سوچ سمجھ کر سوچیں
- تحریر یاسر پیرزادہ
- اتوار 18 / اگست / 2024
صبح صبح ایک انگریزی اخبار میں مضمون نظر سے گزرا، عنوان تھا ’ہمیں کس طرح نہیں سوچنا چاہیے‘۔ اِس قسم کے موضوعات سے مجھے خاصی دلچسپی ہے اِس لیے فوراً ’کلک‘ کر دیا اور پڑھتا چلا گیا۔
مضمون نگار کا نام اسد میاں ہے، آغا خان یونیورسٹی میں ہوتے ہیں اور مضمون کے مندرجات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُن کا تعلق طب کے شعبے سے ہے۔ اپنے مضمون میں انہوں نے نہایت صراحت کے ساتھ بتایا ہے کہ ہمیں فیصلہ سازی کے دوران کن باتوں کو نظر انداز کر کے اپنی سوچ کو درست سمت میں رکھنا چاہیے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں حکومتیں اور عوام دونوں جذبات کے زیر اثر فیصلے کرتے ہیں، اگر کوئی شخص عقل و شعور کی بات کرے تو خوشگوار حیرت ہوتی ہے۔ بچوں کی شادی کے معاملات ہوں یا کاروباری مسائل، حکمرانی کی پیچیدگیاں ہوں یا زندگی کا کوئی فیصلہ کُن موڑ، اِن تمام مراحل پر فیصلہ کرتے وقت ہماری سوچ پر کچھ عوامل غیر محسوس طریقے سے اثر انداز ہوتے ہیں جس کی بنا پر ہم درست فیصلہ نہیں کر پاتے اور یوں مستقبل میں اُس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑتا ہے۔ وہ عوامل کیا ہیں، اُن کا ادراک کیسے کیا جا سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے تعصبات سے جان چھڑا کر دستیاب حقائق کی بنیاد پر صحیح فیصلہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔ یہ تمام باتیں اسد میاں نے اپنے مضمون میں بیان کی ہیں، اور آج میں انہی کی تلخیص پیش کر رہا ہوں۔
فیصلہ سازی کے دوران ایک بڑی غلط فہمی اُس وقت جنم لیتی ہے جب ہم یہ فرض کرلیتے ہیں کہ ’چونکہ ہم نے یہ کیا اِس لیے یہ نتیجہ نکلا۔‘ مغالطہ اِس میں یہ ہے کہ ہم کسی مخصوص عمل اور اُس کے بعد پیش آنے والے حالات کو اُس عمل کا نتیجہ سمجھ لیتے ہیں جبکہ ضروری نہیں کہ دونوں کے درمیان سرے سے کوئی تعلق بھی ہو۔ اِس کی مثال یوں ہے کہ اگر کوئی مریض کسی دوا کے استعمال سے صحت یاب ہو جائے تو ہم سمجھ لیتے ہیں کہ دوا نے اثر کیا ہو گا۔ ممکن ہے کیا ہو، مگر ضروری نہیں، کیونکہ ہمارے جسم میں قدرتی طور پر مدافعاتی نظام بھی کام کرتا ہے لہذا عین ممکن ہے کہ دوا سے پہلے ہی وہ نظام حرکت میں آ چکا ہو اور صحت یابی کا عمل شروع ہو چکا ہو۔
ذاتی زندگی میں بھی اکثر ہمیں یہ مغالطہ ہوجاتا ہے جب ہم دو غیر متعلق عوامل کو آپس میں جوڑ کر کوئی نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جیسے کہ جب بھی میں نیلی قمیض پہن کر باہر نکلتا ہوں مجھے کوئی نہ کوئی جاننے والا مل جاتا ہے۔ اِس سے ملتا جلتا ایک مغالطہ اور بھی ہے جسے جواری کی غلط فہمی کہتے ہیں۔ تاش کی بازی لگاتے ہوئے جواری اکثر یہ سوچتا ہے کہ اگر اُس کے ہاتھ میں کافی دیر سے برے پتّے آرہے ہیں تو یہ ’بد قسمتی‘ مسلسل جاری نہیں رہ سکتی لہذا جلد ہی اچھے پتّے ملیں گے۔ مفروضہ اِس میں یہ ہے کہ گزشتہ واقعات کا اثر مستقبل پر ہوتا ہے حالانکہ ایسا نہیں، گو کہ Probability تھیوری کے مطابق کسی بھی جواری کو اچھے اور برے پتّے ملنے کے امکانات برابر ہوتے ہیں مگر ضروری نہیں کہ ففٹی ففٹی کا یہ تناسب ہر حال میں قائم رہے۔ اِن غلط فہمیوں سے جان چھڑانے کا طریقہ یہ ہے کہ فیصلہ کرتے وقت آپ کے پاس زیادہ سے زیادہ ٹھوس حقائق ہوں اور آپ محض ماضی کے اُن واقعات یا تجربات کو بنیاد نہ بنائیں جو کسی وجہ سے آپ کی یاد داشت میں رہ گئے کیونکہ ہمارے دماغ میں زیادہ تر وہ باتیں رہ جاتی ہیں جو ہیجان انگیز یا چونکا دینے والی ہوتی ہیں، اسی لیے ہم غیر ارادی طور پر انہیں زیادہ اہمیت دیتے ہیں جس کی وجہ سے فیصلہ کرنے میں غلطی ہوجاتی ہے۔
فیصلہ سازی کے عمل میں بہت سے لوگ یہ بھی سمجھ لیتے ہیں کہ انہیں ’سب پتا ہے اور وہ معاملات کو دوسروں سے بہتر جانتے ہیں‘۔ غیر منطقی قسم کا یہ اعتماد سرکاری افسران کا خاصہ ہے۔ اپنے مرتبے کی بنیاد پر وہ یہ فرض کرلیتے ہیں کہ کسی بھی شعبے میں اُن کی مہارت دوسروں سے بڑھ کر ہے، جبکہ حقیقت میں اُن کا علم محدود ہوتا ہے جس کی وجہ سے فیصلہ کرنے میں غلطی ہوتی ہے اور کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ حد سے زیادہ پُر اعتماد ڈاکٹروں کا بھی یہ مسئلہ ہے۔ اسی اعتماد کی وجہ سے بعض اوقات ڈاکٹر صاحبان مریض کے پیٹ میں قینچی بھول جاتے ہیں۔ ذاتی زندگی میں عام لوگ بھی اِس مغالطے کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ اپنے شعبے کے قابل افراد کسی ایسی جگہ سرمایہ کاری کرلیتے ہیں جس کے بارے میں انہیں درست معلومات نہیں ہوتیں۔ لیکن اپنے بارے میں چونکہ وہ ضرورت سے زیادہ پُر اعتماد ہوتے ہیں اِس لیے سمجھتے ہیں کہ انہیں دوسروں سے زیادہ علم ہے اور نتیجے میں نقصان اٹھاتے ہیں۔
یہی حال حکومتوں کا بھی ہے، اہم معاملات کا فیصلہ کرتے وقت حکمران یہ فرض کرلیتے ہیں کہ چونکہ وہ اپنی سیاسی مہارت کی بنیاد پر اقتدار میں آئے ہیں لہذا اُن سے زیادہ زیرک بھلا اور کون ہو سکتا ہے۔ یہی وہ حد سے زیادہ غیر عقلی اعتماد ہے جو غلط فیصلوں کا سبب بنتا ہے۔ اِس مسئلے کا حل اُس بات میں پوشیدہ ہے جو سقراط نے سینکڑوں سال پہلے کہی تھی کہ میں صرف یہ جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا۔ اگر ہم یہ تسلیم کر لیں کہ بہرحال ہم سقراط سے زیادہ دانشمند نہیں اور یہ کہ انسان کو مسلسل سیکھنے اور اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے تو پھر ہم غیر معقول قسم کے اعتماد سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔
ایک منٹ کے لیے فرض کریں کہ آپ کسی اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شریک ہیں اور وہاں کسی پیچیدہ مسئلے پر فیصلہ ہونا ہے، غالب امکان یہ ہے کہ اجلاس میں جو تجاویز پیش کی جائیں گی اُن میں سے وہ منظور کر لی جائے گی جو نسبتاً سادہ اور عام فہم ہو گی۔ اِس مغالطے کو Occam ’s Razor کہتے ہیں۔ یعنی دقیق اور الجھے ہوئے مسائل کے حل کے لیے لوگ عموماً سیدھی سادی تشریحات کو قبول کرلیتے ہیں چاہے وہ درست نہ بھی ہوں۔ گویا پیچیدہ معاملات کی پڑتال کرنے کی بجائے ہم آسان اور زیادہ قابل فہم حل تلاش کرنے کی جانب راغب ہوتے ہیں اور یوں غلط نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں۔ انسان ویسے بھی ذہنی طور پر جُز رس واقع ہوا ہے، کوئی بھی اپنے دماغ کو تھکانا نہیں چاہتا۔ ایک حد کے بعد ہمارا ذہن کسی بھی معاملے کی چھان پھٹک کرنے سے بیزار ہوجاتا ہے اور ہم سہل پسندی کا شکار ہو کر اُس حل کو قبول کرلیتے ہیں جو شاید بہترین نہ ہو مگر سب کی سمجھ میں آ جائے۔ اِس ذہنی کنجوسی کے ساتھ ہم کپڑوں کی خریداری بھی نہیں کرتے مگر زندگی کے اہم فیصلے کرلیتے ہیں جس کی وجہ سے تمام عمر پچھتانا پڑتا ہے۔
یہ تمام بحث ایک بنیادی بات کے گرد گھومتی ہے کہ کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت سب سے پہلے ہمیں اُس معاملے سے متعلق تمام حقائق اکٹھے کرنے چاہئیں اور ساتھ ہی یہ بھی سوچنا چاہیے کہ وہ کون سے پوشیدہ حقائق ہیں جو ہماری دسترس میں نہیں اور جنہیں ہم جان نہیں سکتے۔ اِس کے بعد خود کو عقل کُل سمجھنے کی بجائے، دستیاب حقائق کی پڑتال کر کے کسی نتیجے پر پہنچنا چاہیے ناکہ ماضی کے تجربات اور اپنے تعصبات کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔ ہماری قوم خاصی جذباتی ہے۔ لہذا جب کوئی شخص انہیں حقائق دکھاتا ہے تو وہ مایوس ہوجاتی ہے اور اسی کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ جاتی ہے۔ اسی لیے معاشرے میں وہ لوگ زیادہ ’کامیاب‘ ہیں جو پہلے سے موجود مقبول بیانیے کی ترویج کرتے ہیں چاہے اُس بیانیے کی کوئی عقلی بنیاد ہو یا نہ ہو۔ اسی بات میں شہرت ہے اور اسی میں پیسہ۔
کالم کی دُم: سید ضمیر جعفری نے ایک مرتبہ انگریزی کے کسی مشہور شاعر کی نظم ’مسز ولیم‘ کا ترجمہ کیا اور ساتھ ہی کہا کہ یہ نظم میری نہیں ہے مگر اب اُس شاعر کی بھی نہیں رہی۔ سو، قارئین، تھوڑے لکھے کو بہت جانیں۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)