوم آزادی : جبر سے قومی اتحاد حاصل کرنے کے ہتھکنڈے
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 14 / اگست / 2024
ملک کے 78ویں یوم آزادی پر پر عزم طریقے سے ملک کو آگے لے جانے کے اعلان اور وعدے کئے گئے ہیں۔ حکومت اور فوج کی خواہش کے مطابق اب اسے ’عزم استحکام ‘ کا نام دیا جارہا ہے۔ یعنی جو اصطلاح چند ہفتے پہلے دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے یا فوجی آپریشن کے لیے استعمال کی جارہی تھی ، اب اسے ایک سیاسی بیانیہ بنا لیا گیا ہے۔
یہ طریقہ اس حد تو ٹھیک ہے کہ قومی تعمیر کا کام عسکری کارروائیوں اور فوجی طاقت استعمال کرنے سے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے لیے مخلص قیادت، واضح حکمت عملی اور ایک نکاتی ایجنڈے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ’عزم استحکام ‘ اس ایجنڈے کو بہت حد تک واضح کرتا ہے کہ مل جل کر پورے عزم کے ساتھ قومی یک جہتی و استحکام کے لیے کام کیا جائے، تاکہ اس قوم کے سب لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ البتہ اس اصطلاح کے حوالے سے ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی اور دیگر گروہوں کے ساتھ اختلاف رائے کی موجودہ صورت حال میں ،اسے ایک نیا بیانیہ بنانے سے شاید قومی اتحاد و اتفاق رائے کا مقصد اس طرح حل نہ ہوسکے جس کی توقع کی جارہی ہے۔
ممکن ہے کہ ’عزم استحکام ‘کو فوجی آپریشن سمجھنے والے اب بھی اسی تفہیم پر اصرار کریں اور اس عزم میں شریک نہ ہوں جس کا ارادہ قومی استحکام کے نام پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف مل کر باندھ رہے ہیں۔ اس پس منظر میں اس مسئلہ کے دو ہی حل ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ عزم استحکام کی مخالفت کرنے والے اب سرکاری طور سے اس کے وسیع اور متنوع استعمال پر مطمئن ہوجائیں اور اس حقیقت کو مان لیں کہ حکومت یا فوج ’ضرب عضب ‘ یا ’ردالفساد ‘ کی طرز پر کوئی فوجی آپریشن کرنے کی خواہاں نہیں ہے بلکہ انتشار کی موجودہ صورت حال میں قومی یک جہتی کے ارادے کا اظہار کہا جارہا ہے ۔ دوسرا حل یہ ممکن ہے کہ حکومت فوج کے ساتھ مل کر اپنی حکمت عملی اور رویے سے نئے فوجی آپریشن کے امکانات کے علاوہ سیاسی انتقام کی صورت حال تبدیل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
یوم آزادی پر سول اور فوجی قیادت کی تقریروں میں ایسے ارادوں کی گونج تو موجود ہے لیکن اختلاف رائے کو عمومی طور سے ڈیجیٹل دہشت گردی اور قومی اتحاد کو یک طرفہ طورسے ’عزم استحکام ‘ کا نام دے کر معاملہ فہمی، اتفاق رائے اور باہمی احترام کا ماحول پیدا کرنے کی بجائے تصادم، انتشار و افتراق کی صورت حال نمایاں ہوسکتی ہے۔ خاص طور سے بلوچستان میں بنیادی حقوق کی جد وجہد کو قومی و صوبائی یک جہتی پر حملہ اور تحریک انصاف کے سیاسی و جمہوری حقوق کے مطالبہ کو فساد اور انتشار پیدا کرنے کا نام دے کر قومی یک جہتی کے وسیع مقصد کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ حالانکہ اس حوالے سے تقریروں میں نعرے بلند کرنے کی بجائے مفاہمانہ طریقے سے ایک دوسرے سے قرب پیدا کرنے سے یہ مقصد حاصل کرنا آسان ہوتا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے یوم آزادی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنے اور حکومتی پالیسیوں کو مفاد عامہ اور عام شہریوں کی ضرورتوں پر استوار کرنے کا عزم ظاہرکیا ہے۔ صدر آصف زرداری نے قومی اتحاد کے لیے مل جل کام کرنے کی بات کی ہے۔ اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کاکول کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اختلاف رائے یا آزادی اظہار کو آئینی حق مانا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ڈیجیٹل دہشت گردی، فتنہ الخوارج اور بلوچ یک جہتی کمیٹی کو صوبے میں امن و امان کی دشمن قرار دے کر ان اعلی اہداف کے حصول کے بارے میں متعدد سوال بھی پیدا کیے ہیں۔
سب جانتے ہیں کہ پاکستان کی موجودہ صورت حال مثالی نہیں ہے اور ہر شعبہ زندگی میں مسائل کا انبار حل طلب ہے۔ بعض مسائل کے بارے میں رائے عامہ کو قائل کرنا بھی مشکل ہے کیوں کہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ کی مخالف جماعتیں مسلسل ان معاملات پر عوام میں ایک خاص رائے استوار کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ اس حوالے سے خاص طور سے حال ہی میں جماعت اسلامی کے دھرنے کا حوالہ دیا جاسکتا ہے جو بجلی کی قیمتوں میں کمی کے نام پر سیاست کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ تو واضح ہے کہ جماعت اسلامی کے لیڈروں سمیت دیگر سیاسی لیڈر بھی مسئلہ کی سنگینی سے آگاہ ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ حکومت کے پاس وسائل محدود اور فوری ریلیف دینے کا موقع نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے باوجود دھرنا اور احتجاج کا مقصد محض سیاسی پوائینٹ اسکورنگ ہے اور یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش ہے کہ اگرچہ جماعت اسلامی کو ووٹ نہیں ملتے لیکن صرف وہی عوامی مسائل پر بات کرسکتی ہے۔ حالانکہ جماعت اسلامی سمیت بجلی کے نرخوں کے حوالے سے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانے والی تمام سیاسی قوتوں کو متبادل حکمت عملی سامنے لانی چاہئے۔ ایسا کوئی نقشہ عوام کے سامنے رکھا جائے جس میں واضح ہو کہ کیسے آئی ایم ایف کو راضی کرکے اور ملکی معاشی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے کوئی بھی حکومت عوام کو سستی بجلی فراہم کرسکتی ہے۔ لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ ملک میں اس مسئلہ پر بھی دیگر پہلوؤں کی طرح الزامات اور نعروں کی سیاست کی جاتی ہے جس کا کوئی مفید نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔
البتہ جب ملک کا وزیر اعظم بھی اپنی پرجوش تقریروں میں ویسی ہی نعرے بازی شروع کردے جو مخالف سیاسی قوتیں اختیار کیے ہوئے ہیں تو ایک طرف عوام مالی مشکلات کے بوجھ میں دبے ہوئے ہیں لیکن اس پر مستزاد انہیں جھوٹے نعروں اور وعدوں کا فریب بھی سہناپڑتا ہے۔ جب وزیر اعظم بجلی کے نرخوں کے بارے میں ناقابل عمل وعدے کریں گے اور چند ہفتے یا ماہ بعد متضاد فیصلے کرتے ہوئے مخالفین پر الزام تراشی کا کوئی نیا بہانہ تلاش کریں گے تو اس سے ملک میں افہام و تفہیم اور پریشان خیالی کی موجودہ صورت حال ختم نہیں ہوگی بلکہ اس میں اضافہ ہوگا۔ شہباز شریف اور ان کی حکومت کے ہر فرد کو جاننا چاہئے کہ ملک میں جس اتفاق رائے اور یک جہتی کی بات کی جارہی ہے، اس کے لیے سیاسی دیانت داری اولین شرط ہے۔ اگر حکومت بھی سیاسی کرتب دکھانے کی کوشش کرے گی اور اپوزیشن کے الزامات کا جواب دلیل اور حکمت عملی کی بجائے نعروں اور جوابی الزامات سے دے دیا جائے گا تو سیاسی قوتوں میں بھی فاصلے بڑھیں گے اور عوام کے ساتھ اعتماد کا رشتہ بھی مجروح ہوگا۔ یہی سبق اپوزیشن جماعتوں کو بھی سیکھنا چاہئے۔ خاص طور سے تحریک انصاف کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس کا مقدمہ سیاسی حقوق کے حوالے سے ہے۔ وہ اس بارے میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے ملکی معاشی صورت حال کے حوالے سے جعلی اور بودے وعدے کرنے سے گریز کرے۔ حالات کی ایک کروٹ سے ا قتدار پر قابض موجودہ سیاسی جماعتوں کی بجائے اس وقت اپوزیشن میں بیٹھی کوئی جماعت حکومت بنا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں وہ عوام سے کیے گئے جھوٹے وعدوں کا کیا جواب دے گی؟
یوم آزادی پر صدر مملکت، وزیر اعظم اور آرمی چیف کے بیانات اور تقریروں میں قومی اتحاد کے معاملہ کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے لیکن اتحاد پیدا کرنےکے لیے اختلاف کم کرنا پڑتا ہے ۔ البتہ دیکھاجاسکتا ہے کہ اس موقع پر اختلافات ختم کرنے کی کوئی دانستہ کوشش نہیں کی گئی بلکہ نادانستگی میں ایسے باتیں کی جارہی ہیں جو مایوس اور پریشان خیال گروہوں کو مزید مایوس کرتی ہیں۔ ایسے میں یا تو واضح کیاجائے کہ حکومت اور آرمی چیف کے نزدیک ’قومی اتحاد و ہم آہنگی‘ کس چیز کا نام ہے۔ کیا اس سے یہ مراد لی جارہی ہے کہ فوج کی سربراہی میں ملک پر مسلط کیے گئے ایک خاص طرز عمل کو قبول کرلیا جائے اور بنیادی حقوق سمیت سیاسی حق کی بات کرنا بند کردیا جائے؟ آرمی چیف نے چونکہ یوم آزادی سے ایک روز پہلے کاکول میں تقریر کرتے ہوئے اپنے خیالات واضح کیے تھے، اس لیے یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ہوبہو وہی باتیں کرنا ضروری سمجھا۔ اس سے یہ تو پتہ چلتا ہے کہ موجودہ حکومت عسکری قیادت کی ہر بات ماننے پر آمادہ ہے اور اسی طرح آرمی چیف موجودہ وزیر اعظم کی سربراہی میں قائم حکومت سے مطمئن ہیں لیکن ان دونوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس طریقہ سے قومی مقاصد کیسے حاصل کیے جاسکیں گے۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر دونوں ہی بخوبی جانتے ہیں کہ اس وقت صرف داخلی انتشار اور اختلاف کی وجہ سے ہی پریشانی لاحق نہیں ہے بلکہ اس تنازعہ کی وجہ سے دوست ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ اسی لیے معیشت کا پہیہ جام ہے اور کوئی کارگر اور مؤثر معاشی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آتی۔ ایسے میں حکومت کی یہ پالیسی تو دکھائی دیتی ہے کہ جبر اور ریاستی ہتھکنڈوں کے ذریعے مخالفین کو ہراساں کرکے بظاہر کوئی ’پر امن‘ ماحول پیدا کیا جائے تاکہ دوست ممالک کو یقین دلایا جاسکے کہ ان کی سرمایہ کاری محفوظ رہے گی اور ملک میں سیاسی تبدیلی یابحران کا کوئی امکان نہیں ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ پالیسی نہ تو ملک کے آئینی جمہوری اصولوں سے مطابقت رکھتی ہے اور نہ ہی اس سے پائیدار امن قائم ہونے کا امکان دکھائی دیتا ہے۔ اس کی بجائے بے یقینی اور افراتفری میں اضافہ ہورہا ہے۔ ملک کی سیاسی و عسکری قیادت جس قدر جلد یہ حقیقت مان لے، ملک و قوم کے لیے اتنا بہتر ہوگا۔
کاکول میں آرمی چیف کی ’پالیسی‘ تقریر کو پیش نظر رکھا جائے تو تین مسائل سامنے آتے ہیں۔ ڈیجیٹل دہشت گردی، تحریک طالبان پاکستان کی دہشت گردی جسے اب فتنہ الخوارج کا نام دیا گیا ہے اور بلوچستان کی صورت حال جہاں بلوچ یکجہتی کمیٹی بنیادی حقوق اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج کررہی ہے۔ آرمی چیف قومی یک جہتی کی بات تو کرتے ہیں اور اختلاف رائے کا آئینی حق بھی تسلیم کرتے ہیں لیکن وہ اظہار رائے کی بعض ’آئینی حدود‘ کا ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں جنہیں مان لینے سے نہ تو کوئی سیاسی و سماجی مسائل پر رائے ظاہر کرسکتا ہے اور نہ ہی کوئی پارٹی یا تنظیم کسی قسم کا احتجاج منظم کرسکے گی۔ اس مشکل کا حل ملک کی سیاسی حکومت نکال سکتی تھی۔ اسے سیاسی قوت کے طور پرعوام کے وسیع گروہوں میں پائی جانے والی بے چینی کا بخوبی اندازہ ہونا چاہئے تھا۔ لیکن موجودہ حالات میں شہباز شریف اس وقت اپنی حکومت کو استحکام دینے کے لیے عوام سے زیادہ فوج کی طاقت پر بھروسہ کررہے ہیں۔ اسی لیے مسائل پیچیدہ اور مشکل ہوتے جارہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر فوج دشمن جھوٹ پھیلانے کے معاملہ پر حکومت کو ٹھوس حکمت عملی بنانی چاہئے لیکن اس کی بجائے فوج کی پریشانی سے استفادہ کرتے ہوئے ملک میں اظہار پر پابندیاں لگانے کے نت نئے ہتھکنڈے تلاش کیے جارہے ہیں۔ اسی لیے ڈیجیٹل دہشت گردی کو پسندیدہ اصطلاح کے طور پر اپنایا جارہا ہے۔ حالانکہ اس طرح اختلاف کرنے والوں کو مین اسٹریم سے کاٹ کر مسئلہ کو شدید کیا جائے گا۔ اسی طرح حکومت کو ہی بلوچ یک جہتی کمیٹی کے حوالے سے فوج کی پریشانی کم کرنی چاہئے اور عسکری قیادت کو بتانا چاہئے کہ بنیادی حقوق کا مطالبہ انتشار کی دعوت یا فوج پر حملہ نہیں ہے بلکہ یہ کسی بھی گروہ کا آئینی حق ہے۔ اس دونوں مقاصد کے لیے کنٹرول و جبر کے ریاستی ہتھکنڈے اختیار کرنےکی بجائے درگزر و مفاہمت کی حکمت عملی بنائی جائے ۔اور قانون شکنی کے معاملات دیکھنے کا کام عدالتوں پر چھوڑ دیا جائے۔
ملک میں اگر اختلاف رائے کو ملک دشمنی قرار دے کر پابندیاں لگانے کا سلسلہ جاری رہے گا اور یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے عدالتوں کو کنٹرول کرنے کے نت نئے طریقے ڈھونڈے جائیں گے تو اعتماد اور بھروسہ کا وہ ماحول پیدا نہیں ہوسکے گا جس کی اس وقت پاکستان کو شدید ضرورت ہے۔