ایک گرفتاری کے بعد کا منظر نامہ

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی گرفتاری اور  ان کے خلاف کورٹ مارشل کا اعلان  کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اسے فوج کے اندرونی نظام احتساب کی کارکردگی اور شفافیت قرار دیا ہے۔  یوں تو افسروں کے نام لیے بغیر کارروائی کرنے کے اعلانات  ہوتے ہیں لیکن فیض حمید کی گرفتاری کو خاص طور سے نمایاں کرکے فوج نے درحقیقت اپنے عوامی امیج کو بہتر کرنے کی کوشش  کی ہے۔

ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس ایک گرفتاری سے فوج  کے بارے میں پائے جانے والے منفی تاثرات زائل ہوجائیں گے اور پاک فوج بوجوہ عوام  سے جس پزیرائی کی توقع کرتی ہے، وہ اسے ملنے لگے گی؟ یہ ایک پیچیدہ سوال ہے۔ اس کا جواب دینا  سہل نہیں ہے۔ البتہ  اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان میں عام شہری   قومی خود مختاری کے تحفظ کے لیے پاک فوج کے کردار اور قربانیوں کو قابل تحسین سمجھتے ہیں۔ یوں بھی پاک فوج کے جوان اور افسر اسی قوم کے سپوت ہیں۔ وہ عام گھروں میں  پیدا ہوتے ہیں اور پھر قوم و ملک کے  لیے جان جیسی قیمتی شے کی قربانی کا جذبہ لے فوج میں بھرتی ہونے کی جد و جہد کرتے ہیں۔ جو نوجوان ا س مقصد میں کامیاب ہوجاتے ہیں، انہوں نے ملکی دفاع  کے معاملہ پر کبھی اہل وطن کو مایوس نہیں کیا۔

اس وقت بھی پاک فوج کے جوان اور افسر ملک میں اچانک ابھرنے والی دہشت گردی کی لہر سے جس طرح نبرد آزما ہورہے ہیں ، اس کی توصیف نہ کرنا احسان فراموشی ہوگی۔ روزانہ کی بنیاد پر پاک فوج کے دستے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہیں اور ان جھڑپوں میں خود بھی جام شہادت نوش کرتے ہیں اور دہشت گردوں کو ہلاک کرکے ان کا نیٹ ورک تباہ کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔  یہ عظیم خدمت قوم کو ان سفاک لوگوں کے وحشیانہ حملوں سے بچانے کے لیے انجام دی جارہی ہے اور قوم اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔  

البتہ دہشت گردی کے علاوہ  ماضی میں جنگوں کے آغاز  اور اس دوران ہونے والی سازشوں اور جوڑ توڑ کے معاملات  ایک علیحدہ باب ہیں جو اس وقت موضوع بحث نہیں ۔ البتہ اس پہلو کا حوالہ دینا اس لیے اہم ہے کہ فوج کی عوامی مقبولیت کے حوالے سے  ایسے فیصلوں نے بھی کردار ادا کیا ہے۔  خاص طور سے 1971 کے دوران ملک کے مشرقی حصے میں مسلط کی گئی جنگ ملکی تاریخ کا المناک باب ہے۔  اس وقت ملک پر ایک فوجی جنرل ہی کی حکمرانی تھی لہذا اس نے  اپنے سیاسی مقاصد کے لیے پاک افواج کے سپاہیوں اور افسروں کو اپنے ہی عوام کے خلاف استعمال کرنے کے  کا سنگین جرم کیا۔  فوجی کمان  کو اپنی حدود  اور صلاحیت کا علم  ہونا چاہئے تھا اور یہ جاننا چاہئے تھا  کہ  مشرقی حصے میں جنگ  کے لیے زمینی حالات، اسباب اور عسکری صلاحیتیں  دستیاب نہیں تھیں۔ اس کے علاوہ بھارت کی سرحدیں بنگلہ دیش کے ساتھ ملتی ہیں اور وہ   داخلی انتشار  کو خانہ جنگی میں  تبدیل کرنے والے عناصر کی کھل کر پشت پناہی کرے گا۔ فوجی قیادت نے جو اس وقت سیاسی معاملات کی نگران بھی تھی، اس پہلو سے صورت حال کا جائزہ نہیں لیا۔ عوام کی بے چینی سیاسی عوامل کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی لیکن اسے طاقت کے زور  سے  دبانے کی کوشش کی گئی  جو ناکام ہوگئی۔ اس سانحہ میں پاک فوج کے لیے یہ سبق پوشیدہ تھا کہ جنگ دشمن سے کی جاتی ہے، اپنے ہی لوگوں کے خلاف جنگ نہ تولڑی جاتی ہے اور نہ ہی جیتی جاسکتی ہے۔

اس وقت جنرل یحیی خان کے پاس سیاسی حل موجود تھا۔  شیخ مجیب کی قیادت میں عوامی لیگ مشرقی حصے سے کامیابی حاصل کرکے ملک میں اکثریت حاصل کرچکے تھے۔  اسمبلی کا اجلاس بلا کر اور سیاسی لیڈروں کو مسائل کی ذمہ داری دے کر  عوام کے ہجوم پر گولیاں برسانے اور انہیں دشمن کا ایجنٹ قرار دے کر ہلاک کرنے سے یہ اقدام بہتر اور مناسب تھا۔   ہوسکتا ہے کہ عوامی مقبولیت کے بھرم میں شیخ مجیب مغربی حصے کی سیاسی قوتوں کے ساتھ رابطہ کرنے اور کسی مناب سیاسی حل پر اتفاق نہ کرتا لیکن  اسمبلی کا اجلاس بلانے سے اسے بہر حال اسمبلی میں جانا پڑتا اور ایک منتخب ادارے کے فلور سے ہی کوئی سیاسی فیصلہ حاصل کرنا پڑتا۔ ہوسکتا ہے کہ اس افراتفری میں بھی ملک قائم نہ رہ سکتا اور  اس کے  دو حصے ہوجاتے لیکن پاکستان  کی تاریخ میں ایک نیا خوں ریز باب نہ لکھا جاتا۔ یہ نہ کہا جاتا کہ فوج نے پلٹن میدان میں بھارتی جنرل کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ تاریخ میں اگر یہ لکھا جاتا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے مسقبل میں دو علیحدہ  مملکتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو پاکستان کا  شمار ایک ذمہ دار، جمہوریت پسند اور روشن خیال  قوم کے طور پرہوتا۔  تاریخ کے اس  مرحلے پر قوام عالم کے لیے ایک روشن مثال قائم کی  جاسکتی تھی کہ ایک ملک کے لوگ جب زیادہ دیر ایک دوسرے کے ساتھ چلنے پر آمادہ نہیں ہوتے تو وہ دوستوں  کی طرح ہاتھ ملاکر جدا ہوجاتے ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے عوام کے درمیان اگر 1971  میں بہائے گئے خون کی لکیر موجود نہ ہوتی تو شاید یہ دونوں ملک اس وقت  حکمرانی کے بہتر انتظام سے استفادہ کررہے ہوتے۔ 

جب عوامی نمائیندے  علیحدگی یا خود مختاری کے کسی پروٹوکول پر دستخط کرکے اسے نافذ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو عوام کے بیچ ہم آہنگی اور احترام میں اضافہ ہوتا ہے ، دشمنی اور نفرت کا ماحول پیدا نہیں ہوتا۔ اسی طرح اسمبلی میں صرف شیخ مجیب کی عوامی لیگ موجود نہ ہوتی بلکہ دوسرے نمائیندے  بھی اپنا نقطہ نظر پیش کرسکتے تھے اور 6 نکات کے سیاسی ایجنڈے پر ہونے والی سیاسی و انتظامی  علیحدگی کے معاہدے میں کچھ ایسے پہلو شامل کروا سکتے تھے کہ  دونوں حصوں کے درمیان رشتہ ختم ہونے کے باوجود کوئی تعلق موجود رہے۔ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ ایسی صورت میں کسی قسم کی  کنفیڈریشن پر اتفاق  ہونا سہل ہوتا جس میں دونوں حصے خود مختار ہونے کے باوجود  ایک  اکائی رہتے۔  جن عناصر کو یہ انجام قبول نہیں تھا، وہ یقیناً پاکستان کی بہتری کی بجائے اپنے اقتدار و اختیار کا خواب دیکھ رہے تھے ۔ اسی لیے اہل پاکستان کو  سقوط ڈھاکہ کی صورت میں اپنے خوابوں کا شیرازہ  بکھرتا دیکھنا پڑا۔

ایسے فیصلے چند لوگوں کی غلطیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں لیکن اس کے نتائج پوری فوج اور قوم کو بھگتنا پڑتے ہیں۔  دسمبر 1971 کے سانحے سے یہی سبق ملتا ہے ۔ ایسے فیصلوں کا سب سے بڑا نقصان یہی ہوتا ہے کہ  عوام فوجی قیادت کی نیت اور ارادوں کے بارے میں شبہات کا شکار ہونے لگتی ہے۔ اس طرح  اعتماد و احترام کا وہ رشتہ متاثر ہوتا ہے جو ملک کا دفاع کرنے والے بیٹوں اور دھرتی کے لوگوں کے درمیان قائم رہنا بے حد ضروری ہے۔

فیض حمید کی گرفتاری کے حوالے سے  یہ ذکر اس لیے طویل ہوگیا کہ  فیض حمید بھی ایک ایسے ہی کردار کا نام ہے جس نے ملک پر غلط سیاسی فیصلے مسلط کرنے میں کردار ادا کیا اور پاکستان کو سیاسی تقسیم، تعصب  اور باہمی نفرت کے ایک سنگین گرداب کی طرف دھکیل دیا۔  لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ان کی گرفتاری اور اس کااعلان کرکے پاک فوج نے ان تمام غلطیوں کا اعتراف کرلیا ہے  جن کا ارتکاب فیض حمید   نام کے کردار نے کیا تھا۔

یہ تو آئی ایس پی آر کے اگلے بیان سے ہی واضح ہوگیا  کہ اس سلسلہ میں مزید افسروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔  اس کامطلب ہے کہ فوج  کا نظام احتساب بھی یہ جانتاہے کہ غلطیوں میں صرف فیض حمید ملوث نہیں تھا بلکہ یہ ایک پورے گروہ  کاکام ہے جس نے پاک فوج کو  بعض ایسے مقاصد کے لیے استعمال کیا جو قانونی نہیں تھے۔ شاید اسی لیے فیض حمید کی گرفتاری کو نمایاں کیا گیا ہے تاکہ عوام کو پیغام دیا جاسکے کہ ان کے مفاد کے خلاف سرگرم ہر  شخص کا قلع قمع کیا جائے گا خواہ وہ فوج ہی کے کسی عہدےپر کیوں فائز نہ ہو یا اس حیثیت میں کام کرتا رہا ہو۔  لیکن ا س کے ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ  ماضی کی غلطیوں کا حساب لینے کے لیے اس گرفتاری  سے  کیایہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ  فوج آئین کے خلاف کسی بھی کارروائی کو برداشت کرنے پر تیار نہیں ہے۔ اگر یہ پیغام دینا مطلوب ہے تو  یہ بے حد خوش آئیند ہے اور سیاسی ماحول میں تناؤ کے باوجود ملک میں آئین کی بالادستی کے لیے ایک  اچھی خبر ہے۔ 

لیکن بوجوہ  یہ  خوش گمانی ممکن نہیں ہے۔  اس کی کئی وجوہات ہیں:

 1) ملک میں دہشت کا ماحول ہے اور آزادی رائے پر شدید اور سنگین حملے کیے جارہے ہیں۔ رائے ظاہر کرنے پر نت نئی قدغن ہے ۔ لوگوں کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔

 2) سانحہ مشرقی پاکستان سے سبق سیکھ کر  بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کو بھائی سمجھنے کی بجائے انہیں دشمن قرار دیا گیا۔ اسے بھی لوگوں نے کسی حد تک قبول کرلیا لیکن ا س کے بعد بنیادی حقوق کا  مطالبہ کرنے والے غیر مسلح  گروہوں  کو غیرملکی ایجنڈے پر چلنے والے لوگ قرار دے کر   مطالبات  سننے سے انکار کیا گیا۔ لاپتہ افراد جیسے حساس اور سنگین مسئلہ کا کوئی مناسب اور پائیدار حل تلاش کرنے کی بجائے ، اسے مسلسل نظر انداز کرنے  کا سلسلہ جاری ہے۔

3)اختلاف رائے برداشت کرنے   کی روایت مسخ کی جارہی ہے۔ ہمہ قسم اختلاف کو قومی جرم کہا جارہا ہے اور رائے کی ترسیل روکنے کے اسباب ختم کرنے کی مہم شروع کی گئی  ہے۔ انٹرنیٹ کی سست روی اس سلسلہ کی تازہ ترین کڑی ہے۔ حالانکہ اس طریقے سے ملک کو شدید مالی نقصان ہونے کا امکان بھی ہے لیکن اس پالیسی میں تبدیلی کا کوئی اشارہ سامنے نہیں آیا۔

 4) مفاہمت کی بجائے  تصادم کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔ ایک پارٹی کو تمام جرائم کا قصور وار قرار دے کر بے یقینی و بے چینی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس وقت یوں لگتا ہے کہ جیسے تحریک انصاف کو حتمی انجام تک  پہنچانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے ۔ حالانکہ  تاریخ کا سبق ہے کہ سیاسی پارٹیاں جبر سے  نہیں بلکہ عوام کے سامنے  بے نقاب ہونے سے ناکام ہوتی ہیں۔ ریاستی جبر  سے تحریک انصاف   مظلوم بن کر عوام کی توجہ حاصل کرنے  میں کامیاب ہے۔

 5) فیض حمید کی گرفتاری جیسے تاریخ ساز فیصلہ کے باوجود   ملک میں دہشت اور خوف کاماحول قائم رکھنے سے یہ تاثر قومی ہورہا ہے کہ فیض حمید  نامی کردار کی گرفت نہیں کی گئی بلکہ چونکہ اس کردار نے  اپنے مقررہ رول سے گریز کیا تھا، اس لیے اسے  ادا کرنے والے کو نشان عبرت بنانے کا فیصلہ ہؤا ہے۔ کیا اسے احتساب کہا جاسکتا ہے؟

اسی تناظر میں ممتاز سیاسی کارکن، دانشور اور کالم نگار ارشد بٹ نے اپنے تازہ کالم  ’فیض حمید پروڈکشن فیکٹری بند کی جائے‘ میں دو اہم پہلوؤں کی  طرف اشارہ کیا ہے۔ اول) فیض حمید پر جو الزامات عائد کیے گئے ہیں ان میں بدعنوانی کے علاوہ عہدے سے علیحدہ ہونے کے بعد  آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی شامل ہے۔ حالانکہ ان کا اصل جرم تو عہدے پر فائز ہوتے ہوئے سیاسی انجینئرنگ سے متعلق ہے۔  دوئم) کیا اس کا مطلب ہے کہ فیض حمید کی گرفتاری کے بعد بھی کوئی ’فیض حمید‘ موجودہ سیاسی نظام کو اپنے طریقے سے چلانے   کے مشن پر گامزن ہے۔ اسی لیے انہوں نے وہ  مزاج  ختم کرنے کی بات کی ہے جس سے آئین شکنی ہوتی ہے اور عوامی امنگوں کا خون کیا جاتا ہے۔

ان دونوں سوالوں کا جواب سامنے آنے تک ملک میں اعتماد سازی کا ماحول پیدا ہونا ممکن نہیں ہوگا۔ کیا ملک کی قیادت میں  بھی ا س حوالے سے  کوئی تشویش موجود ہے؟