صفائی کا عملہ نکال کر حکومتی بچت کا عالیشان منصوبہ

وزیر اعظم شہبازشریف نے حکومتی مصارف کم کرنے کے لیے پانچ وزارتیں اور  28 محکمے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔  اس کے  علاوہ   وزیر اعظم نے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک نئی 7 رکنی کمیٹی بنانے کا حکم بھی دیا ہے۔   نئی اعلیٰ سطحی کمیٹی   خود انحصاری بڑھانے کے  منصوبہ پر کام کرے  گی۔  اس کا دلچسپ پہلو البتہ یہ ہے کہ  یہ  کمیٹی  قائم کرنے کا  فیصلہ ایک غیر ملکی معیشت دان پروفیسر اسٹیفن ڈرکن   کے مشورے پر کیا گیا ہے۔

گویا ملک کی حکومت   یہ جاننے  کے لیے بھی ’غیر ملکی ماہرین‘ کے مشوروں کی محتاج ہے کہ پاکستان کی حکومت اور ادارے مختلف شعبوں میں کیسے مقامی صلاحیتوں اور وسائل پر بھروسہ کرکے کام کرسکتے ہیں۔  ان حکومتی اعلانات سے ہی جانا جاسکتا ہے کہ  پاکستان کے معاشی مسائل اندھوں کے ہاتھ لگے ہوئے ہاتھی کی مانند ہے۔ یعنی جس شخص کا ہاتھ ہاتھی کے جسم کے جس حصے پر پڑتا ہے وہ  اس عجوبے کو ویسا ہی قرار دینے کا دعویٰ کرتا ہے۔ یہ صورت حال  ملکی معیشت کو راہ راست پر لانے کے مقصد سے خوش آئیند نہیں ہوسکتی۔

حکومت ایک کے بعد دوسری کمیٹی یا ٹاسک فورس بنانے کا اعلان کرتی ہے۔ یا وزیر اعظم سے منسوب یہ ’احکامات‘ رپورٹ کیے جاتے ہیں کہ ’اس معاملہ کی نگرانی میں بذات خود کروں گا‘۔ ایسے میں کلیدی سوال تو یہ ہے کہ اگر سارے کام کرنے کی اہلیت صرف شہباز شریف میں ہی ہے تو کابینہ کی صورت میں  سفید ہاتھی پالنے اور کمیٹیوں اور ٹاسک فورسز کے نام سے لوگوں کو جمع کرکے   معاشی اصلاح کا کام کرنے کی  کیاضرورت ہے۔  یہ بیانات اور اقدامات درحقیقت ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔ ان سے صرف حکومت کی بدحواسی اور پریشان خیالی کا پتہ چلتا ہے ۔ کمیٹیاں بنانے اور وزیر اعظم کی براہ راست نگرانی کے اعلانات کا ایک ہی مقصد دکھائی دیتا ہے کہ  عوام تک یہ پیغام پہنچایا جائے کہ حکومت معیشت کے بارے میں بہت سنجیدہ ہے اور   وزیر اعظم اصلاح احوال کے لیے پوری تندہی سے کام کررہا ہے۔ البتہ معیشت کا بنیادی اصول ہی یہ ہے کہ جب تک اہداف کا تعین کرکے انہیں حاصل کرنے کے لیے مناسب ماحول پیدا نہ کیا جائے تو معاشی بگاڑ ٹھیک نہیں ہوتا۔ بدقسمتی تو یہ  ہے کہ ملکی معیشت  درست کرنے کا کام انہیں ہاتھوں میں دے دیا گیا ہے جو موجودہ مسائل پیدا کرنے کا سبب بنے تھے۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت اسحاق ڈار کو معاشی نابغہ سمجھتی ہے لیکن ان کی واحد صلاحیت نواز شریف کے ساتھ رشتہ داری اور وفاداری ہے۔ وفاداری کی توصیف ضرور کرنی چاہئے لیکن اس کے لیے ملکی خزانے  کو داؤ پر لگانے کا طریقہ درست  نہیں ہے۔ ایسے طریقوں سے تو خود حکمران خاندان کی اپنی صلاحیت اور قابلیت کا پول کھلتا ہے۔ نئی کمیٹی کی صدارت کے لیے ایک غیر ملکی ماہر معیشت کے مشورے حاصل کرنے کے علاوہ اسحاق ڈار کو سربراہی کے لیے چنا گیا ہے۔  کمیٹی کے اراکین میں وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطا تارڑ، وزیر مملکت ریونیو و توانائی علی پرویز ملک شامل کیے گئے ہیں۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ اس کمیٹی میں وزیر خزانہ  یا وزیر منصوبہ بندی کے سوا کوئی وزیر کسی قسم کا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے لیکن سرکار کے سر پر ایک نئے ہاتھی کا بوجھ لاد دیا گیا ہے۔  یہ بھی قابل غور نکتہ ہونا چاہئے کہ  یہ بھاری بھر  کم کمیٹی  جس کے تعاون کے لیے غیر ملکی ماہرین کی خدمات بھی دستیاب ہوں گی، مفت میں کام نہیں کرے گی۔ اگر  یہ اعلان  کر بھی دیا جائے کہ اس کے ارکان مفت کام کریں گے تو بھی غیر ملکی ماہرین اپنے مشوروں کا معاوضہ ڈالروں میں وصول کریں گے اور کمیٹی کا سیکرٹریٹ چلانے اور معزز ارکان کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے مصارف اس کے علاوہ ہوں گے۔

اسحاق ڈار   وزیر خارجہ کے علاوہ اس    وقت نائب وزیر  اعظم کے عہدے پر بھی   فائز ہیں حالانکہ  ایسے عہدے کی کوئی روایت یا آئینی ہدایت موجود نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں آصف زرداری نے  مسلم لیگ (ق) کو راضی رکھنے کے لیے پرویز الہی کو ڈپٹی پرائم منسٹر بنایا تھا۔ اس  کے علاوہ کبھی کوئی اس عہدہ جلیلہ پر فائز نہیں رہا کیوں کہ ٹائٹل کے سوا اس عہدے کی کوئی اہمیت و حیثیت نہیں ہے۔  البتہ اسحاق ڈار کو چونکہ وزارت خزانہ نہیں دی جاسکی تھی، اس لیے پہلے وزیر  خارجہ بنا کر ان کی اشک شوئی کی گئی پھر نائب وزیر اعظم بنا کر ان کی شان و شوکت میں اضافہ کیا گیا۔ نواز شریف  جو اپنی سیاسی پوزیشن کھو دینے کے بعد  پنجاب میں اپنی صاحبزادی کی وزارت اعلیٰ کے درپردہ خود کو  منظر نامہ پر  قائم رکھنا چاہتے ہیں اور عوام کی  مالی پریشانی اور بجلی بلوں میں اضافے یا رعایت کے حوالے سے بیانات دے کر  سیاسی تصویر کا حصہ بنے رہنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں بھی اسلام آباد میں اپنے بھائی  کے غیرذمہ دارانہ اقدامات سے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی ۔ شاید اسی لیے شہباز شریف بھی بھائی کو راضی رکھنے یا ان کا یہ  احسان  مانتے ہوئے کہ انہوں نے  ایک بار پھر وزیر اعظم بننے کی ضد چھوڑ کر  چھوٹے بھائی کو اس عہدے پر دوبارہ متمکن ہونے کا موقع د یاتھا ، اسحاق ڈار جیسے شخص کو  نت نیا عہدہ دے کر  بڑے بھائی کے اطمینان کا اہتمام کرتے  ہیں۔ البتہ جب تک اسحاق ڈار جیسے پٹے ہوئے  اور ناکام مہرے ’کارآمد‘ سمجھے جاتے رہیں گے، شہباز  شریف کی حکومت سے کسی معاشی معجزے کی امید عبث ہوگی۔

اسحاق ڈار  نے نواز شریف کے دور حکومت میں ڈالر  کی شرح مبادلہ کنٹرول کرنے اور تجارتی فروغ کے نام پر جو اقدامات کیے تھے، ان ہی کی وجہ سے بعد میں ادائیگیوں کے توازن کا سنگین  مسئلہ پیدا ہؤا جس سے  موجودہ حکومت بھی اب تک نمٹنے کی کوشش میں لگی رہتی ہے ۔ اس کے بعد عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے بعد  شہباز شریف نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا تو مفتاح اسماعیل کو وزارت خزانہ کا عہدہ دیا  گیاتھا۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے اس تاجر و ماہر معیشت نے کسی حد تک ملکی مالی پالیسیاں درست کرنے کی کوشش کی ۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ شکنی کے ذریعے جو بگاڑ پیدا کیا تھا، اس کی اصلاح  کےلیے  عالمی ادارے کے ساتھ کامیاب مذاکرات بھی  کیے۔   اس کے باوجود لندن میں بیٹھے ہوئے نواز شریف کی تسلی نہیں ہوئی اور انہوں نے مفتاح اسماعیل کو استعفی  دینے پر مجبور کیا اور لندن میں خود  اختیار کردہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ بنوادیا۔ شبہاز شریف یا مسلم لیگ (ن) کو اگرچہ محض 16 ماہ کی مدت کے لیے حکومت ملی تھی لیکن اس کے باوجود   پارٹی کے اندرونی سیاسی جوڑ توڑ سے  جان چھڑا کر خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر فیصلے کرنے کا چلن اختیار نہیں کیا جاسکا۔

سابقہ حکومت میں یہ عہدہ ملنے کے بعد  اسحاق  ڈار  ’ڈالر کو لگام ڈالنے‘ کا دعویٰ کرتے ہوئے پاکستان لوٹے لیکن ملکی معاشی حالات دگرگوں ہوچکے تھے اور  ابتر معاشی حالات میں  ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت بڑھانا ممکن نہیں تھا۔ اس کے باوجود اسحاق ڈار نے ان دعوؤں کے ساتھ اپناعہدہ سنبھالا کہ ’مجھے عالمی اداروں کے ساتھ کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے ، میں آئی ایم ایف کو دیکھ لوں گا‘۔  اس کے بعد آئی ایم ایف کو کیسے راضی کیا گیا ، اس کی کہانی شہباز شریف کو ازبر ہونی چاہئے۔   آئی ایم ایف کے ساتھ  کام  میں رکاوٹیں ڈالنے ہی کی وجہ سے  موجودہ حکومت میں اسحاق ڈار کو وزارت خزانہ نہیں دی جاسکی۔ تاکہ نئے مالی معاہدے کے سلسلے میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو اور ملکی معیشت بحال کرنے کا منصوبہ شروع ہوسکے۔

اب  نئی کمیٹی بنا کر، وزیر خزانہ  محمد اورنگ زیب کو ان  کی سربراہی میں کام کرنے پر مجبور کیا گیا ہے گویا اسحاق ڈار کی انا کو تسکین پہنچائی گئی ہے۔ حالانکہ  جو حکومت   ’خود انحصاری ‘ کی الف بے سے ہی ناآشنا ہو، اسے کوئی کمیٹی کیسے راہ راست پر لاسکتی ہے۔  اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نے خود کو مزید معتبر بنانے کے لیے  حکومتی مصارف میں کمی کرنے کا ’انقلاب آفرین‘ منصوبہ منظور کیا ہے۔ وزارتیں اور محکمے ختم کرنے کے علاوہ  ڈیڑھ لاکھ سرکاری آسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ ہؤا ہے۔ البتہ سننے پڑھنے والا پریشان ہوگا کہ   دفاتر میں کام کرنے والوں میں یہ کمی   صفائی کے عملے اور چوکیداروں کو ہٹا کر پوری کی جائے گی۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دفاتر  کے ’صاحبوں‘ کو صفائی کا اضافی کام دیا جائے گا بلکہ  بچت منصوبے کے تحت یہ کام ملازم رکھ کر کروانے کی بجائے ’آؤٹ سورس‘ کیا جائے گا۔  کمپنیوں کے ذریعے کام کروانے  سے حکومتی اخراجات کم ہونے کی بجائے بڑھ جائیں گے اور یہ معمولی کام کرنے والے ہزاروں لوگ کم تر  معاوضے اور سہولتوں  پر کام کرنے پر مجبور ہوں گے ۔البتہ کمپنیوں کے مالکان کے بنک اکاؤنٹ سرکاری وسائل سے بھرنے  لگیں گے۔

اس اہم فیصلہ میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ چوکیدار اور صفائی کا عملہ  ہٹانے کا فیصلہ ضرور کیا گیا ہے  لیکن نائب قاصد یا  سابق چپراسی کا عہدہ بدستور موجود رہے گا  تاکہ افسروں اور دیگر عملہ کی دیکھ بھال اور خدمت گزاری کاکام ہوتا رہے۔ حالانکہ دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں دفاتر میں چپراسی نام کا کوئی عہدہ موجود نہیں ہے۔ یہ کام متعلہ افسر یا دیگر عہدیدار خود انجام دیتے ہیں۔ یعنی  صاحب،  دفتر کا دروازہ خود کھول لیتاہے یا کسی کو کوئی پیغام دینا ہو تو وہ خود ہی متعلقہ شخص کے پاس جاکر بات کرلیتا ہے ۔ اسی طرح کافی یا چائے کی طلب ہو تو خود کار مشین کا بٹن دباکر  ’خود انحصاری‘ کی مثال قائم کرلیتا ہے۔

ملکی معیشت بہتر کرنے کے غم میں دبلا ہوتے  وزیر اعظم کو جاننا چاہئے کہ سرکار کا بوجھ کم کرنا ہے تو  کم تر گریڈ ز میں کام کرنے والے عملہ کو ستانے کی بجائے بیس یا اس سے اوپر گریڈ  کے ایسے افسروں سے جان چھڑائیں   جنہیں سیاسی ضرورتوں کے تحت بھرتی کیا گیا  ہے۔ یا پھر 17   اور اس سے اوپر  کے گریڈ میں کام کرنے والے تمام انتظامی  افسروں کی  حفاظت، خدمت اور ٹرانسپورٹ پر اٹھنے والے  اخراجات ختم کیے جائیں۔ البتہ یہ قدم اٹھانے کے لیے جس حوصلے کی ضرورت ہے موجودہ حکومت اس سے  محروم ہے۔