آڈیو لیک کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے معطل

  • سوموار 19 / اگست / 2024

سپریم کورٹ نے سابق خاتون اول بشریٰ بی بی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کے آڈیو لیکس کیس میں وفاقی حکومت کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو اختیارات سے تجاوز قرار دیتے ہوئے معطل کردیا۔ عدالت کو مزید کارروائی کرنے سے روک دیا ہے۔

واضح رہے کہ 29 مئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں بشری بی بی اور نجم الثاقب کی مبینہ آڈیو لیک کے خلاف درخواست پر ٹیلی کام کمپنیز کو سرویلینس کے لیے فون ریکارڈنگ اور صارفین کے ڈیٹا تک رسائی اور اس کے استعمال سے بھی روکنے کا حکم جاری کیا تھا۔ 25 جون کے حکم نامے میں قانون کے مطابق شہریوں کی کسی قسم کی بھی نگرانی غیر قانونی عمل قرار دی گئی تھی۔

حکومت کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 25 جون کے فیصلے کو چیلنج کرنے کی درخواست پر سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے آغاز پر جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ کیا ہائی کورٹ نے یہ تعین کیا ہے کہ آڈیو کون ریکارڈ کر رہا ہے؟ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ابھی تک یہ تعین نہیں ہوسکا، تفتیش جاری ہے۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ بدقسمتی سے اس ملک میں سچ تک کوئی نہیں پہنچنانا چاہتا، سچ جاننے کے لیے انکوائری کمیشن بنا۔ اسے سپریم کورٹ سے اسٹے دے دیا گیا، سپریم کورٹ میں آج تک دوبارہ آڈیو لیکس کیس مقرر ہی نہیں ہوا۔ پارلیمان نے سچ جاننے کی کوشش کی تو اسے بھی روک دیا گیا۔ نہ پارلیمان کو کام کرنے دیا جائے گا، نہ عدالت کو تو سچ کیسے سامنے آئے گا؟

جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے جن سے بات کی جا رہی ہو آڈیو انہوں نے لیک کی ہو، کیا اس پہلو کو دیکھا گیا ہے؟ آج کل تو ہر موبائل میں ریکارڈنگ سسٹم موجود ہے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے نجم ثاقب اور بشریٰ بی بی کو نوٹسز جاری کردیے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ آڈیو لیکس سے متعلق کیس کی کارروائی آگے نہیں بڑھا سکتی، اسلام آباد ہائیکورٹ کا 29 مئی اور 25 جون کا حکم اختیارات سے تجاوز ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے پاس از خود نوٹس لینے کا اختیار نہیں۔

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی درخواست پر آڈیو لیکس کیس کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔