سازشوں کے انکشافات اور افواہیں پھیلانےکا موسم
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 18 / اگست / 2024
ملک میں ایک دوسرے پر سازش کا الزام لگانے کا موسم عروج پر ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے بانی چئیرمین عمران خان نے لیفٹیننٹ (ر) جنرل فیض حمید کے ساتھ مل کر ملک میں انتشار اور بدامنی پھیلانے کی سازش کی تھی۔ جبکہ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ انہیں اقتدار سے محروم کرنے کی سازش کے لیے سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے نواز شریف کے کہنے پر فیض حمید کو آئی ایس آئی کی سربراہی سے ہٹایا تھا۔
آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور پشاور و بہاولپور میں کور کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دینے والے لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو گزشتہ دنوں پاک فوج نے حراست میں لے کر بدعنوانی اور آرمی ایکٹ کی غیر بیان شدہ خلاف ورزیوں پر کورٹ مارشل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ آئی ایس پی آر نے تو مختصر بیان میں فوج کے خود احتسابی نظام کو متحرک کرنے اور ایک اہم فوجی لیڈر کی گرفتاری کی خبر دی تھی لیکن اس کے بعد سے ملک بھر میں اس گرفتاری کے حوالے سے سوالات اور چہ میگوئیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ فیض حمید چونکہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں آئی ایس آئی کے سربراہ رہے تھے ، اس لیے عمران خان سے ان کے تعلق اور پی ٹی آئی کی حکومت قائم کروانے کے لیے ان کی درپردہ کوششوں کا ذکر بھی سامنے آیا ہے۔ ملک کے بزعم خویش باخبر اور ممتاز صحافی یا یو ٹیوبر دھڑا دھڑ ’اندر کی خبر‘ باہر کرنے کے کام میں لگے ہوئے ہیں جن میں پاکستان کو درپیش تمام برائیوں کی جڑ فیض حمید کو قرار دینے کی کوشش بھی ہورہی ہے۔
آئی ایس پی آر کے دوسرے اعلان میں فیض حمید کے کورٹ مارشل کے حوالے سے مزید چند افسروں کو گرفتار کرنے کی خبر بھی سامنے آئی تھی۔ تاہم ’باخبر‘ صحافی اس دوران میں درجنوں فوجی افسروں کی گرفتاری سے لے کر فیض حمید کے وسیع تر سیاسی نیٹ ورک کے قصے یوں بیان کررہے ہیں کہ جیسے یہ ساری منصوبہ بندی انہوں نے ہی کی تھی اور اب ایک کردار کی گرفتاری کے بعد سارے راز اگل دینے ہی میں قوم و ملک کا فائدہ ہوگا۔ کسی اہم فوجی شخصیت کی گرفتاری پر کسی بھی ملک میں ہلچل پیدا ہونا تو فطری ہے لیکن پاکستان میں اس خبر کے حوالے سے ایک سابق ذمہ دار افسر کی کردار کشی سے لے کر ملکی حالات کے بارے میں افواہ سازی کا ایک طویل سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ خبر کی دوڑ میں بازی لے جانے کے چکر میں کوئی سچ جاننے یا حقیقت تلاش کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا بلکہ اکثرتجزیہ نگار، اینکر اور یوٹیوبر ، خود کو معتبر ترین ثابت کرنے کی دوڑ میں ایسی باتیں کررہے ہیں جن سے یوں لگتا ہے کہ پاکستانی انتظام میں سرکاری عہدے داروں اور سیاست دانوں کو ہمہ وقت ایک دوسرے کے خلاف سازش کرنے یا ٹانگیں کھینچنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہے۔ کوئی یہ سوچنا یا جاننا نہیں چاہتا کہ ان نام نہاد انکشافات اور تجزیوں سے ملک و قوم کو پہنچنے والے نقصان یا عوام میں پیدا ہونے والی بے چینی کے کیا مضمرات ہوں گے۔
بدقسمتی سے اس دوڑ میں حکومتی ترجمان اور عمران خان سمیت تحریک انصاف کے لیڈر بھی شامل ہوچکے ہیں۔ حکومت اور تحریک انصاف فیض حمید کی گرفتاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایک دوسرے کو سازش کا سرغنہ قرار دینے میں بازی لے جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ عمران خان نے فیض حمید کی گرفتاری کے بعد اگرچہ اسے فوج کا اندرونی معاملہ قرار دے کر خود ایک طرف ہونے کا ایک ذمہ دارانہ اور خوشگوار فیصلہ کیاتھا لیکن اس کے بعد وہ خود ہی اس بیان کو بھول کر اب اس گرفتاری کے درپردہ سازش تلاش کرنے کے مشن پر گامزن ہوچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فیض حمید کو آئی ایس آئی کی سربراہی سے ہٹانا درحقیقت جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کی سازش تھی جو نواز شریف کے کہنے پر کی گئی تھی۔ عمران خان ان دونوں کو ایک نام نہاد لندن پلان کا حصہ بھی بتاتے ہیں جو ان کے بقول تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف منظم سازش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
سازشوں کی بات کرکے درحقیقت عمران خان ان الزامات کو قبول کرنے کا موجب بن رہے ہیں جو فیض حمید کے حوالے سے ان پر عائد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حالانکہ اس مباحثہ سے اپنا دامن بچا کر وہ اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرسکتے تھے۔ تاہم بوجوہ عمران خان ایسی خاموشی پر آمادہ نہیں ہیں۔ حالانکہ انہیں سمجھنا چاہئے کہ جس وقت فیض حمید کو پشاور کا کور کمانڈر بنایا گیا تھا ، اس وقت تحریک انصاف ہی اقتدار میں تھی۔ اگر آئی ایس آئی کو تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف استعمال کرنے کی نیت سے فیض حمید کو وہاں سے ہٹایا گیا تھا تو عمران خان کی طرف سے اسے سازش کہنے سے تو یہ واضح ہوگا کہ وہ خود فیض حمید کی قیادت میں آئی ایس آئی کو اپنی سیاسی کامیابیوں کے لیے استعمال کرتے تھے۔ یہ ایک سنگین الزام ہے جو پہلے سے حراست میں ہونے اور متعدد الزامات کا سامنا کرنے کی موجودہ صورت حال میں عمران خان کی قانونی پوزیشن کو مزید پیچیدہ کرسکتا ہے۔
اس کے علاوہ باجوہ ۔نواز گٹھ جوڑ کا حوالہ دیتے ہوئے عمران خان کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ نواز شریف تو اس وقت لندن میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے تاکہ پاکستان میں جیل جانے سے بچے رہیں۔ جبکہ تحریک انصاف کے پاس تمام اختیارات تھے تو کیا وجہ ہےکہ فوج کا سربراہ حکومت کے خلاف سازشوں کا حصہ بن گیا۔ سیاسی بازی گری اگرچہ فوجی اداروں کا محبوب مشغلہ رہا ہے لیکن اس کی کچھ وجوہات بھی توہوں گی جن کی وجہ سے فوج کو یہ کردار ادا کرنا پڑتا ہے یا اسے سیاسی فیصلے کروانے میں ملوث کیا جاتا ہے؟ عمران خان کو اگر بطور وزیر اعظم اپنے آرمی چیف کی سازشوں کا علم تھا تو انہوں نے اسے علیحدہ کرنے کا اقدام کیوں نہیں کیا بلکہ اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد بھی کیوں مسلسل ایوان صدر میں جنرل باجوہ سے ملاقاتیں کیں اور اقتدار میں واپسی کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ یہ کوششیں ان کے اس مؤقف کے عین مطابق ہیں کہ تحریک انصاف فوج سے براہ راست معاملات طے کرکے ملک میں ’جمہوریت‘ لانا چاہتی ہے یعنی خود اقتدار پر قابض ہونا چاہتی ہے۔ تحریک انصاف کا یہ ہتھکنڈا 2018 میں تو کامیاب ہوگیا لیکن عمران خان شاید اب تک نہیں سمجھ سکے کہ پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا ہے۔
عمران خان کو یہ بات بھی ذہن نشین کرنی چاہئے کہ جنرل باجوہ کو نواز شریف ہی نے نومبر 2016 میں آرمی چیف مقرر کیا تھا لیکن دو سال بعد ہونے والے انتخابات میں انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی بجائے تحریک انصاف کو اقتدار میں لانے کی ’سازش‘ کی اور عمران خان وزیر اعظم بن گئے ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ نواز شریف ایک بار پھر اسی آرمی چیف کے دھوکے میں آگئے جس کے زمانے میں انہیں اقتدار سے محروم ہونا پڑا اور متعدد مقدمات میں طویل عرصہ جیل میں رہ کر بالآخر جلاوطن ہونا پڑا۔ پھر جنوری 2020 میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے عمران خان نے بطور وزیر اعظم جنرل باجوہ کے عہدے میں توسیع کی۔ کیا وجہ ہے کہ عمران خان آرمی چیف کو عہدے کی مدت پوری ہونے پر ریٹائر ہونے کا مشورہ نہیں دے سکے۔ پھر اسی جنرل نے دو سال بعد اپریل 2022 میں ایک سازش کے ذریعے عمران خان یعنی اپنے ’محسن ‘کے خلاف عدم اعتماد کی قرار داد منظور کروائی اور انہیں اقتدار سے محروم کردیا۔ یہ طریقہ تو کسی سیریل قاتل کا طریقہ واردات لگتا ہے جو ماہرین کے مطابق ایک ہی طریقے سے جرم کا ارتکاب کرتا ہے ، اسی لیے پکڑا جاتا ہے۔ مگر ہمارے ’سادہ لوح ‘ سیاست دان بار بار میر تقی میر کے الفاظ میں ’اسی عطار کے لڑکے سے دوا لینے‘ پہنچ جاتے ہیں۔
سازشوں کا انکشاف کرتے ہوئے افواہ سازی کا طریقہ ملک میں جمہوریت کو تو مضبوط نہیں کرے گا لیکن اس سے ملک کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا اور جن عوام کی ہمدردی میں یہ ’انکشافات ‘کیے جاتے ہیں، ان کی زندی اجیرن بنتی رہے گی۔ عمران خان کا یہ دعویٰ دور کی کوڑی لانے جیسا ہےکہ حکومت پارلیمنٹ میں دوتہائی اکثریت حاصل کرنا چاہتی ہے تاکہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو توسیع دی جاسکے۔ لیکن وہ یہ انکشاف کرتے ہوئے کوئی ثبوت سامنے نہیں لاتے اور نہ ہی کبھی کوئی ذمہ داری قبول کریں گے۔
ایک طرف عمران خان اپنے خلاف سیاسی و عسکری سازش کے پیچیدہ قصے عام کررہے ہیں تو دوسری طرف وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ فیض حمید کی گرفتاری سے عمران کے سازشی گٹھ جوڑ کا راز کھل گیاہے۔ ’فیض حمید بھی ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے پی ٹی آئی کا سیاسی مہرا ثابت ہوا۔ قوم کو یہ اصلیت بھی معلوم ہو گئی کہ مرشد کا مؤکل فیض تھا۔ ’فیض‘ مرشد کا نہیں بلکہ ’فیض حمید‘کا تھا۔ فیض نیازی گٹھ جوڑ کے تانے بانے نیازی کے علاوہ بشریٰ سے بھی ملتے ہیں جو اس گٹھ جوڑ میں ایک مرکزی کردار تھی‘۔ آج اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور فیض حمید کے گٹھ جوڑ کے معاملات، مشرقی بارڈر کے پار پاکستان مخالف جذبات رکھنے والے صحافیوں سے پی ٹی آئی کے روابط اور مغربی بارڈر کے ذریعے فتنہ الخوارج کو واپس لانے کے فیصلے ملک دشمنی کی بدترین مثال ہیں‘۔
ایک گرفتاری پر ملک کے مقبول لیڈر کو ملک دشمن قرار دینے سے موجودہ حکومت مضبوط نہیں ہوگی بلکہ اس کا بودا پن اور کمزوری عیاں ہوتی ہے۔ عطا تارڑ کے الزامات لغو اور بے بنیاد ہیں ۔ ایسے بیانات سے ملک میں واقعی وہ فکری ہیجان اور پریشانی پیدا ہوتی ہے جس کا الزام حکومتی ترجمان عمران خان اور پی ٹی آئی پر عائد کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی طرح آج ہی کے دوران میں پہلے یہ خبر سامنے آئی کہ تحریک انصاف کے لیڈر رؤف حسن کا بھارتی صحافی کرن تھاپڑ سے رابطہ تھا۔ اس کے ساتھ ہی عطااللہ تارڑ کے علاوہ طلال چوہدری نے اسے دشمن ملک کے ساتھ رابطہ قرار دیتے ہوئے ، ان رابطوں میں بھارتی انٹیلی جنس ادارے ’را‘ کے ملوث ہونے کی بو بھی سونگھ لی۔ افسوس کی بات ہے کہ ہمسایہ ملک کے عالمی شہرت یافتہ مستند صحافی کو پاکستانی سیاسی کے گھناؤنے کھیل میں گھسیٹ کر صحافت اور خبر کی حرمت سے لوگوں کا اعتبار ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ غیر ملکی صحافیوں سے سیاسی لیڈروں کے رابطے کوئی عجیب یا انہونی بات نہیں ہے۔ یہ ’جرم‘ صرف رؤف حسن سے سرزد نہیں ہؤا بلکہ تقریباً تما م سیاسی لیڈر ایسی رابطہ کاری کرتے ہیں۔ اگر اس طریقے کو سازش اور ملک دشمنی کی دلیل بنایا گیا تو ملک میں حب الوطن تلاش کرنا مشکل ہوجائے گا۔
فیض حمید صرف گرفتار ہوئے ہیں۔ ان پر الزامات عائد ہوئے ہیں ، ابھی اس معاملہ پر کوئی فیصلہ جاری نہیں ہؤا۔ حکومت اور سب لیڈروں کو اس معاملہ پر بیان بازی کی بجائے صبر و تحمل سے اصل معلومات سامنے آنے کا انتظار کرنا چاہئے۔ اسی طرح سیاسی لیڈروں کے علاوہ فوج کے وقار میں اضافہ ہوسکے گا ورنہ ایک دوسرے پر اڑائی جانے والی دھول میں کسی کا چہرہ شفاف نہیں رہے گا۔